چندا کوچر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چندا کوچر
چندا کوچر

معلومات شخصیت
پیدائش 17 نومبر 1961ء (عمر 58 سال)
جودھ پور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش جے پور
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر دیپک کوچر
اولاد 2
تعداد اولاد 2   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
ڈائریکٹر   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
اپریل 2006 
چیف ایگزیکٹو آفیسر   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
مئی 2009 
عملی زندگی
پیشہ چیف ایگزیکیٹیو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر، آئی سی آئی سی آئی بینک
اعزازات

چندا کوچر (پیدائش: 17 نومبر، 1961ء) بھارت کے آئی سی آئی سی آئی بینک کی چیف ایگزیکیٹیو آفیسر (سی ای او) اور مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) ہیں۔ انہیں بھارت میں ری ٹیل بینک کاری کی تشکیل کی وجہ سے شہرت ملی ہے۔[2][3][4]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

کوچر جودھ پور، راجستھان میں پیدا ہوئیں اور ان کی پرورش جے پور میں ہوئی۔ ان کی تعلیم سینٹ اینجیلا صوفیا اسکول، چے پور میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ ممبئی چلی گئی، جہاں جے ہند کالج سے اس نے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ 1982ء میں ڈگری کے بعد وہ لاگت کے کھاتہ جات (cost accounts) کا مطالعہ کیا اور بعد میں ماسٹرز کی ڈگری مینیجمنٹ میں جمنالال بجاج انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ اسٹڈیز، ممبئی سے حاصل کی۔ انہیں ورکہارڈ سونے کا تمغا برائے مینیجمنٹ تعلیم (Wockhardt Gold Medal for Excellence in Management Studies) حاصل ہوا۔ اسی طرح انہیں جے این بوس سونے کا تمغا برائے لاگت کے کھاتہ جات (J. N. Bose Gold Medal in Cost Accountancy) بھی حاصل ہوا۔[5]

کیرئر[ترمیم]

1984–1993[ترمیم]

1984ء میں کوچر انڈسٹریئل کریڈٹ اینڈ اِنویسٹمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (آئی سی آئی سی آئی) میں شامل ہوئیں۔[6] ابتدا میں وہ مینیجمنٹ ٹرینی (انتظامی زیر تربیت) رہی۔ آئی سی آئی سی آئی کے شروعاتی سال وہ پروجکٹ تجزیہ اور نگرانی کی ذمے داریاں نبھاتی تھیں اور کئی صنعتی پروجکٹوں مثلاً کپڑا، کاغذ اور سیمینٹ کا جائزہ لیتی تھی۔[5]

1993–2009[ترمیم]

1990ء کے دہے میں کوچر آئی سی آئی سی آئی کی تاسیس میں پیش پیش رہیں۔ 1993ء میں وہ ایک کلیدی ٹیم کی رکن کے طور پر منتخب ہوئیں جس کی ذمے داری بینک کا قیام تھی۔ 1994ء میں انہیں اسسٹنٹ جنرل مینیجر کے طور پر ترقی دی گئی اور 1996ء میں ڈپٹی جنرل مینیجر بنا دیا۔ اسی سال کوچر کو نو تشکیل شدہ آئی سی آئی سی آئی انفراسٹرکچر انڈسٹری گروپ کی قیادت تفویض ہوئی، جس کا مقصد ایک موقوفہ صنعتی مہارت بجلی، دورمواصلات اور حمل و نقل سے متعلق قائم ہو۔ 1998ء میں انہیں جنرل مینیجر کے طور پر ترقی دی گئی اور وہ آئی سی آئی سی آئی بینک کے اہم گاہک گروپ کی قیادت دیکھنے لگیں جو آئی سی آئی سی آئی کے 200 اعظم ترین گاہکوں سے تعلقات کو دیکھتا ہے۔ 1999ء میں وہ حکمت عملی (اسٹریٹیجی) اور ای کامرس ڈیویژنوں کو دیکھ رہی تھیں۔ کوچر کی قیادت میں آئی سی آئی سی آئی 2000ء میں پہلی بار ری ٹیل کاروبارپر توجہ کرنے لگا، جس میں ٹیکنالوجی، ایجادات، پروسیس انجینئری اور تقسیم کی توسیع اور پیمائش کو شامل کیا گیا تھا۔ اپریل 2001ء میں وہ ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر بنی۔[5] 2006ء میں کوچر کو آئی سی آئی سی آئی بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر بنایا گیا۔ 2006- 07 میں وہ بین الاقوامی اور بینک کے بڑے کاروباری اداروں کا دیکھ ریکھ کرنے لگی۔ 2007ء سے 2009ء تک وہ بینک کی چیف فائنانشیل آفائنانشیل آفیسر (سی ایف او) اور جوائنٹ مینیجنگ ڈائریکٹر (جے ایم ڈی) رہیں۔[7]

2009ء تا حال[ترمیم]

2009ء میں کوچر چیف ایگزیکیٹیو آفیسر (سی ای او) اور مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کے طور پر مقرر ہوئیں اور وہ بینک کے بھارت اور بیرون ملک مختلف آپریشنوں کی ذمے دار بنا دی گئی۔[8] وہ زیادہ بینک کے ذیلی اداروں کے بورڈوں کی قیادت کرتی ہیں، جن میں بھارت کی سرکردہ نجی شعبے کی زندگی اور عمومی بیمہ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

کوچر بھارت جابان کاروباری قائدین فورم (India–Japan Business Leaders Forum) اور ریاستہائے متحدہ بھارت چیف ایگزیکیٹیو فورم (US-India CEO Forum) کی رکن ہیں۔[9] وہ بین الاقوامی مالیتی کانفرس (International Monetary Conference) کی صدر ہیں۔ یہ ادارہ ہر سال تقریبًا 70 سب سے بڑے مالیاتی اداروں کے 30 ممالک چیف ایگزیکیٹیوز کو یکجا کرتا ہے، جن کے ساتھ سرکاری اداروں کے افسر بھی شامل ہوتے ہیں۔[10] وہ انڈین بینکز ایسوسی ایشن کی ڈپتی چیئرپرسن بھی ہیں اور انڈین کونسل فار ریسرچ آن اکنامک ریلیشنز، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیکیوریٹیز مارکٹ اینڈ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فائنانس کے بورڈز کا حصہ ہیں۔ کوچر وزیر اعظم کے کونسل آن ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، بورڈ آف ٹریڈ اینڈ ہائی لیول کمیٹی آن فائناشیل انفراسٹرکچر کی رکن رہ چکی ہیں۔ وہ ورلڈ اکنامک فورم کی 2011ء کی سالانہ بیٹھک کی قیادت کر چکی ہیں۔

کوچر کو کینیڈا کی کارلٹن یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ 2014ء میں حاصل ہوا۔[11] انہیں حکومت ہند کی طرف سے اعلٰی ترین شہری اعزاز پدم بھوشن 2011ء میں دیا گیا۔[12]

شہرت[ترمیم]

کوچر قیادت میں آئی سی آئی سی آئی بینک بھارت کا بہترین ری ٹیل بینک ایوارڈ 2001ء، 2003ء، 2004ء اور 2005ء میں حاصل کر پایا۔ اس کے علاوہ 2002ء میں ری ٹیل بینک کاری میں افضلیت (Excellence in Retail Banking Award) میں حاصل کیا تھا۔ یہ دونوں اعزاز دی ایشین بینکر کی جانب سے دیے گئے۔ کوچر مسلسل فارچون کی سب سے بااثر کاروباری خواتین کی فہرست میں 2005ء سے مسلسل آتی رہی ہے۔ 2009ء میں وہ 20 ویں نمبر پر فوربز کی دنیا کی سب سے بااثر خواتین کی فہرست میں پہلی بار آئی۔[13] بعد میں 2010ء میں وہ 10 ویں مقام پر آئی۔[14] 2011ء میں وہ بزنس ٹوڈے کی سب سے موثر خاتون – ہال آف فیم کا حصہ بنی۔[15] 2011ء ہی میں وہ بلومبرگ مارکٹز کی 50 سب سے بااثر لوگ عالمی مالیاتی فہرست کا حصہ بنی۔[16] چندا کوچر کو ایسوچیم لیڈیز ممبئی ویمین آف ڈیکیڈ اچیورز ایوارڈ 2 جنوری 2014ء میں عطا کیا گیا تھا۔[17]

اسی سال کوچر کو اے بی ایل ایف اثروالی خاتون ایوارڈ (بھارت) ("ABLF Woman of Power Award (India)") ایشین بزنس لیڈرشپ فورم ایوارڈر کے دوران پیش کیا گیا تھا۔[18]

کوچر کو فوربز کی دنیا کی 100 بااثر خواتین 2013ء میں بھارت کی سب سے بااثر عورت شمار کیا تھا۔[19] کوچر کو انڈیا ٹوڈے کی بھارت کی 25 سب سے موثر کی فہرست میں متواتر تین سالوں تک شامل کیا گیا تھا۔[20]

کوچر کو ٹائم رسالے کی دنیا بھر کے 100 سب سے بااثر لوگوں کی فہرست میں 2015ء میں شامل کیا گیا تھا۔[21]

اسی سال کوچر کو فارچون کی ایشیا پیسیفیک کی 100 سب سے موثر خواتین کی فہرست میں اول نمبر پر مقام دیا گیا تھا۔[22]

کوچر کو انڈیا ٹوڈے کی ہائی اینڈ مائٹی پاور لسٹ 2016 میں 40 واں مقام دیا گیا۔[23] جبکہ اسی سال انہیں فوربز ایشیا 50 پاور بزنس ویمین لسٹ میں 22 واں مقام ملا تھا۔[24]

نجی زندگی[ترمیم]

کوچر ممبئی میں رہتی ہیں۔ وہ دیپک کوچر کی بیوی ہیں، [25] جو ہوائی توانائی کے صنعت کار ان کے کاروباری تعلیمی ادارے کے ہم درس ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں: ایک لڑکی آرتی[26] اور لڑکا ارجن۔[5][27][28][29]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.thefamouspeople.com/profiles/chanda-kochhar-34559.php
  2. "India's ICICI names Chanda Kochhar CEO from May 09". Uk.reuters.com (2008-12-19). Retrieved 2012-01-29.
  3. Chanda Kochhar to head ICICI Bank. Business Standard (2008-12-19). Retrieved 2012-01-29.
  4. [1]. The Economic Times (2015-04-16). Retrieved 2012-01-29.
  5. ^ ا ب پ ت Ms. Chanda Kochhar, Joint Managing Director, ICICI Bank Limited. ICICI Bank official site
  6. ICICI was merged into its daughter project ICICI Bank in 2002.
  7. "Chanda Kochhar's Success Story"۔
  8. "Chanda Kochhar appointed ICICI Bank CEO from May '09"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. "Chanda Kochhar - India Conference at Harvard"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. "MOST POWERFUL WOMEN: ASIA-PACIFIC"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. "Chanda Kochhar Gets Honorary Degree from Canadian University"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. "Azim Premji, Chanda Kochhar win Padma Award"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "The 100 Most Powerful Women"۔ Forbes۔ 19 اگست 2009۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  14. "Indra Nooyi, Chanda Kochhar among most powerful biz women: Fortune"۔ The Times of India۔ 29 ستمبر 2010۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2011۔
  15. "The most powerful women in Indian business"۔ Business Today۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2011۔
  16. "The 50 Most Influential People in Global Finance"۔ Bloomberg Markets۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2011۔
  17. "Director's Profile: Mrs. Chanda Kochhar, MD & CEO"۔ ICICI Bank۔
  18. "ABLF Awards 2011 Winners"۔ Asian Business Leadership Forum Awards۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2012۔
  19. "The World's 100 Most Powerful Women 2013'"۔ Forbes۔ مئی 2013۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  20. "Fortune names ICICI's Chanda Kochhar as most-powerful Indian woman in business"۔ India Today۔ 16 نومبر 2012۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  21. "The 100 Most Influential People"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2015۔
  22. "The 100 Most Influential People"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2015۔
  23. "High and Mighty rankings"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2016۔
  24. "Forbes Honors 50 Power Businesswomen in Asia"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اپریل 2016۔
  25. Deepak Kochhar | Profile | NuPower Renewables
  26. "Deeepak Kochhar's daughter Aarti set to marry beau Aditya"۔ 19 اکتوبر 2016۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  27. Naazneen Karmali (19 اگست 2009)۔ "The 100 Most Powerful Women"۔ Forbes۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-08-20۔
  28. Chanda Kochhar's daughter Aarti set to marry beau Aditya - The Economic Times
  29. Deepak Virendra Kochhar: Executive Profile & Biography - Bloomberg