محمد اسحاق مدنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد اسحاق خان مدنی سے مغالطہ نہ کھائیں۔
محمد اسحاق مدنی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1935  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فیصل آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 اگست 2013 (77–78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
فیصل آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ عالم،  محقق،  واعظ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  فارسی،  عربی،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

مولانا محمد اسحاق مدنی (1935ء – 2013ء) پاکستان کے ایک معروف محقق عالم دین تھے۔

سوانح[ترمیم]

سنہ 1935ء میں فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے زمین دار منشی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج لائل پور سے ایف اے فرسٹ ڈویژن میں کیا۔ ریاضی کا اضافی مضمون پڑھا۔ اس کے بعد دین کی طرف مائل ہوئے اور دینی کتب کو سمجھنے کے لیے عربی، فارسی، اردو اور انگریزی پر عبور حاصل کیا۔ وہ والد کے ساتھ کھیتی باڑی میں ہاتھ بھی بٹاتے تھے جب فارغ ہوتے تو دینی کتب کا مطالعہ شروع کر دیتے تھے۔[1]

مولانا اسحاق اتحاد امت کے حامی اور داعی تھے۔ مختلف دینی مسائل پر وہ اپنے ایک منفرد پرجوش انداز سے کلام کرتے تھے۔ مولانا اسحاق پاکستان کے واحد محقق عالم دین تھے جو اہل روایت ہونے کے ساتھ ساتھ شاندار دانش بھی رکھتے تھے اور شریعت کے مختلف مسائل پر کلام کرتے وقت نہ صرف صحیح روایات پر استدلال قائم کرتے تھے بلکہ اس سلسلہ میں عقلی دلائل سے حاضرین کو قائل کیے بنا نتھے رہتے۔ مولانا اسحاق جذبات کے ساتھ ساتھ دلائل بھی قوی رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ انہیں شیعہ سنی سمیت تمام مکاتب فکر میں نمایاں مقام حاصل تھا اور لوگ ان کے خطابات بڑے انہماک سے سنتے تھے۔

مولانا اسحاق 21 شوال 1434ھ بمطابق 28 اگست 2013ء کو وفات پا گئے۔[1]

نظریات[ترمیم]

مولانا اسحاق اتحاد امت کے زبردست مبلغ تھے۔ وہ کسی مسلک کو بھی شدت سے رد نہیں کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ آپ احباب میں سبھی مسالک کے لوگ تھے۔ اسحاق مدنی برملا کہا کرتے کہ: مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا اور میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔[1]

تنقید[ترمیم]

مولانا اسحاق اپنی تقریر یا گفتگو میں پورے حوالے سے بات کرتے اور پھر اس پر ڈٹ جاتے، چنانچہ بعض علما آپ سے نالاں رہتے۔ تنقید بھی کرتے کہ مولانا اسحاق نہ اہل حدیث پورے ہیں اور نہ پورے شیعہ، دیوبندی وغیرہم۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت "خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا"۔ روزنامہ پاکستان۔ 14 ستمبر، 2013۔ Check date values in: |date= (معاونت)