گایتری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گایتری
گایتری منتر، وید کی ایک دیوی۔
Gayatri1.jpg
راجا روی ورما کی بنائی ہوئی گایتری کی تصویر جس میں وہ کمل پر بیٹھی ہے۔
ملحقہدیوی (ہندومت)
پاروتی(according to Saivite texts)
سرسوتی (according to Skanda Puran)
مسکنکیلاش (پہاڑ)، برہماپورہ، Vishwakarmaloka
منترگایتری منتر
علامتوید
سواریخمسہ (تعویذ)
تہوارGayatri Jayanti, نوراتری
شریک حیاتSadashiva(according to Saivite texts)
برہما(according to Skanda Puran)

گایتری (سنسکرت:गायत्री) وید کئ گایتری منتر کی شخصی شکل ہے۔[1] اسے ساوتری یا وید ماتا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ساوتری کا تذکرہ اکثر وید میں مذکور سورج کے دیوتا ساوتر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔[2][3] ساوتری متون کے مطابق گایتری شیو کے بہت قریب ہے اور اپنے پانچ سروں اور دس ہاتھوں کے ساتھ سد سیو کی سب سے معیاری اوتار ہے۔[4][5] جبکہ اسکند پران کے مطابق گایرتی برہما کے قریب ہے۔

اصل[ترمیم]

سب سے پہلے گایتری کا تذکرہ رگ وید کیے ایک منتر میں آیا ہے۔ رگ وہد میں گایتری کے 24 املا ہیں۔[6] گایتری اصل میں گایتری منتر سے عبارت ہے اوتر خود گایتری اس منتر کی انسانی شکل ہے۔ گایتری کا یہ یہ ری منتر سب سے زیادہ مشہور ہے۔ زیادہ تر علما گایتری کو وید میں مذکور سورج کے ایر اور دیوتا گایترا کی تانیث قرار دیتے ہیں جو ساوتری اور ساوتر کا مترادف ہے۔[7] البتہ یہ تاریخ ابھی معلوم نہیں کی جا سکی ہیکہ ساوتری منتر کی شکل میں کب وجود میں آئی اور منتر سے انسانی شکل کیسے اختیار کر لی۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف مصادر اور متون دریافت ہوئے ہیں مگر ابہام ہنوز باقی ہے۔

شیو مت میں گایتری[ترمیم]

شیو مت میں گایتری کو ایک خوبصورت، خوشگوار اور مکمل پیراشیو کے روپ میں جانا جاتا ہے جو سورج کے اوتار شیوسوریا کے کردار میں نطر آتی ہے۔[8][5]]]۔[9][10] وہ قادر مطلق اور چہار طرف موجود سد شیو ہے جس کا نام بھارگا ہے۔[11] سدشیو کا ساتھی وہی گایتری منتر ہے جس میں اس کے شوہر بھارگا کی طاقت بسی ہے اور یہی منتر اس میں شکتی بخشتا ہے۔[12][13] گایتری کا مشہور 5 سر اور 10 ہاتھوں والا اوتار شیو مت سے ہی ماخوذ ہے جو 10ویں صدی کی ابتدا میں شمالی ہند شیو مت کے کسی خطہ سے دریافت ہوئی تھی۔[4][5]

پران میں گایتری کا تذکرہ[ترمیم]

گایتری دیوی وشوامرت رشی کے حضور۔

کچھ پرانوں میں گایتری کو برہما کی بیوی سرسوتی کا ہی دوسرا نام بتایا گیا ہے۔[14] متسیہ پران کے مطابق برہما کا بایاں نصف عورت کی شکل میں نمودار ہوا جسے سرسوتی، ساوتری اور گایتری کہا جاتا ہے۔[15] کروما پران کے مطابق گوتم کو گایتری عطا ہوئی تھی اور وہ اسی کی مدد سے اپنی زندگی کی تمام مشکلات دور کر سکے تھے۔ اسکند پران میں بھی مذکور ہیکہ گایتری برہما کی بیوی تھی جو سرسوتی کے روپ میں ظاہر ہوئی تھی۔[16]

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Bradley، R. Hertel؛ Cynthia، Ann Humes (1993). Living Banaras: Hindu Religion in Cultural Context. SUNY Press. صفحہ 286. ISBN 978-0-7914-1331-9. 
  2. Constance Jones, James D. Ryan (2005)، Encyclopedia of Hinduism، Infobase Publishing, p.167, entry "Gayatri Mantra"
  3. Roshen Dalal (2010)، The Religions of India: A Concise Guide to Nine Major Faiths، Penguin Books India, p.328, entry "Savitr, god"
  4. ^ ا ب Margaret Stutley (2006). Hindu Deities: A Mythological Dictionary with Illustrations. Munshiram Manoharlal Publishers. ISBN 9788121511643. 
  5. ^ ا ب پ Omacanda Hāṇḍā (1992). Śiva in art: a study of Śaiva iconography and miniatures. Indus Pub. House. 
  6. Ramachandra Rao، Saligrama Krishna (1998). R̥gveda-darśana: Gāyatri mantra. Kalpatharu Research Academy. صفحہ 77. 
  7. Vallyon، Imre (2012). Planetary Transformation: A Personal Guide To Embracing Planetary Change. Bookbaby. صفحہ 245. ISBN 978-0-909038-90-8. 
  8. CHETTY، D. GOPAUL (1923). NEW LIGHT UPON INDIAN PHILOSOPHY OR SWEDENBORG AND SAIVA SIDDHANTA. صفحہ 52. 
  9. Frawley، David (2015). Shiva: The Lord of Yoga. Lotus Press. ISBN 978-0-940676-29-9. 
  10. Uma Devi، Mudigonda (1990). Palkuriki Somanatha: His Contribution to Sanskrit Literature. Rasagangotri. صفحات 123–183. 
  11. Sankaracharya (2000). Śrī Dakshināmūrti stotram: stava rajaṁ، astakam, samsmaranam and upanishat (stepping stone to Vedant). Sānkhyāyana Vidyā Parishat. صفحات 6–7. 
  12. Guru Granth Sahib an Advance Study. Hemkunt Press. صفحہ 294. ISBN 9788170103219. 
  13. Ludvík، Catherine (2007). Sarasvatī، Riverine Goddess of Knowledge: From the. Brill. صفحہ 119. ISBN 9789004158146. 
  14. Kennedy، Vans (1831). Researches Into the Nature and Affinity of Ancient and Hindu Mythology by Vans Kennedy. Longman, Rees, Orme, Brown and Green. صفحات 317–324.