پیر شاہ جیونہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قبر پیر شاہ جیونہ

سیدمحبوب عالم المعروف پیر شاہ جیونہجن کی نسبت بخاری نقوی سہروردی ہے[1]

مسجد پیر شاہ جیونہ

پیر شاہ جیونہ کروڑی بخاری سہروردی آپ سادات بخاری سے تعلق رکھتے تھے، آپ مادر زاد ولی اور عارف کامل تھے، عمر عزیز تبلیغ اسلام اور خدمت دین میں ہی بسر کی، آپ زبردست شخصیت کے مالک تھے۔

ولادت[ترمیم]

پیر شاہ جیونہ کی ولادت 895ھ بمطابق 1486ء قنوج ہندوستان سلطان لودھی کے زمانے میں ہوئی

نام و نسب[ترمیم]

سید محبوب عالم والد کا نام سید صدر الدین شاہ کبیر تھا جو ایک جید عالمِ دین اور سکندر لودھی کے مشاہیر میں سے تھے۔ ان کے بزرگ سید احمد کبیر ثانی جو مخدوم جہانیاں جہاں گشت کی اولاد میں سے تھے شاہ جیونہ کے والد اچ شریف سے قنوج چلے گئے تھے۔ آپ اپنے والد کے تیسرے فرزند تھے، ، اکیس سال تک والدین کی سرپرستی میں رہے پھر دہلی تشریف لائے اور نصیر الدین چراغ دہلی چشتی کے مزار پر حاضری دی وہاں سے ہدایت پاکر پنجاب تشریف لائے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

پیر شاہ جیونہ کروڑیہ نے علم ظاہر و باطن کی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا اورخرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ آپ مادر زاد ولی تھے۔

عملی زندگی[ترمیم]

آپ نے زندگی کا بہت بڑا حصہ تقریباََ 66 سال قنوج میں گزارے آپ شاہان مسند سکندر لودھی، ابراہیم لودھی، ظہیر الدین بابر، نصیر الدین ہمایوں اور جلال الدین اکبر کا عہد دیکھا ہے۔ آپ نے قنوج کے علاقہ میں تبلیغ دین کے لیے دن رات کوشش کی۔ آپ کے نام سے منسوب ایک قصبہ ”جیون“ ضلع قنوج کی تحصیل جلال آباد میں موجود ہے۔ تحصیل جلال آباد بھی شاہ جیونہ کے بزرگ مخدوم جلال الدین جہانیاں جہاں گشت کے نام سے منسوب ہے۔ ضلع قنوج میں سادات شاہ جیونہ کے اجداد کے بسائے ہوئے قصبات سرائے میاں، اونچہ (اوچہ یا اوچ)، بیبیا جلال پور، مخدوم پور، لال پور (سادات شاہ جیونہ کے ایک بزرگ لال بخاری کے نام سے منسوب) آج تک موجود ہیں۔ اسی طرح مخدوم جلال الدین جہانیاں جہاں گشت کی مسجد قنوج شہر میں موجود ہے۔ سرائے میراں (قنوج) وہ قصبہ ہے جہاں حضرت پیر شاہ جیونہ باہر سے آئے ہوئے۔ طلبہ کو درس قرآن و حدیث دیا کرتے تھے۔

ہم عصر بزرگان[ترمیم]

پیر شاہ جیونہ نے جد امجد مخدوم جلال الدین سرخ بخاری خاندان غلامان کے عہد میں تبلیغ دین کی خاطر برصغیر ہند میں تشریف لائے۔ اس وقت ان کے ہم عصر اور قریبی احباب غوث بہاوالحق زکریا ملتانی، خواجہ فرید الدین گنج شکر اور شہباز قلندر تھے۔ اسی طرح پیر شاہ جیونہ کے ایک اور بزرگ مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے خلیفہ مجدد الف ثانی کے جدالمجد امام رفیع الدین تھے [2]

شاہ جیونہ آمد[ترمیم]

پیر شاہ جیونہ تبلیغ دین کے لیے قنوج (بھارت) سے پیل پدھراڑ کے علاقہ میں آئے یہاں سے آپ جھنگ میں 961ھ بمطابق 1554ء کو موجودہ قصبہ شاہ جیونہ میں سید جلال الدین سرخ بخاری کے حکم پرآئے

کروڑیہ کی نسبت[ترمیم]

آپ کو سورہ مزمل سے خصوصی طور پر عشق تھا۔ آپ سورہ مزمل کی تعلیمات سے عوام الناس کو روشناس بھی کراتے اور اس سورہ مبارکہ کا ورد بھی کرتے رہتے تھے۔ روایت ہے کہ آپ نے سورہ مزمل کا کروڑ دفعہ ورد کیا جس کی وجہ سے آپ ”پیر کروڑیہ“ مشہور ہو گئے۔

وفات[ترمیم]

سید محبوب عالم 76 برس کی عمر میں 971ھ بمطابق 1563ء کو وفات پا گئے ان کا مزار شاہ جیونہ جھنگ میں ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پیر شاہ جیونہ روحانیت کے مینارِنور
  2. تاریخ دعوت و عزیمت مولفہ سید ابوالحسن علی ندوی
  3. یادگار سہروردیہ،ابو الفیض قلندر علی سہرردی،صفحہ 696،حسیب خاور سہروردی لاہور