بنزین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بینزین
Benzene structure.png
عمومی معلومات
اسم نظامی بینزین
اسم دیگر Benzol
1,3,5-cyclohexatriene
سالماتی صیغہ اندراج C6H6
اسمائلس c1ccccc1
C1=CC=CC=C1
مولرکمیت 78.1121 g/mol
صورت بے رنگ مائع
کاس عدد [71-43-2]
خواص
کثافت و حالت مائع، 0.8786 g/cm³
حل پزیری (پانی) 1.79 g/L (25 °C)
نقطۂ پگھلاؤ 5.5 °C (278.6 K)
سالماتی شکل مستوی (planar)
دوقطبی حرکت 0 D
خطرات
ایم ایس ڈی ایس ایم ایس ڈی ایس (بیانات)
نفپا 704

NFPA 704.svg

3
2
0
 
نقطۂ شرر −11 °C
کلمۂ خطر R45, R46, R11, R36/38,
R48/23/24/25, R65
کلمۂ سلامہ S53, S45
ریٹیکس عدد CY1400000
اضافی معلومات
وابستہ مرکب ٹولوین
بورازائین
ماسواۓ کسی خصوصی بیان کے، تمام مادی معطیات
معیاری درجہ حرات و دباؤ یعنی 25°C, 100 kPa
پر دیۓ گۓ ہیں۔
لاتعلقیتِ معلوماتی خانہ و حوالہ جات


بنزین، جسے بنزول بھی کہا جاتا ھے، ایک نامیاتی مرکب ھے۔ اس کا کیمیائی صیغہ C6H6 ھے۔ اسے بعض اوقات Ph-H بھی لکھا جاتا ھے۔ بنزین ایک بے رنگ اور آتش گیر مادہ ھے جس کی میٹھی سی بو اور نسبتاً بلند نقطۂ پگھلاؤ ھے۔ یہ مرکب سرطان کا باعث بنتا ھے اور اس وجہ سے اس کا استعمال معدنی ایندھن میں اضافی جز کے طور پر محدود کر دیا گیا ھے۔ یہ ایک اہم صنعتی محلل ہے اور ادویات، پلاسٹک، مصنوعی ربڑ اور رنگ و روغن کی تیاری میں ایک اہم درمیانی مرکب ھے۔ بنزین خام تیل میں قدرتی طور پر پایا جاتا ھے لیکن عموماً اسے دوسرے مرکبات سے تیار کیا جاتا ھے۔ بنزین ایک عطری آبی فحم (Aromatic Hydrocarbon) ھے۔

تاریخ[ترمیم]

بنزین کا لفظ انگریزی زبان کے الفاظ "Gum Benzoin" سے نکلا ہے۔ یہ ایک گوند جیسا مرکب ہے جو پندرھویں صدی میں یورپ کے حکمأ اور عطاروں کے زیر استعمال تھا۔ اس مرکب کو بعض اوقات "benjamin" یا "Benzoin Resin" بھی کہا جاتا ھے۔ عربی میں اسے لوبان جاوائ کہتے ہیں کیونکہ اس کی پیداوار دراصل جنوب مشرقی ایشیا اور خصوصا جاوا میں ہوتی تھی۔ سترھویں صدی کے اوائل میں اس مرکب کی تصعید کے ذریعے ایک تیزاب تیار کیا گیا جو بعد میں بنزین کے نام سے مشہور ہوا۔

ایک ہی برتن میں اوپر بینزین اور نیچے پانی۔ بینزین میں ڈوبی پنسل زیادہ موٹی نظر آتی ہے۔

ساخت[ترمیم]

شکل ا: بنزین متبادل دھرے بند کے ساتھ

بنزین میں ایک خاص مسئلہ اس میں موجود کاربن کے تعاد (valency) ہے۔ ماضی میں سمجھا گیا تھا کہ اسکے 6 کاربن کاربن بونڈ میں سے تین سنگل ہوتے ہیں اور تین ڈبل۔ یعنی اس میں باری باری یکہرے اور دہرے بند (double bond) موجود ہیں۔ لیکن x-ray سے پتہ چلا ہے کہ اس میں تمام c-c بندوں (bonds) کی لمبائی 140 پیکو میٹر ہے جو دہرے بند کی لمبائی سے زیادہ ھے (جو کہ134 پیکو میٹر ہوتا ھے) لیکن عام اکہرے بند کی لمبائی سے کم ہے (جو 147 پیکومیٹر ھوتی ھے)۔ برقات (electrons) بنزین میں جگہ تبدیل کرتے رہتےہیں اور مختلف کاربن۔کاربن بند کے درمیان جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ دہرے بند کی تبدیلی کی وجہ اسکی گمگ ساخت (Resonance) ہے جبکہ برقیہ یا الیکٹرون کی اس جگہ بدلی کو عطریہ (aromaticity) کہتے ہیں۔ اس سے بنزین مستحکم ساخت بن جاتا ہے اس جگہ بدلی کو دائرے سے ظا ہر کرتے ہیں۔ (دیکھیۓ شکل ج)

شکل ب: بنزین کی شش پہلو ساخت دائرے کے ساتھ






تیاری[ترمیم]

بنزین کے کسی ہائڈروجن کو ہٹا کر دوسرے جذر (radical) لگا کرمختلف کیمیائی مرکبات بناۓ جاتے ہیں۔ مثلاً فینول (PHOH)، ٹولین (phMe)، انیلین (PhNH) وغیرہ۔ جب بنزین کے دو سالمات آپس میں ملاۓ جاتے ہیں ذوفنائل (C6H5-C6H5) بنتا ہے۔ اگر اس میں سے مزید ہائڈروجن کو نکالا جاتا ہے تو امیختہ (fused) ہائڈروکاربن جیسے نپتھلین (C10H8) اور اینتھراسین (C14H10) بن جاتے ہیں۔

پیداوار[ترمیم]

کاربن والے مرکبات کو نا مکمل طور پر جلایا جاے تو بنزین حاصل ہوتا ہے۔ یہ آتش فشاں ،جنگل کی آگ اور سگریٹ میں بھی پای جاتی ہے۔۱۹۵۰تک یہ لوہے کی صنعت میں کوئلہ کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے سے حاصل ہوتی تھی۔اس کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے اس کو پٹرول سے بنایا جانے لگا۔ صنعتی طور پر یہ تین کیمائ طریقوں سے بنتی ہے C6H5NH2

دوہری بناوٹی عمل انگیزی[ترمیم]

اس عمل می٘ں ھائڈروکاربن کے امیزے کوجس کا درجہ حرارت ۶۰ سے ۲۰۰ کے درمیانہے کا ھائڈروجن گیس کے ساتھ ملا یا جاتا ہے اور پھر ایک عمل انگیز ریھینیم کلورائیڈ کی موجودگی میں۵۰۰۔سینٹی گریڈ۵۲۵ اور ۸سے ۵۰ اب ہوائ دباوٓ می٘ں عمل کرایا جاتا ہے۔اس عمل میں الیفیٹک ھائڈروکاربن اپنا ھائڈروجن نکال کر ایرومیٹک ھائڈروکاربن بن جاتے ہیں۔اس ایرومیٹک کو امیزے سے علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔یہ علحیدگی مایع۔مایع علحدگی کے طریقے سے ہوتی ہے۔اس میں بنزین کو کسی بھی محلل جیسے ڈائ ایتھائیلین گلا ئیکول کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔پھر بنزین کو اس محلول سے کشید کے عمل سے علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔


ٹولین ھائیڈروڈی الکائیلیشن[ترمیم]

اس مرحلے میں ٹولین کو ھائڈروجن کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔اور عمل انگیز کرومیم مولیبڈینم یا پلاٹینم اوکسائڈکی موجودگی میں۵۰۰سے سینٹی گریڈد۶۰درجہ حرارت اور ۴۰۔۶۰ اب ہوائ دباومیں عمل کرایا جاتا ہہے۔عملانگیز کی جگہ بعص دفعہ اونچا درجہ حرارت استعمال کیا جاتاہے۔کیمیائ مساوات کے مطابق

C6H5CH3 + H2 → C6H6 + CH4

ٹولین کی غیر متنا سبیت[ترمیم]

جب دو ٹولین مالیکول آپس میں عمل کرتے ہیں تومیتھا ئل گروہ آپنے آپ کو دوبارہ ترتیب دیتےہیں اور ایک ٹولین سے میتھائل گروہ نکل کر دوسرےٹولین میں لگ جاتا ہے اس کے نتیجہ میں ایک زائیلن اور ایک بنزین کا سالمہ بن جات ہے۔

استعمالات[ترمیم]

انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے اوائل میں بنزین کو اس کی خو شگوار مہک کی وجہ سے آفٹر شیف لوشن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔۱۹۲۰ کے اوائل میں یہ صنعتی محلل خاص کر دھاتوں کی چکناھٹ دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھالیکن بعد میں اس کے زہریلے اثرات کی وجہ سےاس کے بجائےدوسرا محلل استعمال کیا جانے لگا۔ بنزین پٹرول میں اضافی طور پر ڈالا جاتا تھاکیونکہ یہ اوکٹین کی مقدار بڑھاتا ہےجس کی وجہ سے نوکنگ کم ہو جاتی ھے۔پھر بعد میں اسکی جگہ ٹیٹراایتھائل لیڈ استعمال کیا جانے لگا ۔لیکن لیڈ کے مضر اثرات کے سبب اس کو ترک کر دیا گیااور دوبارہ بنزین کا استعمال شروع کر دیا گیا۔بنزین کے مضر اثرات کے سبب امریکہ میں اس کی ایک مقدار معین کر دی گئ ہےجو کہ ایک فیصد ہے۔

موجودہ استعمالات[ترمیم]

آجکل بنزین دوسری کیمائ چیزیں بنانے کے لیےدرمیانی مرکب کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اس کے کیمیائ عمل سے اسٹائرین بنتا ہےجو کہ پولیمراو پلاسٹک بنانے میں استعمال ہوتا ہے،فینول جو کہ ریزن اور ایڈھیسف اور سائیکلوھیگزین جو کہ نائیلون بنانے میں استعمال ہوتا ہےبنزین کی معمولی مقدار ربر،لبریکنٹ،رنگ وروغن ،کپڑے دھونے کی اشیا،ادویات،دھماکہ خیز مواداورکیڑے مار ادویات میں استعمال ہوتی ہے۔ تجربے گاہ میں اس کی جگہ ٹولین استعمال کیا جاتا ہےکیونکہ اس کی خصوصیات ٹولین سے ملتی ہے جبکہ ٹولین اس کے مقابلے میں کم نقصاندہ ہوتا ہے۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]