اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلامیہ یونیورسٹی پنجاب کے شہر بہاولپور میں واقع ہے۔ 1928ء میں بہاولپور میں مصر کی جامعہ الازہر کی طرز پر جامعہ عباسیہ بنائی گئی۔ 1975ء میں اسی جامعہ عباسیہ کو یونیورسٹی قرار دے کر اس کا نام اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور رکھ دیا گیا۔ عام طور پر اسے آئی یو بی کے مخفف سے پکارا جاتا ہے۔ شروع میں اس میں عباسیہ اور خواجہ فرید کیمپس بنا کر دس شعبوں میں کام شروع کیا گیا۔ اب اس یونیورسٹی کا جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے 1250 ایکڑ زمین حاصل پور روڈ پر بہاولپور سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر مختص کی گئی ہے۔ صحرا کے ٹیلوں کو سرسبز قطعوں میں بدل دیا گیا ہے۔ اسلامی یونیورسٹی بہاولپور نے جدید ترین تدریسی طریقہ کار اور قومی و بین الاقوامی پیشہ وارانہ ضروریات سے ہم آہنگ پروگراموں پر مشتمل فاصلاتی ذریعہ تعلیم کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے۔ بین الاقوامی تعاون و اشتراک سے شروع کیا جانے والا فاصلاتی ذریعہ تعلیم ملک میں موجود اسی طرز کے دیگر پروگراموں سے یکسر مختلف اور زیادہ کار آمد ہو گا۔ کیونکہ جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نصاب کی بدولت یہ پروگرام بین الاقوامی معیار کی فاصلاتی تعلیم فراہم کرے گا۔ یونیورسٹی فوری طور پر تمام شعبہ جات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر فاصلاتی تعلیمی پروگرام متعارف کرا چکی ہے [1]

یونیورسٹی کے شعبہ جات

یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا میں رائج علوم سے متعلقہ کئی شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے: -

شعبہ فزکس

علم طبعیات یا فزکس کے میدان میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے یونیورسٹی میں یہ شعبہ عرصہ دراز سے قائم ہے۔ جس میں خاطر خواہ کام ہو رہا ہے اور ہر سال بہت سارے طلبہ و طالبات سائنس کے اس شعبے سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔

شعبہ انجینئری

یونیورسٹی میں کالج آف انجینئری کے ذریعے مندرجہ ذیل انجینئری کے شعبہ جات میں بی ایس سی کروائی جاتی ہے جس سے پہلے انٹری ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور میرٹ کے مطابق داخلے کیے جاتے ہیں۔ داخلہ کی اہلیت ایف ایس سی ہوتی ہے: -

شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی

اسلامیہ یونیورسٹی میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کا کام بطریق احسن ہو رہا ہے اور مندرجہ ذیل کورسز کروائے جا رہے ہیں: -

شعبہ سرائیکی

اس یونیورسٹی میں سرائیکی زبان کا شعبہ 1989ء میں قائم کیا گیا جس کا مقصد سرائیکی زبان، ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا مہیا کرنا تھا۔ اسی طرح اسلامیہ یونیورسٹی سے ملحقہ ایس ای کالج بہاولپور میں بھی سرائیکی کا شعبہ قائم کیا گیا۔ اس شعبے کے موجودہ سربراہ جاوید حسان چانڈیو ہیں۔ جبکہ دلشاد کلانچوی مرحوم کا شمار بھی سابقہ اکابرین میں ہوتا ہے۔

حوالہ جات