پدماوت (2018ء فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پدماوت
(ہندی میں: पद्मावत ویکی ڈیٹا پر عنوان (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پدماوت (2018ء فلم)

ہدایت کار
اداکار دپکا پڈوکون
شاہد کپور
رنویر سنگھ
ادیتی راؤ حیدری
جم ساربھ
رضا مراد
انوپریا گوئنکا  ویکی ڈیٹا پر اداکار (P161) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صنف ڈراما فلم، رومانوی فلم  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ماخوذ از پدما وت (لـ ملک محمد جائسی)  ویکی ڈیٹا پر ماخوذ از (P144) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈراما نگار
سنجے لیلا بھنسالی
پرکاش کباڈیا  ویکی ڈیٹا پر فلم نویس (P58) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دورانیہ 192 منٹ  ویکی ڈیٹا پر دورانیہ (P2047) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر اصل زبان (P364) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر اصل ملک (P495) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سنیما گرافر سدیپ چٹرجی  ویکی ڈیٹا پر ہدایت کار برائے عکس بندی (P344) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موسیقی سنچیت بالہرا، سنجے لیلا بھنسالی  ویکی ڈیٹا پر کمپوزر (P86) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایڈیٹر Akiv علی  ویکی ڈیٹا پر فلم مدیر (P1040) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تقسیم کنندہ ویاکوم 18 موشن پکچرز، پیراماؤنٹ پکچرز  ویکی ڈیٹا پر تقسیم کنندہ (P750) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ نمائش 25 جنوری 2018  ویکی ڈیٹا پر تاریخ اجرا (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات۔۔۔
allmovie.com {{#اگرخطا:v668245  ویکی ڈیٹا پر آل مودی فلم آئی ڈی (P1562) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}
IMDb logo.svg
{{#اگرخطا:tt5935704  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}

پدماوت 2018 میں بھارت میں آنے والی تاریخی رزمیہ فلم ہے۔ یہ فلم پدماوتی پر بنائی گئی ہے۔ اسے بھارت کے معروف ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی بنا رہے ہیں۔ اس فلم کے مرکزی کرداروں میں شاہد کپور، دیپیکا پڈوکون اور رنوریر سنگھ شامل ہیں۔ یہ سہ جہتی فلم جنوری 2018 میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

کردار[ترمیم]

دیپیکا پڈوکون بطور پدماوتی – 13 صدی عیسوی کی [1] افسانوی راجپوت ملکہ،پدما وت کے مطابق وہ میواڑ کے راجپوت بادشاہ رتن سنگھ (المعروف رتن سین) کی بیوی تھی۔ ملکہ کے حسن کے قصے سن کر سلطان علاؤ دین خلجی رتن سنگھ کے دار الحکومت چتور کا محاصرہ کر لیتا ہے تاکہ ملکہ کو قید کر سکے۔
شاہد کپور بطور راول رتن سنگھ – میواڑ سلطنت میں گوہیلا (Guhila) خاندان کے آخری راجپوت حکمران، جنہیں علاؤ الدین خلجی کی فوج نے چتوڑ کے قلعے کے محاصرے کے دوران میں شکست دی۔
رنویر سنگھ بطور علا الدین خلجیسلطنت دہلی کے ترک افغان حکمران تھے۔ وہ خلجی خاندان کے دوسرے طاقتور ترین حکمران تھے ۔[2] فلم کے مطابق وہ چتور کے قعلے کا محاصرہ کر کے رانی پدماوتی کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ علاؤ الدین خلجی نے اپنے چچا کو قتل کر کے تخت پر قبضہ کیا تھا۔[3]
ادیتی راؤ حیدری بطور مہرالنساء۔ علاؤ الدین خلجی کی بیوی
رضا مراد بطور جلال الدین خلجی ۔[4]خلجی خاندان کے پہلے بادشاہ تھے۔ علاؤ الدین خلجی اُن کا بھتیجا اور داماد تھا۔ جسے صوبہ اودھ میں کڑہ کا حاکم مقرر کیا تھا۔ علاؤ الدین نے دکن میں واقع دیوگری پر حملہ کر کے اسے فتح کیا تھا۔ جب جلال الدین اپنے بھتیجے کی فتح کی خبر سن کر ملاقات کے لیے آیا تو علاؤ الدین نے اسے قتل کر دیا اور پھر اس کے تمام خاندان کا خاتمہ کر کے خود بادشاہ بن گیا[5]
جم سربھ بطور ملک کافور۔[6] وہ علاؤ الدین خلجی کے مشہور خواجہ سرا غلام جنرل تھے۔[7]
انوپریا گوئنکا بطور نغماتی۔[8] پدما وت کے مطابق راجا رتن کی پہلی بیوی تھی۔ پدماوت کے مطابق اُن کے پدماوتی سے تعلقات زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن علاؤ الدین خلجی کے قلعہ فتح کرنے کے بعد نغماتی نے پدماوتی کے ساتھ ہی جوہر کی رسم ادا کی یعنی وہ پدما وتی کے ساتھ ہی آگ میں کود گئی تھی۔[9]

ریلیز[ترمیم]

یہ فلم 1 دسمبر 2017 کو روایتی 2 ڈی اور 3 ڈی میں ریلیز کی جائے گی۔ پیراماؤنٹ اسے دنیا کے 90 ممالک میں ریلیز کرے گا۔[10]

تنازعات[ترمیم]

فلم مکمل ہونے سے پہلے ہی تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔ فلم کی شوٹنگ کی دوران میں انتہا پسندوں نے اس کے سیٹ کو بھی آگ لگا دی۔[11]اس سے قبل فلم پدما وتی کے ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا، ریاست مہاراشٹرا کے شہر کولہا پور میں انتہا پسند ہندوؤں نے فلم کے سیٹ پر حملہ کرکے اسے آگ لگا دی تھی۔[12] فلم پر احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فلم میں تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے، فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نے حقائق اور تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ ایک انتہا پسند ہندو تنظیم نے فلم میں کام کرنے پر فلم کی ہیروئن کے سر کی قیمت 5 کروڑ روپے رکھ دی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Florence D'Souza (2015)۔ Knowledge, mediation and empire: James Tod's journeys among the Rajputs (انگریزی زبان میں)۔ Oxford University Press۔ صفحہ 258۔ آئی ایس بی این 978-1-78499-207-1۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو [https://books.google.co.in/books id=Rm7LCgAAQBAJ&dq=padmini+13th+century+queen&source=gbs_navlinks_s اصل] Check |url= value (معاونت) سے آرکائیو شدہ۔ line feed character in |url= at position 33 (معاونت)
  2. Shruti Shiksha (اکتوبر 3, 2017)۔ "Padmavati: Presenting Ranveer Singh As Sultan Alauddin Khilji"۔ NDTV.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 نومبر 2017۔
  3. "Alauddin Khilji, Queen Padmavati and jauhar: A tale of lust and valour"۔ The Indian Express۔ 9 اکتوبر 2017۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 نومبر 2017۔
  4. Arushi Jain (4 اکتوبر 2017)۔ "Padmavati: Raza Murad shares his character poster, deletes it later"۔ The Indian Express۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2017۔
  5. "Padmavati: Raza Murad shares (leaks) his look as Jalaluddin Khilji, deletes it later"۔ The Hindustan Times (انگریزی زبان میں)۔ 4 اکتوبر 2017۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2017۔
  6. "Ranveer Singh to play bisexual in 'Padmavati' and this actor will be his love interest?"۔ Zee News (انگریزی زبان میں)۔ 20 ستمبر 2017۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 نومبر 2017۔
  7. Shruti Rhode (اکتوبر 9, 2017)۔ "Did you spot Jim Sarbh in the Padmavati trailer?"۔ www.zoomtv.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 نومبر 2017۔
  8. "Padmavati: This actress essays the role of Shahid Kapoor's first wife"۔ Zee News (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. Savitri Chandra Shobha (1996)۔ Medieval India and Hindi bhakti poetry: a socio-cultural study (انگریزی زبان میں)۔ Har-Anand Publications۔ صفحہ 77۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. "Deepika Padukone, Ranveer Singh's Padmavati to be released in 3D?"۔ ‘’Hindustan Times’’۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اکتوبر 27, 2017۔
  11. نامعلوم افراد نے فلم پدما وتی کے سیٹ کو آگ لگا دی
  12. تاریخی فلم پدما وتی کیخلاف بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے

بیرونی روابط[ترمیم]