شوپنہائر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شوپنہائر

شوپنہائر (Arthur Schopenhauer) (1860-1788) ایک قنوطی جرمن فلسفی تھا۔ 19 ویں صدی کے ابتدائی عشروں کی افراتفری جو انقلاب فرانس اور نپولین کی جنگوں کی وجہ سے یورپ میں آئی اسکے نظریا ت میں نظر آتی ہے۔ اسے زندگی بری، فضول اور مصیبتوں سے بھری نظر آئی۔ اپنے نظریات کو اسنے اپنی کتاب The World as Will and Idea میں پیش کیا۔

شوپنہائر کی تشکیل[ترمیم]

شاید ہی کسی تحریک نے نوجوان نسل کو اتنے زیادہ خواب دکھاۓ ہونگۓ جتنے انقلاب فرانس نے یورپ کی نوجوان نسل کو دکھاۓ اور شاید ہی اتنے خواب ٹوٹے ہونگے جتنے کہ اس نسل کے ٹوٹے۔ ماسکو سے پیرس تک پورا یورپ انقلاب فرانس اور نپولین کی جنگوں کی وجہ سے ایک قبرستان میں تبدیل ہو چکا تھا۔ بیتھون نے اپنی پانچویں سمفنی کو مایوسی سے پھاڑ ڈالا جو کہ اسنے نپولین کے نام کی تھی کیونکہ انقلاب فرانس کا بیٹا نپولین آسٹریا کے شاہی خاندان میں شادی کرنے کے بعد رجعت پسند قوتوں کا نگہبان بن چکا تھا۔ انگریز شاعر ولیم ورڈز ورتھ نے صورت حال سے مایوس ہو کر فطرت میں پناہ لی، حال اور مستقبل اتنا مایوس کن تھا کہ جان کیٹس ماضی میں کھو گیا اور کالرج نے افیم میں پناہ لی۔ یورپ کی اس قتل و غارت اور مایوس کن صورت حال نے شوپنہائر کے مایوس فلسفے کو جنم دیا۔

شوپنہائر 22 فروری 1788 کو جرمن شہر ڈانزگ میں پیدا ہوا اسکا باپ ایک تاجر تھا جو اپنی تیز مزاجی اور آزاد پسندی کی وجہ سے مشہور تھا۔ جب ڈانزگ پر پولینڈ کا قبضہ ہوا تو اس آزادی پسند جرمن خاندان نے ڈانزگ کو چھوڑ دیا۔ اسکا باپ جلد ہی فوت ہوگيا۔ شوپنہائر کی اپنی ماں سے نہ بن سکی جو کہ جرمن زبان کی ناول نگار تھی اور علیحدگی کے وقت اسنے اپنی ماں سے کہا کہ آئندہ وقت تجھے مجھ سے پہچانے گا۔ جرمن شاعر اور فلسفی گوئٹے نے اسکی ماں کو کہا کہ شوپنہائر درست کہہ رہا ہے۔

شوپنہائر کا چنانچہ دنیا میں نہ باپ تھا نہ ماں نہ بیوی اور نہ ہی بچے اور شدید تنہائی تھی۔

نظریات[ترمیم]

دلچسپ باتیں[ترمیم]