ایڈورڈ سنوڈن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایڈورڑ سنوڈن
پیدائش

ایڈورڈ جوزف سنوڈن
21 جون 1983ء
شہرِ الزبتھ, شمالی کرولینا,

ریاستہائے متحدہ امریکہ
رہائش

ہوائی.

نامعلوم
قومیت امریکی
پیشہ منتظم نظامی
آجر بوز ایلن ہملٹن
وجہِ شہرت پرزم سیٹی پھونکا
مجرمانہ الزام جاسوسی
مجرمانہ حیثیت مفرور

ایڈورڈ سنوڈن (Edward Joseph Snowden) امریکی ادارے قومی سلامتی کارندگی میں ٹھیکے پر ملازم تھا۔ وجہ شہرت سیٹی پھونکا ہے جب اس نے امریکی خفیہ برقی نگہداری اور جاسوسی برمجہ بنام پرزم نگہداری برمجہ کا بھانڈا پھوٹ دیا۔[1]

2003ء میں امریکی فوج میں بھرتی ہوا مگر دونوں ٹانگیں تڑوا بیٹھا۔ پھر قومی سلامتی کارندگی میں محافظ بھرتی ہوا۔

2013ء میں سنوڈن نے گارجین کے اخبار نویس گلن گرینوالڈ کو پیغام بھیجا کہ اس کے پاس امریکی جاسوسی بارے مواد ہے مگر وہ صرف پی جی پی کے ذریعہ صفریت طریقہ سے برقی رابط قائم کرنا چاہتا ہے۔ گرینوالڈ اس طرزیات سے نابلد تھا، چنانچہ گرینوالڈ کی جہالت کی وجہ سے رابطہ میں بہت تاخیر ہوئی۔ تنگ آ کر سنوڈن نے مواد صحافی لارا پوئیڑس کو بھیجا جو اس طرزیات سے واقف تھی۔ پوئیٹرس کے زریعہ مواد گرینوالڈ کو ملا۔[2] سنوڈن نے واشنگٹن پوسٹ کو بھی مواد پہنچایا۔ پرزم بارے 41 صفحات پر مشتمل مواد ان کے حوالے کیا۔ دونوں اخباروں نے امریکی سرکار سے رابطہ کیا اور ابتداً صرف دو تین صفحات شائع کرنے کی جراءت کر سکے۔ [3] بھانڈا پھوٹنے کے بعد سنوڈن ہوائی سے ہانگ کانگ چلا گیا جہاں اس نے گریندوالڈ سے ملاقات کی۔ امریکی حکام نے سنوڈن پر جاسوسی کی فردِ جرم عائد کرتے ہوئے اس کا گزرنامہ منسوخ کر دیا۔ تاہم سنوڈن ہانگ کانگ سے ماسکو فرار ہو گیا، جہاں اس نے کئی ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں داغ دیں۔ امریکہ نے تمام ممالک کو ڈرا دھمکا کر فرار کے فضائی راستے بند کر دیے۔ سنوڈن نے روس میں عارضی پناہ کی درخواست کی جس پر امریکی حکومت نے روس کو بذریعہ خط یقین دلایا کہ سنوڈن کو وطن واپسی پر نہ ہی اذیت دی جائے گی اور نہ ہی سزائے موت، اس لیے پناہ کی درخواست مسترد کی جاوے۔[4] تاہم روسی صدر پیوٹن نے بیان میں کہا کہ روس کبھی کسی کو دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرتا اور نہ کسی نے کسی کو کبھی روس کے حوالے کیا ہے۔ بالآخر روس نے جولائی 2013ء میں ایک سال کی عارضی پناہ دے دی اور سنوڈن ماسکو ہوائی اڈہ سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

14 جون 2013ء کو وائرڈ نے پی جی پی کا استعمال کرتے ہوئے ایک صفریتی پیغام سنوڈن کے نام شائع کیا۔[5]


I don't want to live in a society that does these sort of things … I do not want to live in a world where everything I do and say is recorded. That is not something I am willing to support or live under.

—Edward Snowden، speaking to The Guardian in June 2013[1]

عتاب[ترمیم]

  • سنوڈن کے زیر استعمال روئے خط برقی خدمت کے مالک نے سرکاری خفیہ حکمنامہ ملنے کے بعد اپنی خدمت ہی بند کر دی مگر پھر بھی زیر عتاب آنے کی توقع۔[6]
  • گلن گرین‌والڈ کے ہم جنس شریک کو ہوائی اڈہ پر روک کر برطانوی سرکار نے دہشت گردی قانون کی آڑ میں ہراساں کیا۔[7]
  • اوبامہ نے روسی دورے کے دوران صدر پیوٹن سے ملنے سے انکار کر دیا۔
  • گارجین اخبار کے دفتر میں داخل ہو کر حساس ادارے کے ارکان نے وہ شمارندہ تباہ کر دیا جس پر سنوڈن کا دیا مواد محفوظ تھا۔[8]

پیغام[ترمیم]

کرسمس 2013ء پر سنوڈن نے برطانوی دورنما پر اپنا پیغام میں کہا کہ امریکی اور برطانوی جاسوسی عالمی خطرہ ہے اور یہ اورویلی دنیا کے نقشہ سے بھی گھناونا ہے۔[9] سنوڈن نے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ جیت چکا ہے۔

مزید[ترمیم]


  1. ^ 1.0 1.1 Greenwald, Glenn; Ewen MacAskill (9 June 2013). "Edward Snowden: the whistleblower behind revelations of NSA surveillance". The Guardian (Hong Kong: Guardian Media Group). http://www.guardian.co.uk/world/2013/jun/09/edward-snowden-nsa-whistleblower-surveillance?CMP=twt_gu. Retrieved 9 June 2013.
  2. ^ "How Laura Poitras Helped Snowden Spill His Secrets". نیویارک ٹائمز. 13 اگست 2013ء. http://www.nytimes.com/2013/08/18/magazine/laura-poitras-snowden.html?pagewanted=all&_r=0.
  3. ^ "Snowden Censored by Craven Media". 10 جون 2013ء. Archived on 2013-06-14. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://web.archive.org/web/20130614001358/http://cryptome.org/2013/06/snowden-censored.htm#official.
  4. ^ "US to Russia: We won’t seek death penalty for Snowden". آج کا روس. 26 جولائی 2013ء. http://rt.com/news/snowden-justice-letter-moscow-640/.
  5. ^ Kevin Poulsen (14 جنوری 2013ء). "Our Top-Secret Message to NSA Whistleblower Edward Snowden". http://www.wired.com/threatlevel/2013/06/signed-bda0df3c/.
  6. ^ "Snowden's email provider may face court rap after closing service". دی رجسٹر. 19 اگست 2013ء. http://www.theregister.co.uk/2013/08/19/lavabit_founder_in_hot_water_snowden_nsa_tempora/.
  7. ^ "Glenn Greenwald's partner detained at Heathrow airport for nine hours". گارجین. 18 اگست 2013ء. http://www.theguardian.com/world/2013/aug/18/glenn-greenwald-guardian-partner-detained-heathrow.
  8. ^ "U.K. gov't thought, naively and stupidly, destroying hard drives would prevent NSA leaks". زی-ڈی-نیٹ. 20 اگست 2013ء. http://www.zdnet.com/u-k-govt-thought-naively-and-stupidly-destroying-hard-drives-would-prevent-nsa-leaks-7000019598/.
  9. ^ "Edward Snowden warns over global threat to privacy during Channel 4’s Alternative Christmas Message". انڈپنڈنٹ. 24 دسمبر 2013ء. http://www.independent.co.uk/news/people/news/edward-snowden-warns-over-global-threat-to-privacy-during-channel-4s-alternative-christmas-message-9024541.html.