یحییٰ اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یحییٰ اعظمی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1906  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعظم گڑھ،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 فروری 1972 (65–66 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعظم گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یحییٰ اعظمی یا محمد یحییٰ (پیدائش: 1906ء— وفات: 22 فروری 1972ء) اردو زبان کے شاعر تھے۔

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

یحییٰ اعظمی 1906ء میں اعظم گڑھ کے قصبہ مہاراج گنج میں پیدا ہوئے۔یہ اِن کا آبائی قصبہ تھا۔پیدائشی نام محمد یحییٰ تھا لیکن یحییٰ اعظمی کے نام سے شہرت پائی۔ غالباً 1919ء میں اُنہوں نے مقامی اسکول سے اردو مڈل کا اِمتحان پاس کیا۔ اِس کے بعد فارسی کی تعلیم اپنے والد مولوی ضیاء اللہ سے حاصل کی۔ مولوی صاحب پرانے طرز کے مدرس اور اردو اور فارسی کے صاحبِ دِیوان شاعر تھے۔ اُن کی اردو اور فارسی کی استعداد بہت اچھی تھی۔ یحییٰ نے اُن کی تعلیم سے مکمل استفادہ کیا۔ بلکہ جب زمانہ تعلیم کے دوران اُنہیں شعرگوئی کا شوق پیدا ہوا تو کلام بھی والد کو دکھایا۔ والد نے حوصلہ افزائی کی اور اصلاح کی۔1920ء میں جب ہندوستان کے سیاسی حالات تبدیل ہو رہے تھے تو یحییٰ بھی تحریک خلافت میں شامل ہو گئے۔دراصل اُن کی قومی اور ملی شاعری کا منبع یہی سیاسی تحریکیں تھیں۔ جون 1925ء میں بعض احباب اور بزرگوں کی وساطت سے وہ دارالمصنفین، اعظم گڑھ کے دفتر سے وابستہ ہو گئے۔ یہ تعلق تا عمر قائم رہا۔ اعظم گڑھ کے قیام کے دوران ہی اُنہوں نے پرائیویٹ طور پر دسویں درجہ کا انگریزی کا اِمتحان پاس کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی باقاعدہ تعلیم کسی اِدارے یا درس گاہ کی مرہونِ منت نہیں تھی، بلکہ یحییٰ اعظمی نے خود بتایا تھا کہ اُنہوں نے جو کچھ بھی پایا، گھر کی تعلیم سے، اُردو اور فارسی کا ذوق ذاتی مطالعے اور فاصل بزرگوں اور شفیق حضرات کے فیض صحبت اور حسن تربیت کا نتیجہ تھا۔[1]

ادبی ماحول اور شاعری[ترمیم]

دارالمصنفین میں اُنہیں ادبی ماحول میسر آیا۔ مولانا سید سلیمان ندوی کی صحبت میں اُن کے ذوقِ شعرگوئی نے بہت ترقی کی۔ غالباً اُن کی سب سے پہلی نظم جو معارف میں شائع ہوئی وہ غازی نادر شاہ مرحوم، امیر افغانستان کے حادثہ قتل سے متاثر ہوکر کہی گئی تھی۔ یہ نظم معارف کے مجلہ بابت ماہِ دسمبر 1933ء میں ’’خطاب بملت افغان‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ اِس کا فارسی ترجمہ افغانستان کے مشہور ہندوستان دوست شاعر سرور خاں صبا نے کیا تھا جو رسالہ کابل کی اشاعت مؤرخہ 6 جنوری 1934ء میں شائع ہوا تھا۔ یحییٰ اعظمی نے اِس فارسی نظم کا جواب فارسی میں لکھا جو معارف کی اشاعت مارچ 1934ء میں چھپا۔ اُن کی شاعری میں سیاسی و قومی جذبات شامل ہوتے تھے بلکہ وہ اِنہی نظریات کے باعث مقبول ہوئے۔ کلام کا مجموعہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی ایما پر ’’نوائے حیات‘‘ کے عنوان سے حالی پبلشنگ ہاؤس، دہلی سے 1946ء میں شائع ہوا تھا۔ اِس مجموعہ کلام کے شروع میں مقدمہ مولانا سید سلیمان ندوی کا ہے۔ اِس کا دوسرا ایڈیشن دارالمصنفین، اعظم گڑھ سے 1950ء میں شائع ہوا تھا۔ کلام کا دوسرا مجموعہ ’’نوائے عصر‘‘ بھی اعظم گڑھ سے جنوری 1970ء میں شائع ہوا، اِس کے ساتھ پیش لفظ ڈاکٹر ذاکرحسین کا تھا۔[2]

وفات[ترمیم]

یحییٰ اعظمی کا انتقال خرابیٔ جگر، فشارِ دم اور حبس البول کے امراض سے 22 فروری 1972ء کو اعظم گڑھ میں ہوا۔ تدفین بھی اعظم گڑھ میں کی گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 2، صفحہ 22۔ مطبوعہ دہلی
  2. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 2، صفحہ 23۔ مطبوعہ دہلی