چھایا واد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

چھایا واد (ہندی: छायावाद؛ اردو میں رومانیت ہے، لفظی معنی "سایہ") سے مراد ہندی ادب، بالخصوص ہندی شاعری میں جدید رومانیت کا عہد (1922ء–1938ء) ہے۔ ہندی رومانی ادب دراصل دویدی یوگ کے بعد آیا۔[1][2] پہلے بنگالی ادب میں رابندر ناتھ ٹیگور کی شاعری سے رومانیت شروع ہوئی، 1913ء میں گیتانجلی پر نوبل انعام ملا۔ اس کا اثر جدید ہندی ادب پر پڑا۔ میتھلی شرن گپت کی جھنکار 1914ء سے 1917ء کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ اس پر ٹیگور کا اثر ہے۔ رومانی ادب کے مشہور شاعر سیارام شرن گپت، مُکُٹ دھر پانڈے، موریہ وجئے اور اناتھ کے کلام بھی انگریزی زبان کی رومانٹک شاعری سے متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ بھارتیندو ہرش چندر کے عہد کے بعد مہاویر پرساد دویدی کے دور میں زبان جدیدیت سے متاثر ہو چکی تھی۔ ہندی کا رومانی روپ محدود نہیں رہا تھا۔ قدیم سنسکرت چھندون، ویدون اپنیشدوں اور کالی داس اور عہد وسطیٰ کے بھگتی اور نگارس (حسن و عشقیہ شاعری) سے ہندی شاعری اثر قبول کرنے لگی تھی۔ بودھی فلسفہ، صوفیانہ ادب اور انگریزی ادب کا بھی اثر ادب کی زندگی کے ہر پہلو کا جز بن چکا تھا۔ عروض زمان و مکان کے شرائط و قیود توڑ کر آزاد ہو رہا تھا۔ فرقہ وارانہ جتھا بندی سے ہٹ کر قومی ثقافت کو اپنایا جا رہا تھا۔ یہ ادبی بیداری اور ہمہ جہت ترقی کو دور تھا۔ جو بھارتندویگ سے شروع ہوتا ہے۔ ذخیرہ الفاظ میں اضافہ، چست بندش، زبان کی جدیدیت، رنج و غم کا اظہار اس دور کی خصوصیات ہیں۔ نرگن ادب میں انفرادیت تھی۔ چھایا واد نرگن کی طرح ویراگ اور ترک دنیا نہیں تھا بلکہ اصلاحی و تعلیمی ادب تھا۔ رومانیت ہندی کے نئے سگن ادب کا نمونہ تھا، عہد وسطیٰ کا سگن انا کو لے کر چلا تھا اور چھایا واد فرد کے اپنے احساس کی اگاہی بڑھاتا تھا۔ وہ اپنی طرح سارے جہاں کے احساس کو اپنے الفاظ میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ آپ بیتی اور جگ بیتی میں فرق نہ رہے۔ رومانی ادب میں ضمیر کی آواز کو خوبصورت الفاظ میں اس طرح مؤثر طریقہ پر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ساری دنیا کی آواز معلوم ہونے لگے۔ اس ادب میں فرد پر گزرنے والی قلبی کیفیت کو پیش کیا جاتا ہے۔ شاعر جس طرح سے ان احساسات کو پیش کرتا ہے اسی سے اس کے فن کا اظہار ہوتا ہے۔ اس ادب میں فن ذوق عمل سے عبارت ہوتا ہے۔ جے شنکر پرساد، سوریاکانت تریپاٹھی نٓرالا، سمترا نندن پنت، مہادیوی ورما کے عہد میں رومانیت نے عظیم شاعری کا روپ دھار لیا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Hindi Language
  2. Historical Development of Hindi Archived 14 اکتوبر 2007 at the Wayback Machine University of Illinois at Urbana-Champaign
  3. Chhayavaadi Movement