لبا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لبا (انگریزی: Colostrum)یا کولوسٹرم بچے کی ولادت کے بعد پستان مادر سے نکلنے والا پہلا دودھ ہوتا ہے، جس میں لحمیات کی بڑی تعداد اور ایسے اجزا ہوتے ہیں جو نوزائیدہ کو بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اسے پیوسی اور بوہلی بھی کہتے ہیں۔ چھاتی کا دودھ ایک خاص خاص دودھ ہے۔ پہلا دودھ پیدائش کے بعد ہی بہتا ہے ۔ یہ دودھ ، جو پیدائش کے فورًا بعد ہی تھوڑی مقدار میں ڈھل جاتا ہے ، بچے کے دودھ چوسنے کے بعد بڑھ جاتا ہے۔لبا کی یہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ 72 گھنٹوں کے اندر ہی آتا ہے اور اس کا رنگ قدرے زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ ماں کی طرف سے ہے پہلا دودھ بچے کو بیماریوں کے خلاف بہت اہم مادے پر مشتمل ہے۔ نوزائیدہ بچے کو لبا کے دودھ سے فوری طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے چھاتی کا دودھ پلانا جلد از جلد شروع ہونا چاہئے ، خاص طور پر پیدائش کے بعد پہلے 2 گھنٹوں کے اندر۔ دودھ کی پیداوار کے لئے دودھ پلانا اہم ہے اور اس کام میں دیر اس ابتدائی دودھ کے قدرتی فوائد کو زائل کر دے سکتی ہے۔[1] اس دودھ کی منجملہ اور خصوصیات یہ بات بھی شامل ہے کہ اس میں غذائیت کے ساتھ ساتھ اس میں امراض سے مقابلہ کر نے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ اس میں لحمیات کی وافر مقدار ہوتی ہے، اس کے علاوہ یہ جراثیم کش بھی ہوتا ہے۔یہ بچوں کے اندر قوت مناعت (زیزسٹنس) پیدا کرتا ہے۔ یہ دودھ ہاضمہ درست رکھتا ہے۔ جسمانی ساخت کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مختلف قسم کے انزائم، حیاتین اور مانع تعدیہ عوامل پائے جاتے ہیں۔ لبا یا کولسٹرم کی طرح عام دنوں میں بھی ماں کے دودھ میں کافی مفید، صحت بخش، غذائیت سے بھر پور چیزیں پائی جاتی ہیں، جیسے امیونو گلوبلنس اور اینٹی باڈیس پائے جاتے ہیں جو بچے کو ای کولی، روٹا وائرس اور پولیو وائرس سے محفوظ رکھتے ہیں.

مقامی خیالات کی وجہ سے اَن دیکھی[ترمیم]

پہلے دن ماں کا دودھ گاڑھا اور زردی مائل ہوتا ہے جس کی وجہ سے دیہی خواتین شبہے کا شکار ہوجاتی ہیں۔ بھارت میں سروے سے یہ بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر مائیں اس طرح دودھ نہ پلاکر اپنے بچوں کو لبا یا colostrum سے محروم رکھتی ہیں۔ اس طرح کی خوبی صرف ماں کے دودھ میں صرف 72 گھنٹے تک رہتا ہے۔ یہ معد ے اور آنتوں کے نظام کو درست کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ دودھ نہ پلانے والی ماؤں کو سینے کے کینسر کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ بچہ بھی مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ الرجی، ہاضمے کا قوی نہ ہونا، دانت اور جبڑے کا کمزور ہونا سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں کمی اور جسمانی نشو ونما میں بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔ترقی کے لاکھ دعوے کرنے کے باوجود بھی دنیا میں ہندوستان ایک تنہا ایسا ملک ہے جہاں ہر سال نومولود بچے کی پیدائش کی شرح اور شرح اموات کا تناسب زیادہ ہے۔قومی صحت خاندانی بہبود سروے 2005۔2006 کے مطابق ملک کے قریب 46فیصدبچے غذائی قلت میں مبتلا تھے۔ اتر پردیش میں اس اعدادوشمار تقریبا 46فیصد ہے۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ غذائی قلت میں مبتلا بچے مدھیہ پردیش میں ہیں۔اتر پردیش میں تقریبا 40 فیصد بچے معمول سے کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سال 0 سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں میں ہونے والی موت کے بنیادی وجوہات میں تقریبا 60 فیصد موت غذائی قلت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ غذائی قلت کا مسئلہ دیہی علاقوں و میں پسماندہ ذات کے لوگوں، اور ناخواندہ طبقے کے لوگوں میں زیادہ پر ہے۔ غذائی قلت کا مسئلہ حاملہ خواتین میں وسیع ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے کم وزن کے ہیں۔[2] ان بچوں کے لیے بھی کافی مفید ہے۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]