جورج طابوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

George Tabori

جورج طابوری

برطانوی مصنف اور تھئیٹر ڈائریکٹر

ابتدائی زندگی[ترمیم]

George Tabori چوبیس مئی سن 1914ء کو مجارستان (ہنگری) کے دارالحکومت بوداپست میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اپنی اِس مذہبی وابستگی کو اُنہوں نے عمر بھر اپنے ساتھ پُر زور انداز میں جوڑے رکھا اور دوسری عالمی جنگ سے پہلے اور اُس کے دوران یہودی جس طرح سے زیرِ عتاب آئے اور گھر سے بے گھر ہوئے، وہ سب کچھ جورج طابوری کے اندازِ فکر کا بھی حصہ بن گیا۔

بچپن میں برلن میں مختصر قیام کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے واپس بوڈاپیسٹ چلے گئے اور 22 برس کی عمر میں لندن کا رُخ کیا۔ صحافی اور مترجِم کے طور پر اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا ملی۔ اِس عرصے کے دوران وہ خطہ بلقان میں بھی رہے، ترکی میں بھی اور بالآخر برطانوی فوج کے افسر کی حیثیت سے فلسطین میں تعینات ہوئے۔

تھیٹر[ترمیم]

اپنے ابتدائی ناول اُنہوں نے لندن میں لکھے، جو زیادہ کامیاب ثابت نہ ہو سکے۔ 1947ء میں اُنہوں نے امریکہ کی راہ لی اور وہیں اُنہیں وہ سب کچھ مل گیا، جس کے وہ متلاشی تھے، یعنی یورپ سے گئے ہوئے تارکینِ وطن سے ملاقاتیں اور تھامس مَن اور بیرتھولٹ بریشت جیسے جرمن ادیبوں کی صحبت۔

خاص طور پر بریشت نے تو طابوری کی زندگی ہی بدل کر رکھ دی۔ بریشت کے ڈراموں کا ترجمہ کرتے کرتے اُن کی اپنی توجہ بھی اسٹیج ڈرامے کی جانب ہوئی اور پچاس کے عشرے کے آغاز سے طابوری مشہور مصنفین کے ڈرامے لندن اور نیویارک میں اسٹیج پر پیش کرنے لگے۔

برلن آمد[ترمیم]

1968ء میں وہ برلن کے شِلر تھئیٹر میں ایک کھیل پیش کرنے کےلئے آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ آخری وقت تک فعال رہنے والے جورج طابوری نے جرمنی میں دیگر ادیبوں کے پچاس ڈراموں کو اسٹیج پر پیش کیا جبکہ خود بھی اسٹیج کے لئے چالیس ڈرامے تحریر کئے۔

اعزازات[ترمیم]

تھئیٹر کی دُنیا کا شاید ہی کوئی اہم اعزاز ہو گا، جو اُن کے حصے میں نہ آیا ہو۔ اُن کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ شیکسپیئر کے کھیل کنگ لیئر کو اسٹیج پر پیش کریں لیکن یہ خواہش پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اب اِس دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ جولائی 2007 میں ان کا انتقال ہوا۔