کاسٹنگ کاؤچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کاسٹنگ کاؤچ (انگریزی: Casting couch) کسی آجر یا اثر و رسوخ کی حامل شخصیت کی جانب سے اپنے زیر تربیت ملازم کے سامنے پیش کردہ جنسی پیش کش کو کہتے ہیں۔ اس میں ماتحتوں سے کسی پیشے یا ادارے میں کیریئر حاصل کرنے کے لیے بھی یہی توقع کی جا سکتی ہے۔[حوالہ درکار]۔ کاسٹنگ کاؤچ کی اصطلاح کا آغاز موشن پکچر انڈسٹری سے ہوا ہے، جن میں دفاتر کے صوفوں کو بطور خاص فلمی ہدایت کار یا فلم ساز نو وارد اداکاراؤں کے ساتھ مباشرت کے لیے استعمال کرتے تھے۔[1][2][3][4][5][6]

بالغوں کی تفریحی صنعت میں مواد کا دکھایا جانا افسانوی نوعیت کی طرح عوامی حصے داری رکھتا ہے۔[7][8]

بالی ووڈ[ترمیم]

بالی ووڈ کے اداکار رنویر سنگھ نے ایک چونکا دینے والا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ کاسٹنگ کاؤچ نمائش کی دنیا کی ایک انتہائی گھناؤنی اور افسوس ناک حقیقت ہے اور انہیں خود اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔[9] بالی ووڈ کی مشہور کوریوگرافر سروج خان ​​نے کاسٹنگ کاوچ پر متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ تو بابا آدم کے زمانے سے ہی چلا آ رہا ہے۔[10]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "'Casting Couch': The Origins of a Pernicious Hollywood Cliché"۔ The Atlantic۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 نومبر 2017۔
  2. "In 1956, a Fan Magazine Published a Four-Part Casting Couch Exposé. It Didn't Go Well."۔ Slate۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 نومبر 2017۔
  3. "Casting-Couch Tactics Plagued Hollywood Long Before Harvey Weinstein"۔ Variety۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 نومبر 2017۔
  4. "Exploring the casting couch culture of LA"۔ BBC۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 نومبر 2017۔
  5. Elaine Dutka (15 اکتوبر 1991)۔ "Scenes From the Home of the Casting Couch: The Talk of the Country Has Hit a Nerve in the Industry That Creates the Images of Women in Popular Culture"۔ Los Angeles Times۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جنوری 2018۔
  6. Pamela Hutchinson (اکتوبر 19، 2017)۔ "Moguls and starlets: 100 years of Hollywood's corrosive, systemic sexism"۔ The Guardian۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 9، 2018۔ Check date values in: |access-date=, |date= (معاونت)
  7. "The Dirty Secret Behind Dirty Movies, by James King and Jesse Lenz (Maxim magazine - اپریل 2014)"۔ Pastebin۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 22, 2018۔
  8. Maria Del Russo (ستمبر 6, 2017)۔ "Why This Woman Wants People To Take A Closer Look At Casting Couch Porn"۔ ریفائنری29۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 4, 2018۔
  9. "'کاسٹنگ کاؤچ شوبز کی ایک حقیقت ہے'"۔ 19 دسمبر 2015۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2018۔ اداکارہ سوناکشی سنہا کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایک ہیروئن اپنے کسی ڈایئلاگ کی وجہ سے مشہور ہو سکتی ہے جیسا کہ ان کے ساتھ ہوا۔
  10. "کاسٹنگ کاؤچ پر سروج خان کا متنازع بیان، کہا بابا آدم کے زمانہ سے ہو رہا ہے یہ"۔ 24 اپریل 2018۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2018۔ کوریوگرافر سروج خان نے کہا، "اگر فلم صنعت میں کسی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط ہوتا ہے، تو اسے نوکری بھی ملتی ہے۔ ریپ کر کے چھوڑ نہیں دیا جاتا ہے۔ اب یہ لڑکی کے اوپر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ تم اگر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں نہیں آنا چاہتے تو مت آو۔ اگر آپ کے پاس فن ہے تو خود کو فلم صنعت میں بیچنے کی کیا ضرورت ہے‘‘۔