چھتیس راج کلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

چھتیس راج کلی (شاہی خاندان) مسلمانوں کی آمد کے وقت کابل سے کامروپ تک اور کشمیر سے کوکن تک کی تمام سلطنتیں راجپوتوں کی تھیں۔ جن راجپوت خاندانوں نے حکومت کی ان کی تعداد چھتیس بتائی جاتی ہے۔ چندر بروے نے اس تعداد کو پہلے پہل بیان کیا اور پنڈٹ کلہیان نے ’ترنگی راج‘ میں اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ (عبد المجید سالک۔ مسلم ثقافت ہندوستان میں، 9) ہمارا ماخذ جیمز ٹاڈ کی 'تاریخِ راجستھان' ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے ان خاندانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کیوں کہ بعض خاندانوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ بقول اسمتھ کے ہرش کی وفات کے بعد سے مسلمانوں کی آمد تک یعنی اندازہً ساتویں صدی عیسویں سے لے کر بارہویں صدی عیسویں تک کے زمانے کو راجپوتوں کا دور کہا جاسکتا ہے۔ چھتیس راج کلی میں برصغیر کا پہلا تاریخی خاندان موریہ خاندان بھی شامل ہے۔ جب کہ اس فہرست میں وردھن خاندان جس کا نامور حکمران ہرش تھا شامل نہیں ہے۔ اور تو اور گپتااور گوجر خاندان شامل نہیں ہیں۔ حالانکہ یہ خاندان بھی غیر ملکی تھی اور انہوں نے ہندو مذہب کی ترقی اور ترویح میں اہم کردار ادا کیا۔ خاص کر گپتاخاندان کے دور میں ہندو مذہب اپنے عروج پرپہنچا۔ چھیس راج کلی حسب ذیل ہیں

(1) سیسودیا[ترمیم]

ان میں سب سے علیٰ خاندان میواڑ کے رانا ہیں، جو سیسودیا کہلاتے ہیں اور تمام ہنود اس بارے میں متفق ہیں کہ یہ رام کی نسل سے ہیں اور رام کے وارث ہیں۔ بالاتفاق انہیں ہندوؤں کا سورج کہتے ہیں اور نہ صرف ان کا بلکہ ان کے دارلریاست کا بھی احترام کرتے ہیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 229۔231) ان کی چوہیس شاخیں ہیں جو جسب ذیل ہیں۔ اہاریا، منگولیا، سیسودیا، پیپارا، کیلم، گہور، دھورنیا، گودہ، مگراسا، بہلا، کم کوٹک، کوٹیکا، سورہ، ادہر، اوسیبا، نروپ، ندوریا، ندہوتا، اوجگرا، کوٹ چڑا، دوسا، بیٹی وارا، پاہا، پوروٹ۔ ان میں سے چند ہی باقی ہیں اور اکثر دوسروں میں جذب ہو گئے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 97)

(2) راٹھور[ترمیم]

راٹھوروں کے شجرنسب میں یہ رام کے لڑکے رام کے لڑکے کش کے اخلاف ہیں، اس طرح یہ سورج بنسی ہیں۔ لیکن ان کے کبشر (نسب داں) اس سے منکر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اگرچہ کش کے اخلاف نہیں ہیں، لیکن یہ کیوشت ہیں یعنی سورج بنسی اور یہ ویٹ (شیطان) کی لڑکی سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ قنوج پر حکمران تھے اور بعد میں اور بعد میں پنے ایک راجا سوجی کی نسبت سوجی کہلائے۔ ان سا دلیر اور بہادر راجپوتوں میں کم ہی ہیں۔ مغلیہ لشکر میں پجاس ہزار راٹھور تھے۔ ان کی شاخیں حسب ذیل ہیں۔ دھاندل، بدھیل، چکت، دوہریا، کوکرا، بددورا، چھاجبرا، رام دیو، کبیریا، ہتوندیا، ملاوت، سون دو، کٹیچا، میوہولی، گوگا دیوا، مہی چاجی، سنگا، مورسیا، جوت سیا، جورا وغیرہ۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 100 تا 101)

(3) کشواہہ[ترمیم]

کشواہہ سورج بنسی ہیں اور رام کے لڑکے کش کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کی کثیر تعداد مغلوں کے لشکر میں ملازم تھی اور مغلوں کے فتوحات میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 101)

(4) بلا[ترمیم]

قوم بلا کا کہنا ہے کہ ہم سورج بنسی ہیں اور رام کے لڑکے لو کی اولاد ہیں۔ بلا یا بہا ہمارا مورث اعلیٰ لو کے اولاد میں سے ہے۔ نیز ان دعویٰ ہے کہ وہ بالہک پوتر ہیں جو جو ارور (سندھ) کا حاکم تھا۔ مگر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ابتدا ہی سے ساراشتر میں آباد تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پہلے وادی سندھ میں آباد تھے۔ یہ قوم تیرویں صدی میں بہت طاقت ور تھی اور اب بھی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 126)

(5) چاوڑا یا چارا[ترمیم]

یہ سورج بنسی ہیں اور یہ قدیم زمانے میں بہت مشہور و معروف تھے۔ ان کی ریاست مہاراشتر میں تھی۔ جس کے دارلریاست کا نام دیوبند تھا۔ بعد میں انہوں نے انہل پٹن کو آباد کیا جو بلب پورا مشہور کیا۔ عرب اس کو بلہارا یا بلہمی کہتے تھے۔ محمود غزنوی نے اس کو تاراج کیا اور سابقہ خاندان کے ایک فرد کو راجا بنا دیا، جو وابشلم کے نام سے مشہور ہوا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 115 تا 116)

(6) برگوجر[ترمیم]

یہ سورج بنسی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ رام کے لڑکے لو کی اولاد میں سے ہیں۔ دھوندھار اور راجوڑی میں ان کی ریاستیں تھیں۔ راج گڑھ اور الور بھی ان کے تصرف میں تھا۔ بعد میں کھچواہا قوم نے انہیں وہاں سے خارج کر دیا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 131۔ 132)

(7) بئیس[ترمیم]

یہ غالباً سورج بنسی ہیں اور چھتیس راج کلی میں سے ہیں۔ لیکن کثیر چند اور کمار پال کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ ان کے نام سے ایک ضلع بیسوارہ دوآبہ گنگا اور جمنا میں واقع ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 132)

(8)کیرل[ترمیم]

یہ سورج بنسی تھے اور بارہویں صدی کی فہرست میں داخل تھے۔ اس قوم کی کچھ اور تفصیل معلوم نہیں ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 55)

(9) یادو[ترمیم]

رگ وید میں یادو قبیلے کا ذکر آیا ہے۔ جس نے بھارت قبیلے اور اس کے حلیف ستجنی قبیلے کے خلاف ایک اتحاد بنایا تھا اور اس کے خلاف جنگ کی تھی اور یادو قبیلے کو شکست ہوئی۔ یادو کرشن کا خطاب ہے اور یادو کا مورث 1علیٰ کشن چند ہے۔ (دیکھے چندر بنسی) یادو کی آٹھ مسیچی یعنی شاخیں ہیں۔، یادو، بھٹی، جریجا، سومیجا، مودیجا، بدمون، بدوا، سوہا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 99)

(10) بھٹی[ترمیم]

بالاالذکر ان کا ذکر ہوچکا ہے کہ یہ یادو کی شاخ ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پنجاب پر حکومت کرنے سے پہلے گجنی (غزنی) و زابل پر حکومت کی تھی۔ (دیکھے چندر بنسی) ان کا چہرہ یہودیوں کی طرح ہوتا ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد دوم، 338)

(11) جاریجا[ترمیم]

یہ بھی یادو کی شاخ ہیں اور سندھ کے جریجا جو مسلمان ہوچکے ہیں، وہ اب اپنی نسبت جمشید سے کرنے لگے ہیں اور ہری کرشن جس کا خطاب سیام یا ساما تھا کی نسبت سے سیام یا ساما کہلاتے تھے ترک کر اب جام کہلانے لگے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 99) سمیجا بھی ان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ (دیکھے چندر بنسی)

(12) توار یا تنور[ترمیم]

یہ خاندان بھی یادو کی ایک شاخ ہے۔ اندرپست جو ویران پڑا تھا اسے اننگ پال توار نے آباد کیا تھا۔ اس خاندان کا سب سے مشہور راجا بکرماجیت تھا جس نے 65 ق م میں بکرمی سمیت کا سن جاری کیا تھا۔ اس خاندان کا آخری راجا بھی اننگ پال تھا، جس کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اس لیے اس نے اپنے نواسے پرتھوی راج چوہان کو تخت پر بیٹھایا تھا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 99) پرتھوی راج چوہان نے محمد غوری سے شکست کھائی تھی اور خود بھی مارا گیا۔

(13) چوہان[ترمیم]

چہومن یا چوہان یہ اگنی کل میں سے ہیں ان کی ریاست پہلے پہل اجمیر میں قائم ہوئی تھی۔ پرٹھوی راج چوہان اسی خاندان سے تھا۔ اس کا مقابلہ سلطان محمد غوری سے ہوا۔ پہلی جنگ میں اس نے سلطان کو شکست دی مگر یہ دوسری لڑائی میں اس نے سلطان محمد غوری سے شکست کھائی اور خود بھی مارا گیا۔ چوہان کی شاخیں حسب ذیل ہیں۔ چوہان، ہارا، کھچی، سونگرا، دیورا، پتبہ، سانچورا، گول وال، بہدوریہ، نربان، مالھن، پوربیا، سورا، ادریچا، سنکرااٹچا، موریچا، ملیچا، ٹسرا، کیسروی، روسیاہ، چندو، نکومپا، بہادر، بن کٹ۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 110 تا 114)

(14) سولنکی یا چالک[ترمیم]

یہ بھی اگنی کل سے تعلق رکھتے ہی اور روایت کے مطابق یہ چالک یعنی ہتھلی سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے یہ چالک کہلاتے ہیں۔ ان کی روائیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پہلے لاہور میں آباد تھے اور بعد میں یہ ملتان تک پھیل گئے۔ کیلن (ملیبار) میں بھی ان کی ریاست تھی اور بعد میں انہوں نے انہل وارہ پر اپنی حکومت قائم کی۔ محمود غزنی ان پر حملہ آور ہوا۔ شہاب الدین غوری نے ان کی حکومت کو ختم کیا۔ لنگاہا جو مسلمان تھے اور انہوں نے ملتان پر حکمرانی کی۔ وہ ان کی ایک شاخ ہیں۔ ان کی سولہ شاخیں حسب ذیل ہیں۔ بگھیلا، بیر پورا، بہیلا، بھرٹیا، کلاچا، لنگاہا، کولامو، توگرو، پریگو، سرگیا، سربھیا، راؤکا، رانی کا، کھوریڑا، ٹانیٹا، الٹکا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 110 تا 114)

(15) باگھیلا[ترمیم]

یہ سولنگیوں کی ایک شاخ ہے ان کے نام سے ایک خطہ کا نام بگھیل کھنڈ مشہور ہوا۔ یہاں کی ریاست تھی۔ اس کے علاوہ اور کئی چھوٹی ریاستیں اس خاندان کی تھیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 113)

(16) پرمار یا پنوار[ترمیم]

پرمار یا پنوار کا تعلق اگنی کل سے ہے۔ اور اگنی کل میں سے سب سے اعلیٰ ہیں۔ یہ اگنی کل کیا تمام رجپوتوں میں بہادر اور شجاع ہیں۔ پورس جس نے سکندر کا مقابلہ کیا اس کا تعلق بھی پرمار سے تھا۔ مگر ان کی سلطنت بہت وسیع رہی ہے۔ زمانہ قدیم سے ایک مثل مشہور ہے کہ دنیا پرمار کی ہے، ان کی ریاستوں کی نسبت زیادہ ان کی ریاستیں زیادہ وسیع رقبہ پر پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کی حکومتیں میسر، دھار، منڈو، اوجین، چندر بھاگا، چتور، ابو چنرورتی، مؤ، میدانہ، پرماتی، امرکوٹ، بھکر، لوور اور پٹن میں ان کی ریاستیں رہی ہیں یا انہوں فتح کیا تھا۔ اس کی چونتس شاخیں ہیں جو حسب ذیل ہیں۔ موری، سوڈا، سانکھلا، کھیر، اڑمر، سومر، بہایلا، مہپات، بلہر، کببا، اوسٹ، رہر، دہوندو، سوروٹیہ، ہورایر، چیونڈا، کہیچی، سگرا، برکوٹا، پونی، سمپل، بہابہا، کلپوسر، کالما، کوہیلا، پوپا، کھوریا، دھونڈ، دیبا، برہر، جیب را، پوسرا، دھونتا، ری کموا، ٹیکا۔ ان میں سے اکثر مسلمان ہو گئے ہیں اور دریائے سندھ کے اطراف میں آباد ہیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 103 تا (106

(17) موری[ترمیم]

چندر گپت اس خاندان کا بانی تھا۔ جس نے یونانیوں سے حکومت حاصل کی تھی۔ اس خاندان کا سب سے نامور حکمران اشوک گزرا ہے۔ (دیکھے موریہ خاندان) شجروں میں اسے پرمار کی شاخ بتایا ہے، جب کہ قدیم کتبوں میں اسے تکشک کی نسل سے بتایا گیا ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 105)

(18) سوڈا[ترمیم]

یہ بھی پرمار کی شاخ ہیں،یونانیوں نے انہیں سوگدی لکھا۔ یہ ریگستان (تھر) میں تخت نشین تھے اور انہوں نے سکندر کے سپاہیوں کو سندھ کے علاقہ میں بہت تنگ کیا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 105)

(19) کھیر[ترمیم]

یہ بھی پرمار کی شاخ ہیں،ان کی ریاست کہرالو میں تھی۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 106)

(20) بہایلا[ترمیم]

یہ بھی پرمار کی شاخ ہیں،چندرورتی کے راجا اس خاندان سے تھے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 106)

(21) سومر[ترمیم]

یہ بھی پرمار کی شاخ ہیں،یہ ریگستان میں آباد تھے لیکن اب مسلمان ہیں اور انہوں نے سندھ پر حکومت کی۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 106)

(22) اومر[ترمیم]

یہ بھی پرمار کی شاخ ہیں، یہ زمانہ قدم سے ریگستان میں آباد ہیں اور امر کوٹ ان کا دارلریاست ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 106)

(23) اوسٹ[ترمیم]

یہ بھی پرمار کی شاخ ہیں،اوست وارا کے راجا اس خاندان سے تھے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 106)

(24) پرتھیار یا پڑہار[ترمیم]

یہ اگنی کل میں سب سے کم درجہ کے ہیں۔ ان کی ریاست منڈور جس کو مندوری بھی کہتے ہیں میں واقع تھی۔ راٹھوروں نے ان سے ان کی ریاست چھین لی تھی۔ اس کی بارہ شاخیں ہیں جس میں اندو و سندھل زیادہ مشہور ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 1141 تا 115) یہ گوجروں کی ایک شاخ ہے اور ان کی ریاست قنوج میں تھی اور ان سے گہواروں نے چھین لی۔ (ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ 229، 230)

(25) تکشک[ترمیم]

(دیکھے ناگ بنسی)

(26) کاٹھی[ترمیم]

ان کے نام سے ہی ساراشٹر کا نام سے بدل کر کاٹھیاوار ہو گیا۔ ان کا چہرہ مذہب اور اطوار سیتھا والوں کی طرح ہیں۔ ان کی روایات کے مطابق وہ پہلے مشرقی سندھ کی وادی میں رہائش پزیر تھے اور سکندر سے بھی ان کی لڑائی ہوئی تھی۔ عہد قدیم کی طرح کاٹھی اب بھی سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ دماغ سوزی کو پسند نہیں کرتے ہیں، اس لیے یہ محنت و مزدوری اور سپہ گیری کرتے ہیں۔ کاتھی پہلے گھوڑے کی سواری کی سواری کو پسند کرتے تھے اور ان کا خاص ہتھیار برچھی ہوتی تھی جس سے یہ قتل غارت گیری کیا کرتے تھے۔ یہ راجپوتوں سے مختلف خصلت اور عادات کے مالک ہیں اور راجپوتوں سے زیادہ بے رحم ہیں، لیکن دلیری میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں۔ ان سی قدآوری کسی اور قوم میں دیکھنے میں نہیں آتی تھی اور چھ فٹ سے بھی زیادہ قدآور دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان کے بال باریک اور آنکھیں نیلگوں ہوتی ہیں۔ یہ قوی ہیکل اور پراز استخوان ہوتے ہیں۔ چہرہ ان کا تند و دہشت ناک ہوتا ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 125 تا 126)

(27) جٹوا یا جیٹوکماری[ترمیم]

یہ قدیم اقوام میں سے ہے اور تمام مصنفوں نے انہیں راجپوت بتایا ہے۔ یہ سراشتر میں آباد ہیں اور ان کی شکل و صورت سیتھائیوں کی طرح کی ہے، مگر ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم ہنومان کی اولاد ہیں اور وہ اس کی تصدیق میں اپنے راجکماروں کے بارے میں کہتے ہیں ان کی ان کی پشت کی ہڈی باہر نکلی ہوتی ہے۔ ان کے راج کمار پونجھریا یعنی دم والے رانا سارشتر کہلاتے ہیں۔ کہلاتے ہیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 128) مگر ان کے نام کا ابتدائی کلمہ جٹ ہے، جس گمان ہوتا ہے کہ وہ جٹ النسل کے ہیں۔ اس کی تصدیق اس طرح ہوتی ہے کہ ان کی شکل و صورت سیتھائی لوگوں کی طرح ہے۔

(28)گوہل[ترمیم]

ان کا کہنا ہے کہ ہم سورج بنسی ہیں۔ یہ پہلے ماروار میں آباد تھے اور بعد میں یہ سارشتر میں آباد ہو گئے تھے۔ ان کے نام سے ساراشتر کا ایک علاقہ گوہل وارہ کہلاتا ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 128۔ 129)

(29) سرو یا سیر یا سیا[ترمیم]

کسی زمانے میں بہت مشہور و معروف تھی۔ اس لیے راج کلی میں داخل ہیں۔ اگرچہ یہ راجپوت نہیں ہیں اور ان کا شمار کھتریوں میں ہوتا ہے۔ ان کے نام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قوم اسو (وسط ایشیاکی ایک شاخ ہیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 129) (دیکھیں سورج بنسی)

(30) سالار یا سولار[ترمیم]

سالار قوم اور بالاالذکر سرو سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ ساراشتر کا قدیم زمانے میں لار تھا۔ ٹولومی اور دوسرے جغرافیہ دان اسی نام سے جانتے تھے اور لار قوم کسی زمانے میں معروف و مشہور تھی۔ انہیں کمال پال انہیں راج تلک کے نام سے ذکر کرتا ہے۔ یہ یقیناً قدیم لار قوم کی باقیات ہیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 129)

(31) دابی[ترمیم]

اگرچہ تمام شجروں میں اس قوم کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن اس قوم کا حال کسی کو نہیں معلوم ہے اور سارشتر میں نہایت مشہور و معروف تھی، بعض اس کو یادو کی شاخ بتاتے ہیں اور بعض نہیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 129)

(32) گوڑ[ترمیم]

راجپوتانہ میں یہ قوم نہایت معزز سمجھی جاتی ہے۔ زمانہ قدیم میں انہوں نے بنگال پر حکومت کی اور بنگال ان کے نام سے گوڑ کہلاتا تھا۔ بعد میں ان کی ریاست راجپوتانہ میں قائم ہوئی، جو سات سو سال تک قائم رہی اور سندھیہ نے ان کی ریاست کو ختم کر دیا۔ گوڑ کی پانچ شاخیں ہیں۔ اونناہیر، سل ہالا، تور، وومینا، بودانو۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 129۔ 130)

(33) جھالا مکوہانا[ترمیم]

یہ خود کو راجپوت کہتے ہیں لیکن نہ ہی سورج بنسی کہتے ہیں نہ ہی چندر بنسی اور نہ ہی اگنی کل ہیں۔ یہ سراشتر میں آباد ہیں اور ان کے نام سے ایک خطہ جھالاوار اور کئی شہر اس قوم کے نام سے مشہور ہیں۔ جہالا کی کئی شاخیں ہیں جن میں مکوہانا سب سے بڑی ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 127 تا 128)

(34) ڈوڑ یا ڈوڈ[ترمیم]

اس قوم کا حال بہت کم معلوم ہے۔ اگرچہ تمام شجروں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس پر پرٹھوی راج فتح کو غنیمت سمجھتا تھا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 130)

(35) چندیلا[ترمیم]

بارہویں صدی میں یہ قوم مشہور و معروف تھی۔ پہلے یہ ان مقامات پر رہاہش پزیر تھے جہاں بندیلا آباد ہیں۔ بندیلا نے انہیں وہاں سے نکال کر خود آباد ہو گئے۔ تو یہ جمنا اور نربدا کے ارتصال پر آباد ہو گئے۔ چندیلا راجا نے ابوالفصل کو جہانگیر کے کہنے پر قتل کر دیا تھا، یہ مغلیہ لشکر میں کثیر تعداد میں ملازم تھے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 131)

(36) سنگر[ترمیم]

اس قوم کی کچھ تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے انہوں نے شہرت اور ناموری حاصل نہیں کی۔ ان کی ایک ریاست جگ موہن پورا دریائے جمنا کے کنارے واقع تھی۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 132)

(37) سکر وال[ترمیم]

بالاالذکر قوم کی طرح یہ بھی مشہور و معروف نہیں تھی۔ ان کے نام سے ایک ئضلع کا نام سکروار ہے۔ اس کے علاوہ فتح پور سیکری اس قوم کے نام پر ہے۔ یہ اب کسان ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ماضی میں یہ برچھی کے ذریعے قتل غارت گری کرتے تھے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 132)

(38) دھیا[ترمیم]

یہ زمانہ قدیم سے تعلق رکھتی ہے اور دریائے سندھ و ستلج کے مابین آباد تھی اگرچہ یہ چھتیس راج کلی میں داخل ہیں لیکن ان کی کچھ تفصیل نہیں ملتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے یہ وہی قوم ہے جس کو یونانیوں نے داہی لکھا ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 132)

(39) جوہیا[ترمیم]

یہ قوم وہیں آباد تھی جہاں دہیا آبادتھی اور یہ دونوں قومیں باہم شریک و رفیق تھیں اور یہ وہاں سے ریگستان میں شمال کی طرف پھیل گئیں۔ پرانی تاریخوں میں انہیں ملک جنگل دیس کہا گیا ہے۔ اس جنگل میں ہریانہ، بھٹ اور ناگور شامل ہیں۔ یہ قومیں اب نسبت و نابود ہوچکی ہیں۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 133)

(40) موہل[ترمیم]

اس قوم کو چھتیس راج کلی میں شامل کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ پچھلی تاریخوں سے اتنا معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہ قدیم زمانے میں بیکانیر کے علاقے میں آباد تھے اور راٹھوروں نے قوم موہل کو وہاں سے بے دخل کیا اور یہ اپنی نسبت مالی قوم سے بیان کرتے ہیں۔ جو سکندر کے زمانے میں ملتان پر حکمران تھی۔ اب یہ ان کی طرح یعنی مالن، ملانی اور مالیا کی طرح نسبت و نابود ہو گئی ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 133)

(41) نکوسیا[ترمیم]

یہ قوم شجروں میں معروف ہے۔ ان کے بارے میں صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ ان کی ریاست مانڈو گڑھ میں واقع تھی۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 133)

(42) راج پال[ترمیم]

شاراشٹر کے شجروں میں اس قوم کا نام راج پالی یا راج پالیکا یا یا پالا آیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے یہ سھتین ہیں۔ اس نام کے معنی شاہی گذریا کے ہیں۔ غالباً قدیم پالی قوم کی شاخ ہوگی۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 133)

(43) دھیر[ترمیم]

اس قوم کو صرف کمارپال ہی چھتیس راج کلی میں داخل کرتا ہے۔ اس کی تاریخ کا کچھ پتہ نہیں چلتا ہے۔ مسلمانوں کے حملے کے وقت اہل چتور کی مدد کے لے دھیر دیس پتی دیبل یا دیول آیا تھا۔ جس کا مختصر ساحال تاریخ چتور میں درج ہے۔ محمد قاسم کے حملے کے وقت داھیر مارا گیا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ داھیر راجا تھا یا قوم کا نام۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 133)

(44) دہیما[ترمیم]

اس قوم کا صرف نام ہی رہے گیا ہے۔ یہ بیانا پر حکمران تھے اور پرٹھوی راج چوہان کے مدد گاروں میں تھے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 133)

(45) جٹ[ترمیم]

یہ راجپوت نہیں ہیں اور نہ ہی راجپوت ان سے شادی بیاہ کرتے ہیں۔ لیکن راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہیں۔ ان کی چھ شاخیں ہیں۔ (دیکھے جٹ) (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 117 جلد دوم203)

(46) ہون[ترمیم]

یہ وہی ہن ہیں جنہوں نے یورپ، افغانستان، ایران اور ہند کے علاقہ میں غارت گری کی تھی۔ (دیکھے ہن)جسلمیر کی قدیم تاریخ کے مطابق انہوں نے اپنے ایک قدیم سردار انگت کی سرکردگی میں مسلمانوں کے خلاف چتور میں دوسرے ہندو راجاؤں کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ یہ راجپوتوں سے کم درجہ کے ہیں اس لیے انہیں راجپوت نہیں سمجھاجاتا ہے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 123 تا 125)

(47) گھیر وال۔ بندیلا[ترمیم]

راجپوتانہ میں یہ کمتر سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے راجپوت ان کے ساتھا شادی بیاہ نہیں کرتے ہیں۔ ان کا اصل علاقہ کاشی کا علاقہ تھا۔ ان کا قدیمی نام گھیروال ہے یہ بعد میں یہ اپنے ایک راجا کے نام سے بندیلا مشہور ہوئے اور اسی نام سے ایک علاقہ بندیل کھنڈ مشہور ہوا۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 130۔ 131)