ناصر شہزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ناصر شہزاد
پیدائش سید ناصر شہزاد
21 دسمبر 1937(1937-12-21)ء

شیخوشریف، ضلع اوکاڑہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند)
وفات 22 دسمبر 2007(2007-12-22) (عمر  70 سال)

ضلع اوکاڑہ،پاکستان
قلمی نام ناصر شہزاد
پیشہ شاعر
زبان اردو
نسل پنجابی
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف غزل، دوہا، گیت
نمایاں کام چاندنی کی پتیاں
بن باس
کون دیس گئیو

ناصر شہزاد (پیدائش: 21 دسمبر، 1937ء - وفات: 22 دسمبر، 2007ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ناصر شہزاد 21 دسمبر، 1937ء کو شیخوپورہ، ضلع اوکاڑہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ وہ غزل کے ساتھ ساتھ دوہے اور گیت نگاری میں بھی اختصاص رکھتے تھے۔ ان کے شعری مجموعے چاندنی کی پتیاں اور بن باس کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے جبکہ مجید امجد کی شاعری اور شخصیت پر لکھی ہوئی ان کی کتاب کون دیس گئیو کے نام سے شائع ہوئی۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • بن باس (شاعری)
  • چاندنی کی پتیاں (شاعری)
  • کون دیس گئیو (تنقید)

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

تجھ سے ملنے کی التجا کیسیہونٹ پر آ گئی دعا کیسی
جھڑ گئے بال ڈھیلی پڑ گئی کھالدل میں اب خوشبوئے حنا کیسی
سیج کیا ہے بغیر سیاں کےپانیوں کے بناں گھٹا کیسی
کوئی ہنگامہ کوئی سر نامہورنہ اس زیست میں بقا کیسی
رشوتیں رہزنی ڈکیتی قتللگ گئی شہر کو ہوا کیسی
حرف حق ظرف کائنات بناکربلا ہو گئی کتھا کیسی[4]

غزل

حسرت عہد وفا باقی ہےتیری آنکھوں میں حیا باقی ہے
بات میں کہنہ روایات کا لطفہاتھ پر رنگ حنا باقی ہے
ابھی حاصل نہیں ظالم کو دوامابھی دنیا میں خدا باقی ہے
پاؤں کے نیچے سرکتی ہوئی خاکسر میں مسند کی ہوا باقی ہے
بیچ میں رات، بچن، بیتے ملناوٹ میں جلتا دیا باقی ہے
دیکھ یہ چاند ندی پھول نہ جارت میں رس شب میں نشہ باقی ہے[5]

وفات[ترمیم]

ناصر شہزاد 22 دسمبر، 2007ء کو ضلع اوکاڑہ، پاکستان میں وفات پاگئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]