ملکہ سی شی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ملکہ سی شی
The Ci-Xi Imperial Dowager Empress (6).PNG 

معلومات شخصیت
پیدائش 29 نومبر 1835[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بیجنگ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 نومبر 1908 (73 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاہی شہر، بیجنگ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مشرقی چنگ مقابر  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of China (1862–1889).svg چنگ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر شہنشاہ شیانفینگ  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد شہنشاہ تونگژی[3]  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
یئہینارا وانژین  ویکی ڈیٹا پر بہن/بھائی (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ہمسر ملکہ چین   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
22 اگست 1861  – 15 نومبر 1908 
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان، ملکہ، مصور  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
آرڈر آف سینٹ کیتھرین  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ملکہ سی شی (چینی: 慈禧太后) (پیدائش: 29 نومبر 1835ء— وفات: 15 نومبر 1908ء چنگ خاندان سے تعلق رکھنے والی چین کی آخری ملکہ تھی۔ ملکہ سی شی نے 1861ء سے 1908ء تک حکومت کی۔ یہ ملکہ اپنی قوت اور تدبر میں بے مثل تھی۔ جس ماحول میں اُس کو حکمرانی کا موقع ملا، وہ کچھ اِس قدر اضطرابی اور سیماب صفت تھا کہ بڑی سے بڑی شخصیت بھی سکون پیدا کرنے سے قاصر رہتی تھی۔ چین جب ملوکیت اور جمہوریت کی کشمکش میں گرفتار تھی تو ملکہ سی شی ہی تھی جو ایک وسیع گروہ کی قیادت کر رہی تھی۔ اُس کی زِندگی ایک ایسی داستان ہے جس میں تخت و تاج کی ریشہ دوانیاں، ملوکیت کا عروج و زوال اور ملک کے سیاسی فتنے بپا ہیں، جو ہر شاہی خاندان کا ایک لوازمہ ہے۔ ملکہ سی شی کی زِندگی بے ربطگی اور افراتفری اِس عہد کی آئینہ دار تھی جس میں وہ زِندہ تھی۔ اُس کی بے سکون زِندگی وطن اور قوم کے اضطراب کی ترجمان رہی۔ چین کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ ایک خاتون جس کی حیثیت ایک خواص سے زیادہ نہ تھی، ملک چین کے سیاہ و سپید کی مالک و مختار بن بیٹھی اور اِس جلال سے حکومت کی کہ شہنشاہ، امرا، عوام اور بیرونی باشندے سبھی سہم جاتے تھے۔ ملک کی بے چارگی اور عرصے سے پیدا شدہ زوال نے اِس قدر مہلت دی کہ وہ کامیاب حکومت کرسکتی تھی۔ وہ غربت اور نامرادی کے عالم میں پیدا ہوئی تھی لیکن ایک عارضی خوشحال زِندگی گزار کر بربادی اور بیکسی کے عالم میں اِس دنیا سے کوچ کرگئی اور اپنے ساتھ ہمیشہ کے لیے چین کا نظام ملوکیت بھی لیتی چلی گئی۔

ملکہ سی شی ۔ (1900ء)


ابتدائی حالات[ترمیم]

پیدائش اور خاندان[ترمیم]

ملکہ سی شی ۔ (1903ء)

ملکہ سی شی 29 نومبر 1835ء کو بیجنگ میں پیدا ہوئی۔چینی تمدن میں لڑکی کی پیدائش کو نیک بخت اور مبارک تصور نہیں کیا جاتا تھا ، اِسی لیے سی شی کی کوئی خاص تربیت نہ ہو سکی۔ سی شی کے والد ہیوئی چینگ چین کی شاہی افواج کے کماندار تھے۔ مانچو شہنشاہوں کا یہ حکم تھا کہ شہنشاہی افواج کی کمان وہی شخص کرسکتا ہے جو نسلاً مانچو ہو۔ اِس لحاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سی شی بھی نسلاً مانچو تھی۔ وہ سی شی کو نہنی چاؤ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ سی شی ابھی کمسن تھی کہ اُس کے والد ہیوئی چینگ کا انتقال ہو گیا تھا۔ مالی دشواریوں سے بچے رہنے اور گزر بسر کی سہولت کی خاطر سی شی کی والدہ پیکنگ چلی آئی جہاں وہ ایک رشتے دار کے ہاں مقیم ہوئی۔ اُس رشتہ دار کی توجہ دِلانے پر سی شی کی تعلیم و تربیت کا خاطر خواہ قدم اُٹھایا گیا اور جہاں تک اُس کی والدہ کا بَن پڑا، اُس کی تربیت کی گئی۔ سی شی نے کنفیوشس کی تعلیمات کو حفظ کیا اور ادبیاتِ عالیہ کا مختصر سا مطالعہ بھی کیا۔ وہ ابتدا سے ہی ذہین تھی۔ اِس مختصر سی تعلیم اور ذہانت نے اُس پر ایسی جِلا دی کہ وہ معزز اور مہذب خواتین میں شمار کی جانے لگی۔ تعلیم و تربیت کے ابتدائی ایام میں وہ اپنے ایک رشتہ دار جِنگ لُو کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ اِن دونوں کا ارتباط زمانے کی مختلف دشواریوں کے باوجود آخر تک برقرار رہا۔[4] جب سی شی نے منزلِ شباب میں قدم رکھا تو عوام اُسے یوہانالا کے نام سے پکارنے لگے۔ یوہا اور نالا شمالی چین کے جو دیوار چین کے اُس پار شمال مشرقی سمت میں واقع ہے، دو مختلف قبیلے تھے۔ اِن دو قبیلوں کو نوراچو نامی ایک فوجہ عہدیدار نے متحد کیا اور اِس اتحاد کے بعد نوراچو نے دیوار چین کو عبور کر لیا اور چین پر لشکرکشی کی۔ حکمران شہنشاہ کو شکست دے کر خود چین کا شہنشاہ بن گیا۔ نوراچو اور اُس کے بعد کے حکمران چِنگ یا مانچو خاندان کے لقب سے چین پر حکومت کرنے لگے۔ یوہانالا اِس خاندان کا قدیم اور ابتدائی نام تھا۔ چنانچہ اِسی نام سے وہ سی شی مشہور ہوئی۔[5]

ملکہ سی شی ۔ (1890ء)


ازدواج[ترمیم]

چینی رسوم کے مطابق ہر شہنشاہ کو کئی خواص اجازت تھی۔ اِن خواصوں کو شہنشاہ کی والدہ منتخب کیا کرتی تھی۔ چنانچہ جب شہنشاہ شن فنگ کے لیے خواصوں کا انتخاب ہو رہا تھا تو سی شی کی والدہ نے اُسے مجبور کیا کہ وہ اِس انتخاب میں شریک ہوکر اپنی قسمت آزمائی کرے۔ اِنہی دِنوں جُنگ لُو سے اُس کی شادی ہونے واالی تھی، مگر والدہ کی مستقبل سے وابستہ خوش آئندہ تعلقات نے اِس بیاہ کی پروا کیے بغیر سی شی کو انتخاب کے لیے بھجوا دیا۔ سی شی کے حسین خدوخال اور اُس کا حسن اِس قابل تھے کہ وہ منتخب کرلی گئی اور جُنگ لُو سے اُس کی شادی نہ ہو سکی۔ سی شی کے جمال نے شہنشاہ شُن فنگ کو مسحور کر دیا اور وہ اِسے 1852ء میں چین کی حقیقی ملکہ بنانے پر راضی ہو گیا۔ سی شی سے بیٹے کی پیدائش پر اُسے چین کی حقیقی ملکہ تصور کر لیا گیا۔[6]

اقتدار اور اُمورِ سلطنت پر قابض[ترمیم]

سی شی چونکہ شہنشاہ شین فینگ کی منظور نظر ہوچکی تھی اور اِسی اعتبار سے وہ امورِ سلطنت پر حاوی ہوتی گئی۔ سلطنت کا سارا نظم و نسق اُس کے صلاح و مشورے کے بغیر سر انجام نہیں پاسکتا تھا۔ چنانچہ کچھ دِنوں کے بعد شہنشاہ شین فینگ بھی ملکہ کے اِس طرزِ عمل سے بیزار ہو گیا اور جب 1860ء میں بیرونی باشندوں اور چینیوں میں جنگ ہوئی تو سارے اقتدار کی مالک و مختار سی شی ہی تھی۔ اِس کی بدقسمتی کا آغاز اُس لمحے سے شروع ہوا کہ جب اِس جنگ میں چینیوں کو شکست ہوئی۔ ملکہ کے مخالفین نے اِس شکست کا سارا الزام ملکہ سی شی کے سر تھوپا اور خصوصاً سُوشن نے جو ملکہ کا سخت ترین دشمن تھا، نے شہنشاہ شین فینگ کو مجبور کر دیا کہ وہ خود کو ملکہ کے پنجۂ اقتدار سے علاحدہ کرلے اور فوراً پیکنگ سے جنیہول چلا جائے تاکہ ملکہ سی شی کو دور رکھا جاسکے۔ شہنشاہ شین فینگ نے ملکہ سے مخالف اختیار کی اور خود جنیہول چلا گیا۔ ملکہ کی یہ ایسی شکست تھی کہ اُس کی طاقت و اقتدار کا شیرازہ برہم ہونے لگا اور یہیں سے اُس کا زوال شروع ہوا۔ چینیوں کی شکست سے ملک میں بیرونی اقتدار دن بدن پھیلتا جا رہا تھا اور عوام کی پریشانیاں مخالفانہ رنگ اختیار کر رہی تھیں۔ اِس بدقسمتی میں مزید اضافہ ہوتا گیا اور 22 اگست 1861ء کو شہنشاہ شین فینگ کا انتقال ہو گیا۔[7]

ملکہ سی شی کی مہر ۔ (1910ء)


دور حکومت[ترمیم]

شہنشاہ شین فینگ کے انتقال پر چین کی سلطنت و تخت کے دو دعویدار تھے۔ ایک پانچ سالہ شہزادہ کوانگ سُو جو سی شی سے پیدا ہوا تھا اور دوسرا شہزادہ یائی تھا جسے خود شہنشاہ شین فینگ نے نامزد کیا تھا۔ تخت و تاج کے حصول کے لیے دونوں میں کشمکش اور جنگ جاری ہوئی اور ملکہ سی شی نے اپنے پرانے چہیتے دوست جُنگ لُو کی مدد سے شہزادہ یائی کو شکست دی اور خود کمسن شہزادے کوانگ سُو کی نائب السلطنت کی حیثیت سے تخت نشین ہو گئی۔ اِن اندرونی تنازعات کے زمانے میں بیرونی باشندوں نے اپنے مفادات کو مستحکم کرنا شروع کیا۔ اُس وقت چین میں دو سیاسی جماعتیں تھیں، ایک قدامت پسند جماعت تھی جس میں شاہی خاندان کے افراد، امرا اور کنفیوشس کے پیروکار شامل تھے اور یہ جماعت ملکہ سی شی کو اپنا قائد سمجھتی تھی۔ دوسری بڑی جماعت اصلاح پسندوں کی تھی جس میں چین کے تمام ترقی پسند عناصر شریک تھے اور اِس جماعت کا اثر جنوبی چین میں پھیلا ہوا تھا۔ اصلاح پسندوں نے شہنشاہ شین فینگ کو اپنے زیر اثر کر لیا اور شہنشاہ خود چاہتا تھا کہ ملکہ سے چھٹکارا پاسکے۔ شہنشاہ شین فینگ نے اپنے اِن ساتھیوں سے مل کر تحریک پر چین میں اصلاحات کا نفاذ کر دیا اور اِس کوش میں لگا رہا کہ ملکہ سی شی کے حاشیہ برداروں کو چُن چُن کر قتل کر دیا جائے۔ شہنشاہ شین فینگ کی پہلی نظر ملکہ سی شی کے منظورِ نظر جُنگ لُو پر پڑی اور اِس کام کے لیے شہنشاہ شین فینگ نے ایک فوجی عہدیدار یانشی کائی کو منتخب کیا گیا۔ یانشی کائی نے شہنشاہ شین فینگ سے غداری کی اور اِس سازش کا احوال ملکہ سی شی کو بتا دیا۔ ملکہ اِس حرکت پر یوں بپھری کہ اصلاح پسندوں اور شہنشاہ شین فینگ پر لشکرکشی کردی۔ اِس تصادم میں شہنشاہ شین فینگ کو قید کر لیا گیا اور اصلاح پسندوں کو شکست ہوئی۔ چین میں ملکہ سی شی کی نگرانی میں دوبارہ قدامت پسندوں کا دور شروع ہو گیا۔ کچھ دِنوں تک اِس بحران میں سکون تو رہا مگر بہت جلد ہی یہ دور ختم ہو گیا۔ 1900ء میں جب چینی عوام نے بیرونی باشندوں کے خلاف صف آرائی شروع کی تو اولاً ملکہ نے عوام کا ساتھ دینے سے اِنکار کر دیا مگر عوام نے ایک جعلی دستاویز ملکہ سی شی کو دکھائی کہ بیرونی باشندے ملکہ کو تخت سے معزول کرنا چاہتے تھے۔ وہ اِس نئی مصیبت کے خوف سے سہم کر عوام کے ساتھ مل گئی۔ اُس نے شاہی افواج کو حکم دیا کہ وہ بیرونی دشمن باشندوں پر حملہ کریں۔ مغربی ممالک کو شکست ہوجاتی کیونکہ حکومت اور عوام متحدہ پیمانے پر حملہ کر رہے تھے لیکن اُنہیں شکست اِس لیے نہ ہو سکی کہ مغربی ممالک، برطانیہ، فرانس، امریکا، اطالیہ، جرمنی، روس اور جاپان نے متحدہ طور پر چینیوں کا مقابلہ کیا اور اُنہیں شکست دی۔ یہ تصادم تاریخ چین میں بغاوتِ باکسر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دراصل چینیوں کی جنگ آزادی کی شروعات تھی جس پر بغاوت کا نام چسپاں کر دیا گیا۔[8] اِس ہنگامے کی ناکامی مانچو خاندان اور ملکہ کی ناکامی تھی۔ اِس بغاوت کے بعد ملکہ نے کوشش کی کہ بیمار ملک میں پھر جان ڈالی جائے مگر چونکہ ملکہ اب ضعیف ہوچکی تھی اور عوام بھی ملکہ کی اصلاحات کو مرض کا صحیح علاج نہیں جانتے تھے۔ اُن کے شعور میں انقلاب رچ بس گیا تھا اور اُن کا اتحاد جمہوری نظامِ حکومت کی طرف پِھر گیا تھا۔ اُن مخالف قوتوں کے باعث ملکہ کا رہا سہا اقتدار دم توڑنے لگا ۔ 1881ء میں ملکہ نے چینیوں کو اجازت دے دی کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم کے لیے بھجوا سکتے ہیں۔[9]

وفات[ترمیم]

ملکہ سی شی کا انتقال 73 سال کی عمر میں 15 نومبر 1908ء کو بیجنگ میں ہوا۔[10]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب بنام: Ci Xi — FemBio ID: http://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=5865 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ^ ا ب Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/cixi — بنام: Cixi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. فصل: 9 — مصنف: Jonathan Spence — عنوان : The Search for Modern China — اشاعت اول — صفحہ: 194 — ناشر: W. W. Norton & Company — ISBN 978-0-393-30780-1
  4. مشاہیر چین: صفحہ 58۔
  5. مشاہیر چین: صفحہ 59۔
  6. مشاہیر چین: صفحہ 60۔
  7. مشاہیر چین: صفحہ 60/61۔
  8. مشاہیر چین: صفحہ 62/63۔
  9. مشاہیر چین: صفحہ 62/63۔
  10. مشاہیر چین: صفحہ 63۔