محمود جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمود جعفری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1953 (عمر 65–66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلم ہدایت کار،  اداکار،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

محمود جعفری ایرانی ٹی وی اور فلم کی دنیا کے ایک نامور اداکار اور مصنف ہیں انکی عام شہرت 1999میں بننے والی فلم ایک لڑکی لباس کتان میں،1986 میں خارج از محدود اور 1994 میں بننے والی فلم شریک حیات کی وجہ سے ہے۔ محمودجعفری نے مختار نامہ ٹی وی سیریل میں عبد اللہ بن زیاد کے غلام، مصاحب خاص اور خوشامدی شخص کا کردار اداکیاہے۔

مختار نامہ میں کردار[ترمیم]

معقل نامی اس خوشامدی غلام نے خاص طور پر عبد اللہ بن زیاد کے لیے مسلم بن عقیل کو ڈھونڈنے اور گرفتار کروانے میں مدد کی۔ معقل نامی اس شخص نے خود کو ایک مومن شیعہ کے بھیس میں ڈھالا اور کوفہ کے شیعان کے درمیان پہنچا اور اپنی ظاہری عبادت و زہد کی وجہ سے ان کے درمیان خاص توجہ حاصل کرلی اور بالاآخر 3000ہزار سونے کے سکوں کو لے کر مسلم بن عقیل کے پاس پہنچ گیاتاکہ وہ ان سکوں کو چندے کے طور پر اموی حکومت کے خلاف تحریک کے لیے استعمال کریں۔ جب اس نے معلوم کر لیا کہ مسلم بن عقیل کس گھر میں پناہ گزین ہے تو یہ معقل واپس عبد اللہ بن زیاد کے پاس پہنچ گیا اور اس کوتمام واقعات اور مسلم بن عقیل کی پناہگاہ سے آگاہ کر دیا۔ اس طرح مسلم بن عقیل کو گرفتار کرنے کے لیے عبد اللہ بن زیاد کی سپاہ نےہانی کے گھر پر چھاپہ مارا مگر مسلم بن عقیل کو نہ پاسکے اور ہانی کو گرفتار کرکے لیجانے کے بعد نام نہاد اعدالتی کارروائی کے بعد ہانی کو قتل کر دیاگیا۔

صلاحیتیں[ترمیم]

محمود جعفری ایک ذہین اداکار اور مصنف ہے۔ محمودجعفری جب مختار نامہ سلسلے وار تاریخی کھیل کی عکسبندی میں مصروف تھا تو ایک منظر کے دوران یہ عبداللہ بن زیاد کے ہمراہ خاموشی سے چلتے ہوئے عبد اللہ بن زیاد اور دیگر شخص کی اہم گفتگو سن رہاہوتاہے مگر اس کے لیے بولنے کے لیے کوئی مکالمہ نہیں ہوتا۔ جب منظر کو عکسبند کرنے کا وقت آیاتو محمودجعفری نے داؤدمیرباقری سے کہاکہ اگر اس منظر میں مجھے کچھ مکالمے اداکرنے دئے جائیں تو ان سے ناصرف اس منظر کی گفتگو میں جان پڑجائے گی بلکہ اس گفتگو کا محل وقوع بھی ناظرین کی سمجھ میں آجائے گا۔ داؤدمیرباقری صاحب جو خود ایک استاد ہدائتکار ہیں نے محمود جعفری کی بات سے اتفاق کیا بلکہ محمودجعفری کی ذہانت کی داد بھی دی

حوالہ جات[ترمیم]

سلسلے وار کھیل مختار نامہ میں محمودجعفری بطور معقل