سرکہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ترکی میں تیار کردہ کشمش کا سرکہ

سرکہ (عربی: خل ، انگریزی:Vinegar، فارسی: سرکہ) ایک تیزابی مادہ ہوتا ہے جو عام طور پر ایتھنول (شراب) یا کی تبخیر سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے آپ شراب کی اگلی شکل کہہ سکتے ہیں۔ انگور، گنا، جامن، سیب وغیرہ میں سے کسی کو برتن میں رکھ کر دھوپ میں رکھ کر بھی تیار ہو سکتا ہے جس میں اصل میں پھل سڑ کر سرکہ بنتا ہے۔ طبِ اسلامی، چینی طب وغیرہ میں فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ بعض احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے اس کے فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ مسامات میں آسانی سے نفوذ کرتا ہے اس لیے بعض ادویہ کو سرکہ میں ملا کر دیا جاتا ہے۔

اجزاء اور تیاری[ترمیم]

اس کے بنیادی اجزاء میں خمض الخلیک (Acetic acid) شامل ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر بنائے ہوئے سرکہ میں تارتارک تیزاب (Tartaric acid) اور سیٹرک تیزاب (Citric acid) بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کی کثافت 0.96 گرام فی ملی لیٹر ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر اسے شراب سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ مسلمانوں میں شراب حرام ہے مگر سرکہ کو حلال کیا گیا ہے۔ اصل میں شراب میں خمض الخلیک (Acetic acid) کے بیکٹیریا تخسید (oxidation) کے ذریعے اسے شراب کو سرکہ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ شراب کی جگہ سڑے ہوئے پھلوں کا رس بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ شراب شراب نہیں رہتی اور سرکہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس میں نہ نشہ رہتا ہے نہ شراب کی خبیث خصوصیات۔۔ اسے مصنوعی طریقہ سے بھی بنایا جا سکتا ہے جس میں ایک سست عمل کہلاتا ہے اور ایک تیز رفتار طریقہ بھی ہے۔ سست عمل سے بہتر اور روائتی سرکہ تیار ہوتا ہے لیکن اس کے لیے بھی کچھ سرکہ یا محلول ملانا پڑتا ہے جس میں خمض الخلیک (Acetic acid) کے بیکٹیریا شامل ہوں۔

قسمیں[ترمیم]

شراب کا سرکہ[ترمیم]

سب سے عام قسم ہے جو قدیم زمانے سے مستعمل ہے۔ شراب میں خمض الخلیک (Acetic acid) کے بیکٹیریا تخسید (oxidation) کے ذریعے اسے شراب کو سرکہ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ سب سے بہترین قسم کئی سال میں تیار ہوتی ہے جو لکڑی کے بڑے برتنوں میں تیار ہوتی ہے۔ یہ قسم مشرق وسطیٰ میں زیادہ استعمال ہوتی ہے۔

جو کا سرکہ[ترمیم]

اسے جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ جو میں موجود نشاستے کو مالٹوز میں تبدیل کیا جاتا ہے جس سے سرکہ بنتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے جو کی شراب سے تیار کیا جا سکتا ہے

گنے کا سرکہ[ترمیم]

سرکہ گنے کے رس سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ یہ قسم ہندوستان و پاکستان میں عام ہے۔

پھلوں کا سرکہ[ترمیم]

سرکہ کو بے شمار پھلوں سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر کھجوریں، سیب، ناریل، کشمش وغیرہ استعمال ہوتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں مختلف پھلوں کی شراب کو سرکہ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ شراب شراب نہیں رہتی اور سرکہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس میں نہ نشہ اور شراب کی بری خصوصیات باقی نہیں رہتیں۔

شہد کا سرکہ[ترمیم]

یہ قسم کم ہے۔ زیادہ تر فرانس اور اطالیہ میں ملتی ہے۔

ادویاتی خصوصیات و استعمال[ترمیم]

خون اور دل کے امراض[ترمیم]

سرکہ کے فوائد ہزاروں سال سے معلوم ہیں۔ جدید طب میں اس پر کچھ تحقیق بھی ہوئی ہے۔ جدید طب میں اسے واضح طور پر کولسٹرول اور ٹرائیگلیسرائیڈ (Triglyceride) کم کرنے کے لیے فائدہ مند مانا گیا ہے۔[1]۔ یہ بھی پایا گیا کہ دل کے امراض میں ایک واضح کمی اس گروپ میں ہوئی جو سلاد میں سرکہ اور زیتون کے تیل کا استعمال کرتے تھے۔[2]۔

ذیابیطس[ترمیم]

سرکہ کا استعمال جدید تحقیق میں ذیابیطس اور خون میں گلوکوز کی مقدار کو درست کرنے کے لیے فائدہ مند پایا گیا ہے۔ انسولین کی دریافت سے پہلے اسے اس مرض کے لیے استعمال کروایا جاتا تھا۔ [2]۔ جدید طبی تحقیق کے کئی تجربات میں اسے خون میں گلوکوز کی مقدار (glycemic index ) کم کرنے کے لیے واضح طور پر () مؤثر مانا گیا ہے۔ یہ اثر نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں میں نہیں پایا گیا بلکہ تندرست افراد میں بھی پایا گیا۔ [3]۔[4]۔ [5]۔ بعض دیگر جدید طبی تجربات میں یہ پایا گیا کہ سرکہ کا کھانے میں کچھ عرصہ مسلسل استعمال خون میں شکر کی مقدار کو 30 فی صد تک کم کر کے ذیابیطس کو بہتر کرتا ہے اور یہ اثر قائم رہتا ہے۔ [6] ۔[7]

نظام انہضام[ترمیم]

طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سرکہ کا کھانے میں استعمال اس احساس کو بڑھا دیتا ہے کہ اب بھوک نہیں یعنی انسان کم کھاتا ہے اور اس طرح نظام انہضام بہتر رہتا ہے۔ کم کھانے سے اس سے متعلقہ امراض مثلاً ذیابیطس میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ [8]۔[9]

قدیم طب میں استعمال[ترمیم]

اوپر درج کی گئی تحقیقات کے نتائج قدیم طب میں پہلے سے ہی معلوم تھے اور ان تمام مقاصد کے لیے سرکہ کو استعمال کیا جاتا تھا۔ اوپر دیے گئے تجربات قدیم طب میں (جس میں چینی و اسلامی طب بھی شامل ہیں) دی گئی باتوں کی تصدیق کے لیے جدید طب میں کیے گئے۔ ان تمام فوائد کے علاوہ قدیم طب میں درج ذیل فوائد بھی بتائے جاتے ہیں:
محلل، قابض، مجفف اور مسکنِ درد ہے۔ زائد رطوبت کو خشک کرتا ہے۔ مسامات میں جلد سرایت کرتا ہے اس لیے دوائی کو اس میں ملا کر دیا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تلی میں سرکہ کے لیے خصوصی رغبت ہے۔ اس لیے سرکہ کی جو بھی مقدار پیٹ میں جاتی ہے، فوراً تلی میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس لیے وہ ادویہ جو تلی کے علاج میں دی جائیں، اگر اس کے ساتھ سرکہ بھی شامل کر دیا جائے تو اثر جلد ہوتا ہے۔[10] ۔بھوک پیدا کرتا ہے اور سدے کھولتا ہے۔ وبائی امراض مثلاً ہیضہ کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے۔ (بیکٹیریا کے خلاف کام بھی کرتا ہے) ۔ [11] سرکہ میں پکائے ہوئے گوشت کو یرقان میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ پیاس کو کم کرتا ہے۔ پیٹ کے امراض میں مفید ہے۔ سر کے بالوں میں دیگر کچھ اشیاء کے ساتھ ملا کر لگانے سے گرتے ہوئے بال اگتے ہیں۔

مسلمانوں کے لیے سرکہ کی اہمیت[ترمیم]

مسلمانوں کے لیے سرکہ کی بطور غذا اور دوا کافی اہمیت ہے۔ اس کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ “سرکہ کتنا اچھا سالن ہے۔“ [12]۔[13]۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہا روایت فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ، “کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے ؟“ میں نے کہا۔ “نہیں ۔ البتہ باسی روٹی اور سرکہ ہے۔“ فرمایا کہ “اسے لے آؤ۔ وہ گھر کبھی غریب نہ ہوگا جس میں سرکہ موجود ہے۔“ [14] امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ سرکہ عقل کو تیز کرتا ہے اور اس سے مثانہ کی پتھری گل جاتی ہے۔
اس کے علاوہ مسلمان اطباء نے اس کے بارے میں بہت لکھا ہے۔ مثلاً بو علی سینا کہتے ہیں کہ روغن گل میں ہم وزن سرکہ ملا کر خوب ملائیں۔ پھر موٹے کپڑے کے ساتھ سرکہ کو رگڑ کر سر کے گنج پر لگائیں۔ انہی کے ایک نسخہ میں کلونجی کو توے پر جلا کر سرکہ میں حل کرکے لیپ کرنے سے گنج ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ادرک کا پانی اور سرکہ ملا کر لگانا بھی مفید ہے۔ بال اگانے کے لیے کاغذ جلا کر اس کی راکھ سرکہ میں حل کرکے لگانے کے بارے میں بھی حکماء نے ذکر کیا ہے۔[10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Fushimi, Takashi 1, et al. (May 2006). "Dietary acetic acid reduces serum cholesterol and triacylglycerols in rats fed a cholesterol-rich diet.". British Journal of Nutrition 95 (5): 916–924. doi:10.1079/BJN20061740
  2. ^ 2.0 2.1 Johnston CS, Gaas CA (2006). "Vinegar: medicinal uses and antiglycemic effect". MedGenMed 8 (2): 61. PMID 16926800. PMC: 1785201
  3. ^ Liljeberg H, Bjorck I. Delayed gastric emptying rate may explain improved glycemia in healthy subjects to a starchy meal with added vinegar. Eur J Clin Nutr. 1998;64:886-893
  4. ^ Leeman M, Ostman E, Bjorck I. Vinegar dressing and cold storage of potatoes lowers postprandial glycemic and insulinaemic responses in healthy subjects. Eur J Clin Nutr. 2005;59:1266-1271
  5. ^ Johnston CS, Kim CM, Buller AJ. Vinegar improves insulin sensitivity to a high carbohydrate meal in subjects with insulin resistance or type 2 diabetes mellitus. Diabetes Care. 2004;27:281-282
  6. ^ Sugiyama M, Tang AC, Wakaki Y, Koyama W. Glycemic index of single and mixed meal foods among common Japanese foods with white rice as a reference food. Eur J Clin Nutr. 2003;57:743-752
  7. ^ Ostman EM, Liljeberg Elmstahl HG, Bjorck IM. Inconsistency between glycemic and insulinemic responses to regular and fermented milk products. Am J Clin Nutr. 2001;74:96-100
  8. ^ Ostman E, Granfeldt Y, Persson L, Bjorck I. Vinegar supplementation lowers glucose and insulin responses and increases satiety after a bread meal in healthy subjects. Eur J Clin Nutr. 2005;59,983-988
  9. ^ [High-glycemic index foods, hunger, and obesity: is there a connection?Roberts SB. High-glycemic index foods, hunger, and obesity Is there a connection? Nutr Rev. 2000;58:163-169]
  10. ^ 10.0 10.1 بحوالہ فیض رضا فورم۔ اخذ کردہ 24 جولائی 2009ء
  11. ^ کتاب المفردات از حکیم مظفر حسین اعوان، مطبوعہ لاہور
  12. ^ صحیح مسلم حدیث 2052
  13. ^ مشکوٰۃ المصابیح
  14. ^ صحیح ترمذی
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=سرکہ&oldid=726146’’ مستعادہ منجانب