نسوار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نسوار

نسوار تمباکو سے بنی ہوئی گہرے سبز رنگ کی ہلکی نشہ آور چیز ہے۔ نسوار کھانے والا ایک چٹکی کے برابر اپنے منہ میں رکھتا ہے۔ اور اس سے لطف لیتا ہے۔

نسوار تمباکو کے پتوں کو باریک پیس کر اور پھر اس میں حسب منشا چونا ملا کر تیار کی جاتی ہے۔ نسوار خور اسے ایک ڈبیا میں یا پڑیا میں ڈال کر جیب میں رکھتا ہے اور حسب خواہش منہ میں ڈالتا رہتا ہے۔

نسوار چونکہ تمباکو سے بنتی ہے اس لئےاس کے نقصانات بھی لازماً ہونگے لیکن یہ بہت کم نسوار خوروں کو پتہ ہوتا ہے۔ لیکن جو چیز اس میں تکلیف دہ ہے وہ نسوار خوروں کا جگہ جگہ تھوکنا ہے جس سے دوسرے لوگ تنگ ہوتے ہیں۔ زیادہ نسوار خوروں کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے۔ وہاں انھیں پڑیچے بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ پڑچ کی آواز کے ساتھ تھوکتے ہیں۔نسوار افغانستان،پاکستان،بھارت،ایران،تاجکستان،ترکمانستان اور کرغیزستان میں ہوتی ہے۔مغربی ممالک میں نسوار کو سب سے پہلے ایک ہسپانوی شخص نے متعارف کروائی تھی۔

نسوار کی تاریخ[ترمیم]

نسوار زمین میں اگنے والی تمباکو کی پتیوں سے بنی مصنوعات ہے یہ smokeless کی ایک مثال ہے۔ نسوار ابتدائی طور پر امریکہ سے شروع ہوا اور یورپ میں 17th صدی سے عام استعمال ہوا۔یورپی ممالک میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے باعث حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔عام طور پر اس کا استعمال ناک، سانس یا انگلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ریاست ہائے متحدہ اور کینڈا میں ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کرنے سے ہوئی۔ہٹی کے مقامی لوگوں کی جانب سے 1496ء-1493ء میں کولمبس کی جانب سے امریکہ دریافت کے سفر کے دوران Ramon Pane نامی راہب نے ایسے ایجاد کیا۔

1561ء میں پرتگال میں Lisbon،فرانسیسی سفیر اور انکے بیٹے Jean Nicot، کے بیماری کی وجہ جواز سے اس وقت یہ طبقہ اشرافیہ میں نہایت مقبول ہوا۔17thصدی میں اس مصنوعات کے خلاف کچھ حلقوں کی جانب سے تحریک اٹھی اور پوپ اربن VIIکی جانب سے خریداری پر دھمکیاں دیں گئیں۔ روس میں اس کا استعمال 1643ء میں Tsar Micheal کی جانب سے کیا گیا ۔ ناک سے استعمال کی وجہ سے اس پر سزا مقرر کی گئی ۔فرانس میںبادشاہ لوئیس XIII نے اس پر حد مقرر کی جبکہ چین میں 1638ء میں پوری طرح نسوار کی مصنوعات پھیل گئی۔18thصدی تک نسوار کو پسند کرنے والوں میں نپولین بانو پارٹ ، کنگ جارجIII کی ملکہ شارلٹ اور پوپ بینڈکٹ سمیت اشرافیہ اور ممتاز صارفین میں یہ رائج ہوچکا تھا۔18thصدی میں انگلش ڈاکٹر جان ہل نے نسوار کی کثرت استعمال سے کینسر کا خدشہ ظاہر کیا۔ امریکہ میں پہلا وفاقی ٹیکس 1794ءمیں اس لئے لگا کیونکہ اسیے عیش و عشرت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔اٹھارویں صدی میں Gentlewoman نامی میگزین میں پرتگالی نسوار کی اقسام اور استعمال کے مشورے شائع ہوئے۔افریقہ کے کچھ علاقوں میں یورپی ممالک کے افراد کی وجہ سے پھیلی اور دیہاتیوں نے ناک کے ذریعے استعمال کیا ۔ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ مصنوعات بھی متعارف ہوئی اور اس کا استعمال پاک و ہند میں پھیل گیا۔

نسوار کی موجودہ اقسام میں ہری نسوار اور کالی نسوار کا استعمال عام ہے ۔ جو تمباکو، کوئلے کی راکھ، چونے کی مدد سے بنائی جاتی ہے۔ کالی نسوار کے لئے خصوصی تمباکو صوابی سے آتا ہے جس پر حکومت ٹیکس لیتی ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ نسوار پختون ثقافت ہے محض غلط فہمی اور کم آگاہی پر منحصر ہے۔[1]

  1. http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=19529