مولوی کریم الدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولوی کریم الدین
معلومات شخصیت
پیدائش 21 جون 1783  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پانی پت،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1879 (95–96 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ذاکر حسین دہلی کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فرہنگ نویس،  مدیر،  پروفیسر،  مؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ادارت،  تاریخ بھارت،  ترجمہ،  صرف و نحو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت آگرہ کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں کریم الاخبار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

مولوی کریم الدین (پیدائش: 21 جون، 1783ء - وفات: 1879ء) انیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور و معروف مصنف، مورخ، مترجم، سوانح نویس، کریم الاخبار کے بانی مدیر اور لغت نویس تھے۔ وہ اردو کی مشہور لغت کریم اللغات کے مولف تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مولوی کریم الدین 21 جون، 1783ء میں پانی پت ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔بڑے ہو کر تحصیل علم کے لیے دہلی چلے گئے اور یہاں صرف و نحو، منطق، فلسفہ، فقہ اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ 1812ء میں دہلی کالج میں داخل ہوئے اور یہاں ہندسہ، ہیئت، الجبرا اور تاریخِ ادب کی تعلیم پائی۔ وہ اردو، عربی و فارسی کے علاوہ انگریزی زبان بھی خوب جانتے تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد دہلی میں ایک مطبع قائم کیا جس میں انہوں نے تاریخ کے موضوع پر اعلیٰ پایہ کی کتابیں شائع کیں۔ کریم الاخبار اور گل رعنا دو ماہنامے بھی جاری کیے۔ 1857ء میں جب دہلی پر تباہی، بربادی اور غارت گری کا طوفان آیا تو مولوی کریم الدین وہاں سے نکل کر آگرہ پہنچے اور آگرہ کالج میں پروفیسر مقرر ہو گئے۔ 1863ء میں پنجاب چلے آئے اور حلقہ لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر تعلیمات کے عہدے پر عرصہ دراز تک کام کیا۔ لاہور آ کر بہت سی کتابیں تصنیف، تالیف اور ترجمہ کیں، جن میں طبقات شعرائے ہند، تاریخ ابو الفداء، تاریخ شعرائے عرب، تاریخ ہندوستان (واقعات ہند) خاص کر شامل ہیں۔ کریم اللغات ان کی سب سے مشہور کتاب ہے۔[1] مولوی کریم الدین کے تمام اعزا نے عیسائیت قبول کر لی تھی، لیکن انہوں نے ہر قسم کے لالچ اور دباؤ کے باوجود اسلام سے منحرف ہونا قبول نہ کیا۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • انشائے اُردو (1321ھ، مطبع فیض الکریم حیدرآباد)
  • طبقات الشعرائے ہند (تالیف:1847ء،اشاعت:1848ء، مطبع منشی نول کشور)
  • گلدستۂ نازنیاں (1845ء، مطبع رفاہ عام دہلی)
  • تاریخ ہندوستان المعروف واقعات ہند (1870ء، مطبع منشی نول کشور)
  • کریم اللغات
  • مکتوب محمدی
  • تاریخ ابو الفداء (ترجمہ)
  • قواعد المبتدی (اردو زبان کی صرف نحو، تالیف: 1852ء، اشاعت:1858ء، مطبع مدرسہ آگرہ)
  • تاریخ شعرائے عرب

مدیر[ترمیم]

  • کریم الاخبار
  • گل رعنا

وفات[ترمیم]

مولوی کریم الدین 1879ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب نقوش لاہور نمبر، شمارہ 92۔ فروری 1962ء، ادارہ فروغِ اردو لاہور، ص 940
  2. ڈاکٹر عبد السلام خورشید، صحافت: پاکستان و ہند میں، مجلس ترقی ادب لاہور، نومبر 2016ء، ص 111