نصیر احمد ناصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نصیر احمد ناصر
معلومات شخصیت
پیدائش 19 جولا‎ئی 1934  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
امرتسر،  برطانوی پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 13 اپریل 1997 (63 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ڈاکٹر آف لیٹرز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ پروفیسر،  شاعر،  محقق،  فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  انگریزی،  عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل نعت،  غزل،  جمالیات،  اسلامی فلسفہ،  سفرنامہ،  تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

ڈاکٹر نصیر احمد ناصر (پیدائش: 1934ء- وفات: 13 اپریل، 1997ء) اردو زبان کے نامورشاعر، فلسفی، مورخ، پروفیسر، مفسر قرآن اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

نصیر احمد ناصر 1934ء کو امرتسر، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔[1] ان کا اصل نام نصیر احمد اور ناصر تخلص تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایم اے او ہائی اسکول اور ایم اے او کالج امرتسر سے حاصل کی۔ 1943ء میں بی اے آنرز، 1945ء میں ایم اے (معاشیات) اور 1947ء میں جامعہ پنجاب سے ڈاکٹر آف لیٹرز (ڈی لٹ) کی سند حاصل کی۔ انہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا وائس چانسلر بھی مقرر کیا گیا۔ ڈاکٹر ناصر عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف کی تعداد تیس سے زائد ہے۔ ان کی کتابوں میں تاریخ جمالیات، پیغمبر اعظم و آخر ، حسن تفسیر، جمالیات - قرآن حکیم کی روشنی میں، اقبال اور جمالیات، حسن انقلاب، فلسفہ رسالت، آرزوئے حسن، داستان اندلس، ارمغان خالد، شیطان کا جمالیاتی فریب، سوچ، سرگزشت فلسفہ، حریف آدم، تاریخ ہسپانیہ اور روداد سفر حجاز قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی وفات 13 اپریل 1997ء کو لاہور میں ہوئی۔ ان کا مرقد گلبرگ تھری، لاہور کے قبرستان میں ہے۔[2][1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 892
  2. ایم آر شاہد، لاہور میں مدفون مشاہیر (جلد اول)، الفیصل ناشران و تاجرانِ کتب، لاہور، جولائی 2007ء، ص 292