ممتاز حسین (مصنف)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پروفیسر ممتاز حسین
پیدائش 1 اکتوبر 1918(1918-10-01)ء
ضلع غازی پور، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
وفات 15 اگست 1992(1992-08-15)ء
کراچی، پاکستان
قلمی نام ممتاز حسین
پیشہ نقاد، محقق، معلم
زبان اردو
نسل مہاجر
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم بی ایڈ، ایم اے
مادر علمی آگرہ یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
اصناف تنقید، تحقیق
ادبی تحریک ترقی پسند تحریک
نمایاں کام امیر خسرو دہلوی: حیات اور شاعری
تنقیدی شعور
مارکسی جمالیات
نئی قدریں

پروفیسر ممتاز حسین (پیدائش: یکم اکتوبر، 1918ء - وفات: 15 اگست، 1992ء) اردو کے ممتاز ترقی پسند نقاد اور محقق تھے۔ ان کی کتاب مارکسی جمالیات اردو میں تنقید کی اہم ترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ممتاز حسین یکم اکتوبر، 1918ء کو گاؤں پارا، ضلع غازی پور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ انہوں نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے، آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اور تدریس کے شعبے سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور مختصر عرصے کے لیے کیلون کالج لکھنؤ میں تدریسی سرگرمیاں انجام دیں۔ 1947ء میں انجمنِ اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بمبئی میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملازمت اختیار کی۔ 1949ء میں ہجرت کر کے کراچی میں سکونت پزیر ہوئے۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

ممتاز حسین کا شمار اردو کے انتہائی ممتاز اور سربرآوردہ نقادوں میں ہوتا ہے۔ ان کے ادبی نظریے سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کے ادبی مرتبے، ان کی بیش بہا علمی و ادبی خدمات اور ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کی تصانیف میں نقد حیات، نئی قدریں، ادبی مسائل، ادب اور شعر، نئے تنقیدی گوشے، غالب ایک مطالعہ، امیر خسرو دہلوی: حیات اور شاعری، مارکسی جمالیات اور حالی کے شعری نظریات:ایک تنقیدی جائزہ شامل ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • امیر خسرو دہلوی: حیات اور شاعری
  • تنقیدی شعور
  • نقد حرف
  • حالی کے شعری نظریات:ایک تنقیدی جائزہ
  • انتخاب غالب
  • نقد حیات
  • نئی قدریں
  • ادبی مسائل
  • ادب اور شعور
  • نئے تنقیدی گوشے
  • غالب ایک مطالعہ
  • باغ و بہار (مرتب)

وفات[ترمیم]

ممتاز حسین 15 اگست، 1992ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]