ناظر (فرشتہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ولی میخائیل کے کلیسا (واقع کلفٹن ھیمپڈن، آکسفورڈ شائر برطانیہ) کے مینار کی لپیٹ میں ناظر فرشتہ

ناظران (آرامی: עִיר, iyr)(کلمہ نویسی : ir) ایک بائبلی اصطلاح ہے کہ جو فرشتوں کیلئے بائبل میں استعمال ہوئی ہے۔یہ اصطلاح واحد اور جمع دونوں طرح سے استعمال میں آتی ہے۔ جیسا کہ دوسری صدی قبل مسیح میں کتاب دانی ایل میں انکی پاکبازی کا حوالہ دیاگیاہے۔ پہلی اور دوسری صدی قبل مسیح میں مرتبہ کتاب ادریس جو غیر مستند روایات کی بنیاد پر ہےمیں شر اور خیر کے دونوں ناظران کا حوالہ ان کی باغیانہ و سرکش فطرت کو نظر میں رکھکر دیاہے۔ تاہم عبرانی میں اس لفظ سے مراد بیدار اور ہوشیار ہے۔ جبکہ کلدانی میں اس سے مراد محافظ اور مراقب و نگران ہے۔

دانی ایل[ترمیم]

عہدنامہ قدیم کی کتاب دانی ایل یا کتاب دانیال کے باب 4 کی آیات 13، 17 اور23میں ناظران کے درجے کا شمار بطور راست باز و پاکباز کیاگیاہے:
13 ۔میں نے اپنے پلنگ پر اپنی دماغی رویا پر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نگہبان ہاں ایک قُدسی آسمان سے اُترا۔ 17۔ یہ حُکم نگہبانوں کے فیصلہ سے ہے اور یہ امر قُدسیوں کے کہنے کے مُطابق ہے تاکہ سب دی حیات پہچان لیں کہ حق تعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے ادنیٰ آدمیوں کی مُملکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے آدنیٰ آدمی کو اُس پر قائم کرتا ہے۔

23۔اور جو بادشاہ نے دیکھا کہ ایک نگہبان ہاں ایک قُدسی آسمان سے اُترا اور کہنے لگا کہ درخت کو کاٹ ڈالو اور اُسے برباد کرو لیکن اُس کی جڑوں کا کُندہ زمین میں باقی رہنے دو بلکہ اُسے لوہے اور تابنے کے بندھن سے بندھا ہُوا میدان کی ہری گھاس میں رہنے دو کہ وہ آسمان کی شبنم سے تر ہواور جب تک اُس پر سات دور نہ گُزر جائیں اُس کا بخرہ زمین کے حیوانوں کے ساتھ ہو۔ 

یہ اصطلاح بخت نصر نے متعارف کروائی تھی جب اس نے کہاکہ : اس نے ایک ناظر(واحد صیغہ) ایک پاکباز کو دیکھا جو جنت سے اسکی طرف اتاراگیاتھا۔اس نے تفصیلی بتایاکہ کیسے اسے خواب میں" ایک ناظر نے کہاکہ بخت نصر گھاس کھائے گا اور پاگل ہوجائے گا یہی سزا ہے کہ جس کا حکم ناظران نے مقدسین کے کلمہ کے مطالبے پر جاری کیاہے۔تاکہ دنیا والے جان لیں کہ یہ حکم بادشاہوں کے بادشاہ کی طرف سے ہے جو عظیم ترین ہے"
دانی ایل (دانیال )نے تفصیل سننے کے بعد ایک ساعت تک سوچا اور یوں گویاہواجسکی تفصیل کتاب دانی ایل کے باب 4 کی آیات 23 اور 24میں موجود ہے:

23۔اور جو بادشاہ نے دیکھا کہ ایک نگہبان ہاں ایک قُدسی آسمان سے اُترا اور کہنے لگا کہ درخت کو کاٹ ڈالو اور اُسے برباد کرو لیکن اُس کی جڑوں کا کُندہ زمین میں باقی رہنے دو بلکہ اُسے لوہے اور تابنے کے بندھن سے بندھا ہُوا میدان کی ہری گھاس میں رہنے دو کہ وہ آسمان کی شبنم سے تر ہواور جب تک اُس پر سات دور نہ گُزر جائیں اُس کا بخرہ زمین کے حیوانوں کے ساتھ ہو۔

24 ۔اے بادشاہ اس کی تعبیر اور حق تعالیٰ کا وہ حُکم جو بادشاہ میرے خُداوند کے حق میں ہُوا ہے یہی ہے۔
لوتھریت پروٹسٹنٹ مصلح جوہان ویگان نے تشریح بیان کرتے ہوئے کہاہے کہ بخت نصر نے جو ناظر اپنے خواب میں دیکھاتھا وہ یاتو خود خدا تھا یاخداکابیٹا۔ اس نے نظریہءتثلیث کو مزید تقویت دیتے ہوئے آئت 17 ( یہ حُکم نگہبانوں (ناظر)کے فیصلہ سے ہے) اور آئت 24 (اور حق تعالیٰ کا وہ حُکم جو بادشاہ میرے خُداوند کے حق میں ہُوا ہے یہی ہے) ملادیاہے۔
تاہم سیکولر دانشوروں نے ان ناظران یا نگہبانوں (پاکبازوں) کی اس اصطلاح کو کتاب دانی ایل کے مصنف نے صرف بخت نصر پر خدا کی طاقت و قوت کے اظہار کیلئے استعمال کیاہےتاکہ بخت نصر جان لے کہ بنی اسرائیل کا خدا بابل کے خداؤں سے بہت عظیم ترین ہے۔

کتاب ادریس[ترمیم]

کتاب ادریس کے پہلے حصے میں ناظران فرشتوں کے سقوط کا بیان ہے۔ جبکہ کتاب ادریس کا دوسرا حصہ ان فرشتوں کے بیان پر مبنی ہے جو پانچویں آسمان میں تھے مگر سقوط کردئے گئے۔جبکہ کتاب ادریس کا تیسرا حصہ غیر سقوط شدہ ناظران کے بیان پر مبنی ہے۔

کتاب ادریس اول[ترمیم]

اس حصے میں بیان ہے کہ ناظر فرشتوں کو بطور نگہبان آسمان سے زمین پر بھیجاگیاتاکہ وہ انسانوں کی نگہبانی کریں مگر انہوں نے غیر فطری طور پر انسان عورتوں سے رغبت قائم کی۔ اور اپنے سردار شیحما زے کےخلاف قاعدہ حکم پر انسان عورتوں سے اختلاط کیا اور عمل تولید جاری کیا۔ اس سردار شیحما زے اور اس کے دیگرماتحتوں نے انسانوں کو ایسے علوم (اسلحہ سازی، لوازم آرائشی و زیبائشی، آئینہ بندی ، جادو اور دیگر ہنر و فنون) سکھائے کہ جو انسان درجہ بدرجہ وقت کے ساتھ ساتھ خود سیکھتا یا ایجاد و دریافت کرتامگر ان ناظران نے یہ تمام علوم و ہنر یک بہ یک انسانوں کو سکھلادئے۔سرانجام اللہ تعالیٰ نے طوفان نوح بھیجا تاکہ وہ اناکیم کو تباہ کرکے زمین کو ان کے وجود سے پاک کردے۔مگر اس سے پہلے اللہ نے یوریل یا جبرائیل کو بھیجا تاکہ وہ نوح کو خبردار کرے کہ نسل آدم کا کاتمہ مقصود نہیں ہے۔ مگر سقوط کردہ فرشتے یا ناظران کو زمین کی وادیوں میں یوم الدین تک محدود کردیاگیاعہدنامہ جدید کی کتاب یہوداہ کے باب 1 کی آئت 6 میں ہے کہ:

اور جِن فرِشتوں نے اپنی حُکُومت کو قائِم نہ رکھّا بلکہ اپنے خاص مقام کو چھوڑ دِیا اُن کو اُس نے دائمی قَید میں تارِیکی کے اَندر روزِ عظیم کی عدالت تک رکھّا ہے۔

کتاب ادریس میں 200 ایسے فرشتوں اور ان کے سرداروں کے نام کی فہرست بھی ہے۔یہ فرشتے آسمان سے بھیجے گئے مگر انہوں نے غیر فطری طور پر انسان عورتوں سے تعلقات قائم کئے اور انسانوں کو ممنوعہ (نامحمود)علوم بھی سکھائے۔ 7 اِسی طرح سدُوم اور عمُورہ اور اُن کے آس پاس کے شہر جو اِن کی طرح حرامکاری میں پڑ گئے اور غَیر جِسم کی طرف راغِب ہُوئے ہمیشہ کی آگ میں گِرفتار ہوکر جایِ عِبرت ٹھہرے ہیں۔

کتاب ادریس دوم[ترمیم]

ادریس کی دوسری کتاب میں بھی ناظران کی طرح ایک نام "گریگوری" استعمال ہواہے جسکامعنی ناظر یا ناظر فرشتہ ہے ۔ یہ اصطلاح کتاب ادریس کے پہلے حصے میں بیان شدہ ناظران کے جیسی ہے۔ لفظ گریگوری دراصل ایک یونانی لفظ ἐγρήγοροι egrḗgoroi, pronounced /ɛˈɡriɡɒri کا سلافیہ زبان میں ترجمہ ہے۔ جس کا معنی بیدار یا نگہبان ہی ہے۔ قامت کے لحاظ سے یہ گریگوری سدیو کی طرح تھے اور انکی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کتاب ادریس کے باب 18 میں مذکور ہے کہ یہ گریگوری فرشتے پانچویں آسمان پر اپنے سردار ساتانائیل کے ہمراہ رہتے تھے اور انہوں نے حکم عدولی کی۔کتاب ادریس کے دوسرے حصے کا ایک نسخہ انکی تعداد 200 ہزار سے بھی زیادہ بتاتاہے۔ ان میں سے چند زمین پر اتارے گئے یہاں انہوں نے غیر فطری جنسی اختلاط کرتے ہوئے انسان نما عورتوں سے پیداوار کی ۔

حوالہ جات[ترمیم]

اسرار عالم کی کتابیں

  • Boccaccini، edited by Gabriele (2005). Enoch and Qumran origins : new light on a forgotten connection ([Nachdr.]. ed.). Grand Rapids (Mich.): W. B. Eerdmans. 
  • Charlesworth، edited by James H. (2010). The Old Testament pseudepigrapha.. Peabody, Mass.: Hendrickson. 
  • DDD، Karel van der Toorn, Bob Becking, Pieter W. van der Horst, (1998). Dictionary of deities and demons in the Bible (DDD) (2., extensively rev. ed. ed.). Leiden: Brill. 
  • Meadowcroft، T. J. (1995). Aramaic Daniel and Greek Daniel : a literary comparison. Sheffield: Sheffield Acad. Press. 
  • Nickelsburg، George W.E. (2004). 1 Enoch : a new translation : based on the Hermeneia commentary. Minneapolis: Fortress Press. 
  • Orlov، Andrei A. (2011). Dark mirrors : Azazel and Satanael in early Jewish demonology. Albany: State University of New York Press. 
  • Platt، Rutherford H. (2004). Forgotten Books of Eden. (Reprint ed.). Forgotten Books. p.239. 
  • Porteous، Norman W. (1965). Daniel : a commentary. Philadelphia: Westminster Press. 
  • SDA Commentary on Daniel (1980). Commentary on Daniel and the Revelation : from the Seventh-day Adventist Bible Commentary. (Reprint ed.). Hagerstown, Md.: Review and Herald Pub. Association. 
  • Ward، Andrew Collins ; additional research by Richard (2001). From the ashes of angels : the forbidden legacy of a fallen race. Rochester, Vt.: Bear & Co..