نشان فتح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گلو کار روبی ولیمس اپنی تصویر کشی کے دوران فتح کا نشان بناتے ہوئے۔ یہ تصویر ہینری بانڈ کی کتاب "پوائنٹ اینڈ شوٹ" (Point and Shoot) سے لی گئی جو 2000ء میں شائع ہوئی تھی۔

نشان فتح (انگریزی: V sign)، وکٹری سائن یا وی سائن ہاتھ سے بنایا جانے والا نشان ہے جس میں ہاتھ کی شہاددت کی انگلی اور درمیانی انگلی دو الگ الگ کونوں میں اٹھائی جاتی ہیں اور جو تصویر ہاتھ کی انگلیوں سے ابھرتی ہے وہ بڑی حد تک انگریزی زبان کے حرف وی سے کافی مشابہ ہوتا ہے۔

استعمال[ترمیم]

مختلف حوالوں سے انگلیوں کے ذریعے فتح کا نشان بنایا جانا اب ایک روایت بن چکا ہے۔ سیاست دان، کھلاڑی اور یہاں تک کہ مختلف جرائم میں سزا پانے والے بھی عدالت جاتے یا آتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر دو انگلیوں سے فتح کا نشان بناتے نظرآتے ہیں۔ جاپانی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح نظر آنے والی انگلیوں کے ذریعے نشانات انگشت چوری کیے جاسکتے ہیں جس سے متعلقہ افراد کو مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جاپان کے انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیٹکس نے بتایا ہے کہ اگر اس طرح اپنی فتح کا اعلان کرنے سے گریز کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ادارے کا کہنا ہے کہ انگلیوں کے نشانات پہچاننے والی ٹیکنالوجی اب بہت جدت اختیار کرچکی ہے اور دنیا بھر میں بہ اآسانی دستیاب بھی ہے۔ نئے اسمارٹ فونوں میں بھی یہ ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اس لیے اس کے استعمال سے انگلیوں کے نشانات کے ذریعے غلط فوائد اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ہائیں کوالٹی کیمروں کی مدد سے ان نشانات کو بہ اآسانی نہ صرف پہچانا بلکہ بہ وقت ضرورت استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے ایسی ہی تصاویر کے ذریعے بعض لوگوں کے انگلیوں کے نشانات کے استعمال کا تجربہ بھی کیا ہے۔ مشورہ دیا گیا ہے کہ اب انگلیوں کے ذریعے فتح کا نشان بنانے کی بجائے کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے تو بہتر ہوگا۔[1]

نشان فتح کا کثرت سے استعمال سیاسی حلقوں میں بھی کافی زیادہ ہوتا ہے۔ سیاسی جلسوں اور ریالیوں میں یہ کئی بار دیکھا گیا ہے۔ اس کے لیے فعالیت پسند اور دوسرے اپنے حق کے لیے جد و جہد کرنے والے لوگ اس علامت کا کثرت سے استعمال کرتے رہتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]