میر حسین موسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میر حسین موسوی
(آذربائیجانی میں: Mir Hüseyn Musəvi)،(فارسی میں: میرحسین موسوی خامنه خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Mir Hossein Mousavi in Zanjan by Mardetanha1.jpg 

مناصب
وزیر اعظم ایران   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
31 اکتوبر 1981  – 3 اگست 1989 
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (فارسی میں: میرحسین بن اسماعیل موسوی خامنه خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 29 ستمبر 1941 (78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
خامنہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
خاندان ایرانی سادات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  مصور،  معمار،  صحافی،  مضمون نگار،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  آذربائیجانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Mir-Hossein Mousavi signature.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

میر حسین موسوی (فارسی: میرحسین موسوی خامنه‎؛ پیدائش: 2 مارچ 1942ء) ایران کے ایک اصلاح پسند سیاست دان، فنکار اور معمار تھے جو سنہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے وزیر اعظم رہے۔ نیز وہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ وہ سنہ 2009ء تک فرہنگستان ہنر ایران کے صدر بھی رہے پھر انہیں قدامت پرست اہل اقتدار نے معزول کر دیا۔

انقلاب کے ابتدائی برسوں میں موسوی جمہوری اسلامی کے مدیر اعلیٰ تھے جو ایران کی حزب جمہوری اسلامی کا باضابطہ اخبار تھا۔ بعد ازاں وہ وزیر خارجہ اور پھر وزیر اعظم کے مناصب پر فائز ہوئے۔ سنہ 1989ء کی آئینی ترامیم کے بعد ایران میں وزارت عظمی کا منصب ختم ہو گیا اور یوں میر حسین موسوی ایران کے آخری وزیر اعظم کہلائے۔ عہدے سے سبک دوش ہونے کے بعد وہ تقریباً بیس برس سیاسی زندگی سے دور رہے۔ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے موقع پر حسین موسوی نے گوشہ تنہائی کو خیرباد کہا اور اُس وقت کے صدر ایران محمود احمدی نژاد کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار بن کر انتخابی دنگل میں اترے۔ سرکاری نتائج کے مطابق انہیں انتخابات میں کامیابی نہیں ملی لیکن حسین موسوی نے انہیں تسلیم نہیں کیا اور ووٹوں کے خرد برد کا الزام لگاتے ہوئے حکومت مخالف احتجاج کا آغاز کیا جو بالآخر حکومت ایران اور روحانی پیشوا سید علی خامنہ ای کے خلاف قومی و بین الاقوامی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ اس وقت حسین موسوی اپنے گھر میں اپنی بیوی اور مہدی کروبی کے ساتھ نظر بند ہیں۔

ابتدائی زندگی، تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

سیر میر حسین موسوی کی پیدائش ایران کے صوبہ آذربائیجان شرقی کے شہر خامنہ میں 2 مارچ سنہ 1942ء کو ہوئی۔ ان کے والد میر اسماعیل تبریز میں چائے فروش تھے۔ خامنہ ہی میں حسین موسوی پروان چڑھے اور 1958ء میں ہائی اسکول سے فراغت کے بعد تہران منتقل ہو گئے۔ واضح رہے کہ میر حسین موسوی سید علی خامنہ ای کے عزیزوں میں ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]