رنویر سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رنویر سنگھ
(ہندی میں: रणवीर सिंह ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Ranveer Singh promoting Bajirao Mastani.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 جولا‎ئی 1985 (34 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ دپکا پڈوکون (14 نومبر 2018–)  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی انڈیانا یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فلم اداکار، ریپر[2]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

رنویر سنگھ جولائی 1985ء کو پیدا ہوئے ۔وہ  ایک بھارتی اداکار ہیں۔ ان کا شمار ہندی فلموں کے کامیاب ترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔اس وقت وہ بھارتی فلموں کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکار بھی مانے جاتے ہیں۔ 2 فلم فیئر ایوارڈذ کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی  بہترین اداکاری کی وجہ سے متعدد ایوارڈز ملے اور 2012 سے وہ "فاربس انڈیا سلیبرٹی" کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔ انڈیانا یونیورسٹی بلومنگٹن سے بیچلر کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد، سنگھ نے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کئی اشتہارات میں کام کیا اور یش راج فلمز کی رومانوی مزاحیہ فلم "بینڈ باجا بارات" میں ایک اہم کردار ادا کیا. اس فلم نے کامیابی کے بہت سے نئے ریکارڈ بنائے اس فلم میں بہترین اداکاری کی وجہ سے انہیں فلم فیئر " نئے آنے والے بہترین مرد اداکار "کا ایوارڈ ملا. سنگھ نے سنجے بھنسالی کی ہدایت کردہ  تین فلموں میں کام کرکے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔ان کی فلم "باجی راؤ مستانی" میں ان کی  اداکاری کو بہت زیادہ سراہا گیا۔فلم "پدمات" میں علاالدین خلجی کا کردار ادا کرکے ناقدین تک کو تعریف و توصیف پر مجبور کر دیا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

رنویر سنگھ 6 جولائی 1985 کو پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ممبئی کے  ایک سندھی خاندان مسے ہے۔ان کی والدہ کا نام انجو اور والد کا نام جگیت سنگھ بھوانی ہے۔ ان کے دادا  تقسیم ہند کے دوران موجودہ پاکستان میں کراچی، سندھ سے ممبئی منتقل ہو گئے تھے۔ سنگھ نے ہمیشہ ایک اداکار ہونے کا دعوی کیا اور دوران اسکول  بہت سے کھیلوں اور مباحثوں میں شرکت کی۔[3][4] یونیورسٹی آف انڈیانا سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد 2007 میں وطن واپس آئے، وطن واپسی کے بعد ایک اشتہاری ایجنسی سے منسلک ہو گئے۔اس کے بعد انہوں نے اسسٹنٹ ہدایت کار کے طور پر بھی کام کیا لیکن جلدی وہ کام بھی چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے پورٹ فولیو مختلف ہدایت کاروں کو بھیجنے کا فیصلہ کیا لیکن انہوں بہت معمولی کرداروں کے لیے فون آنے لگے جس سے وہ دل برداشتہ ہو کر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ میں جو کام کررہا ہوں وہ صحیح بھی ہے کہ نہیں۔[5][6]

کیرئیر[ترمیم]

جنوری 2010 میں رنویر سنگھ کو یش راج فلموں کے لیے کاسٹنگ ڈویژن کے سربراہ شانو شرما نے آڈیشن کے لیے بلایا. انہوں نے ان کو مطلع کیا کہ یہ شادی کی منصوبہ بندی موضوع پر بننے والی رومانوی فلم بینڈ باجا بارات کا اہم کردار ہے۔اس کمپنی کے نائب صدر ادیتھ چوپرا نے بعد میں ویڈیو پر  ان کا آڈیشن ٹیپ دیکھا اور سنگھ کی اداکاری کو سراہا اور اس کردار کے لیے منتخب کرنے کا فیصلہ کیا تاہم، ڈائریکٹر منسی شرما ن کو مزید کچھ قائل کرنے کی ضرورت تھی اور اگلے دو ہفتوں تک رنویر کو کچھ اور آڈیشنوں کے لیے بلایا گیا جب تک کہ وہ ان کی اداکاری سے مطمئن نہیں ہو گئے۔فلم میں ان کے مقابل انوشکا شرما نے مرکزی کردار ادا کیا۔  فلم نے باکس آفس میں کامیابی حاصل کی اور رنبیر کی اداکاری کو بہت زیادہ سراہا گیا۔سنگھ نے ایک عام دہلی لڑکے کے طور پر کردار ادا کیا اور کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے،انہوں نے دلی یونیورسٹی کیمپس میں طالب علموں کے ساتھ وقت گزارا.ان کی اگلی فلم لٹیرا تھی جو 2013 میں ریلیز ہوئی اور جس نے باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔سنگھ نے دیپکا پیڈون کے ساتھ 2015 میں "باجوراؤ مستانی" میں کام کیا. فلم میں ان کی کارکردگی نے انہیں ہندی سنیما کا بہترین اداکار ۔اید انب

فلمیں[ترمیم]

  • بینڈ باجا بارات
  • لیڈیز ورسز رکی بہل
  • بومبے ٹاکیز
  • لٹیرا
  • گولیوں کی راس لیلا رام لیلا
  • غنڈے
  • فائنڈنگ فینی
  • کل دل
  • ہے برو
  • دل دھڑکنے دو
  • باجی راؤ مستانی
  • بے فکرے
  • پدماوت
  • طیفا ان ٹربل

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. https://en.wikipedia.org/wiki/Gully_Boy
  3. "Archived copy"۔ مورخہ 15 نومبر 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2016۔
  4. Adnan Lodhi (9 دسمبر 2015)۔ "I wish to visit Karachi once again: Ranveer Singh"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ مورخہ 1 اپریل 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2016۔
  5. "Filmfare Awards: Ranveer's sweet whispers for Deepika"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ 18 جنوری 2016۔ مورخہ 23 جنوری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2016۔
  6. Sameeksha Dandriyal (6 جولا‎ئی 2015)۔ "Quirky, cool, high on life: Why Ranveer Singh is the face of young India"۔ International Business Times۔ مورخہ 9 جولا‎ئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اکتوبر 2015۔