آرمیگڈون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آرمیگڈون (انگریزی: Armageddon، عبرانی: מגידו) دنیا کے خاتمے کو کہا جاتا ہے۔ آرمگڈون، آرمیگاڈون اور ارمجدون، ہرمجدون بھی کہا جاتا ہے۔ مسیحیوں کے نزدیک یہ ایک مقدس جنگ ہے جس کی کمان یسوع مسیح خود کریں گے۔ ان کے مطابق اس جنگ میں کم از کم تین ارب انسان ختم ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ خیر اور شر کے درمیان یہ خوفناک جنگ فلسطین کے علاقے میں واقع ہو گی۔ ان کے پادری کہتے ہیں کہ خدا کی ہدایت کے مطابق ہمیں اس دنیا کو کلی طور پر ختم کر دینا چاہیے، ان کا عقیدہ ہے کہ یہ جنگ بت پرستوں اور حق پرستوں یعنی مسیحیوں کے درمیان واقع ہو گی۔ واضح رہے کہ بت پرستوں سے مسیحی مبلغین کی مراد مسلمان اور یہودی دونوں ہیں۔

آج کل مغرب خصوصاً امریکہ میں آرمیگڈون (Armageddon) کا نظریہ بہت مقبول ہو رہا ہے، بلکہ اب اس کی مقبولیت نظرئیے سے بڑھ کر ایک تحریک کی سی ہو گئی ہے۔

مسیحی نظریہ[ترمیم]

اس ضمن میں امریکا کے سابق صدر ریگن کے الفاظ قابل غور ہیں۔ انہوں نے ایک چرچ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کم سے کم بیس کروڑ سپاہی مشرق یعنی مسلم ممالک سے آئیں گے جب کہ کروڑوں سپاہی مغربی طاقتوں کے ہوں گے، سلطنت روماکی تجدید و قیام کے بعد پھر عیسیٰ مسیح ان مشرقی افواج پر حملہ کریں گے، جنہوں نے ان کے یروشلم کو غارت کر دیا ہے ۔[1]

وہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یروشلم سے دو سو میل تک اتنا خون بہے گا کہ وہ زمین سے گھوڑوں کی باگ کی بلندی تک پہنچ جائے گا اور یہ ساری وادی انسانوں اور جانوروں کے خون سے بھر جائے گی۔ [2]

صدر ریگن گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، لیکن اس دن خدا انسانی فطرت کو یہ اجازت دے دے گا کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح ظاہر کر دے۔ دنیا کے سارے شہر لندن، پیرس، ٹوکیو، نیویارک اور شکاگو وغیرہ سب کے سب اس دن صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو جائیں گے۔ [2]

امریکا کے ایک اور صدر جمی کارٹر آرمیگڈون کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسرائیل کا قیام، بائبل کی پیشین گوئی کی تکمیل اور بائبل کے بیان کا حاصل ہے۔[3]

ایک مسیحی بنیاد پرست اوول کہتا ہے کہ کٹر یہودی مسجد اقصیٰ کو بم سے اڑا دیں گے جس سے مسلم دنیا بھڑک اٹھے گی، یہ اسرائیل کے ساتھ ایک مقدس جنگ ہو گی اور اس کے نتیجے میں مسیح علیہ السلام مجبورہو جائیں گے کہ درمیان میں مداخلت کریں۔ [4]

ایک اور بڑا مبلغ ڈیلوک علی الاعلان کہتا ہے کہ اسرائیل اپنے ہمسائے کے خلاف جنگ کرتے ہوئے خدا کی رضا پوری کر رہا ہے۔ [5]

1990ء میں جب خلیج کی جنگ جاری تھی اور حالیہ عراق جنگ میں بھی عالمی ذرائع ابلاغ سے آرمیگڈون کا ذکر بڑے زور و شور سے ہو رہا تھا، امریکا کے سب سے زیادہ سنے جانے والے مبلغ جیری فال ویل علانیہ کہتے ہیں کہ آخری جنگ ایک خوفناک حقیقت ہے اور ہم سب آخری نسل کا حصہ ہیں۔ فال ویل کہتے ہیں کہ ایک آخری جھڑپ ہو گی اور پھر خدا تعالیٰ اس کرہ ارض کو ٹھکانے لگا دے گا۔ [6]

فال ویل کے ساتھ ایک اور بنیاد پرست مبلغ لینڈسے (Lindsey) کہتا ہے کہ اس وقت ایک درجن ممالک کے پاس ایٹمی اسلحے موجود ہیں، چنانچہ ہم یقینی طور پردنیا کو ختم کر سکتے ہیں۔ [7]

آخری جنگ عظیم کے نظرئیے پر کاربند مقبول عام پادری نہ صرف بڑے بڑے ہجوموں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بہت دولت بھی کماتے ہیں۔ ایک پادری اوول نے اپنے سننے والوں سے اسی لاکھ ڈالر طلب کیے تو وہ رقم انہیں اسی وقت فراہم کر دی گئی۔

آرمیگڈون کی جنگ کے موضوع پر اس وقت لاکھوں نہیں کروڑوں کے حساب سے کتابیں فروخت ہو رہی ہیں۔ آنجہانی کرہ ارض (The Late Great Plannet) نامی کتاب مصنفہ ہال لینڈسے کی اب تک دو کروڑ پچاس لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ ایک اور بڑے مصنف Tim Lahaye کی کتاب کی تیس لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹر نے بتایا کہ ان کتابوں کی مقبولیت سے اندازہ ہو تا ہے کہ وہ مسیحیوں سے نکل کر سیکولر افراد میں بھی پہنچ گئی ہیں۔ اس نے لکھا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتابیں ہمارے کلچر پر بھی حاوی ہو گئی ہیں۔

امریکہ کی نامور مصنفہ گریس ہالسیلز نے ایک بار ایک ممتاز مذہبی اسکالر براڈ سے دریافت کیا کہ کیا یہ جنگ عظیم فلسطین میں ہو گی؟ تو انہوں نے جواب دیا، ہاں یہیں ہو گی۔ جب مصنفہ نے مزید سوال کیا کہ آرمیگڈون کی فتح کے بعد کیا ہو گا؟ تو براڈ نے جواب دیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور بادشاہ داؤد علیہ السلام کے تخت پر بیٹھ کر حکومت کریں گے۔ اس نے سوال کیا کہ کیا یہودی عبادت گاہ (ہیکل) میں؟ (واضح رہے کہ یہودیوں کے نزدیک حضرت داؤد علیہ السلام ہیکل میں بیٹھ کر عبادت کیا کرتے تھے)۔ براڈ نے جواب دیا کہ ہاں وہ بادشاہ داؤد کے تخت پر بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت کریں گے۔ [8]

ایک امریکی بنیاد پرست پادری نے کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں بائبل کا عالم ہوں اور علوم دینی کا ماہر۔ میری اپنی بصیرت کے مطابق خدا کا قانون امریکی حکومت اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے قانون سے بالاتر ہے۔ [9]

ایک اور نمایاں مسیحی مذہبی مبلغ Cloyd تبلیغ کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ پہلا وار حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود کریں گے۔ وہ ایک نیا ہتھیار استعمال کریں گے جس کے وہی اثرات ہوں گے جو نیوٹرون بم کے ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے قدموں پر کھڑے رہی ں گے لیکن ان کا سارا گوشت گل چکا ہو گا، ان کی آنکھیں اپنے خولوں میں ختم ہو چکی ہوں گی اور زبانیں منہ کے اندر گل چکیں ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ تم انہیں محض ایک مذہبی رہنما نہ سمجھو بلکہ وہ ایک فائیو اسٹار جنرل ہوں گے۔ [10]

اس وقت سارے امریکہ میں بنیاد پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور حکومت امریکا اس میں خود پیش پیش ہے، جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا کہ بنیاد پرست مسیحی مبلغین کو نہ صرف عام افراد پوری توجہ سے سنتے ہیں بلکہ امریکہ صدر بھی ان کی باتوں پر مِن و عَن ایمان لاتے ہیں۔ انہیں ان کی طلب کے مطابق بھاری عطیات بھی فوری طور پر دئیے جاتے ہیں، دوسری طرف بنیاد پرستی اور جنگی جنون کے نظرئیے پر مبنی کتابیں بھی لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہو رہی ہیں۔

اب ایک طرف تو آرمیگڈون کو آگے بڑھانے اور اس کی تیاری کے لیے یہ صورت حال ہے اور دوسری طرف پوری اسلامی دنیا میں بنیاد پرستی کو ایک گناہ اور گھناؤنا جرم بنا کر اسے جڑ سے نکالا جا رہا ہے۔ علما اور تحریکی افراد کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال مسلم دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

واضح رہے کہ آرمیگڈون جیسی خوفناک خونی جنگوں سے بچنے کے لیے مسیحی مبلغین نے ایک نیا عقیدہ اپنے عوام کو دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے وقوع سے پہلے یسوع مسیح آسمان پر آکر تمام مسیحیوں کو بادلوں پر بلا لیں گے اور وہاں انہیں نجات عطا کریں گے۔ مسیحی اس عقیدے کو Rapture یعنی فضائی نجات کہہ کر پکارتے ہیں، ان کو یقین ہے کہ اس ایٹمی و جراثیمی جنگ میں نزول مسیح ہو گا اور ایمان والے مسیحی ان کے ساتھ بادلوں میں اوپر چلے جائیں گے۔ اس کے بعد دنیا سے بت پرستوں اور مشرکوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور اوپر آسمان سے وہ خیر و شر کا آخری معرکہ دیکھیں گے۔ واضح رہے کہ آج کی مسیحی دنیا میں تیزی سے پھیلنے والی تحریک یہی ہے۔ [11]

ان کے عقیدے کے مطابق یسوع مسیح ایک بار پھر اپنے ماننے والوں کو لینے کے لیے زمین پر آئیں گے اور اس کے بعد وہ آخری جنگ عظیم لڑنے کے لیے دوبارہ فلسطین (یروشلم)میں آئیں گے۔ [12]

ایک ممتاز دانشور کارل ملین ٹائر لکھتا ہے کہ خدا کا شکر ہے کہ میں جنت کی بلند و بالا نشست سے آرمیگڈون کی جنگ کا منظر دیکھوں گا۔ (ایک ممتاز ایونجلسٹ کارل میلنٹائر۔ جدید صلیبی جنگ۔ گریس ہال سیل صفحہ 42)۔

مسیحیوں کے یہ عقائد و خیالات جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہیں، لیکن اوپر سے لے کر نیچے تک وہ سب کے سب اس میں مگن ہیں بلکہ وہ ان کو حقیقت بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ ان کی نظر میں ہر آنے والا دن عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا دن ہے۔ دوسری طرف جب نظر مسلمانوں کے حالات پر جاتی ہے تو دل خوف سے بیٹھ جاتا ہے۔ پوری مسلم دنیا پر بے حسی طاری ہے۔ کسی کو خبر ہی نہیں ہے کہ کتنے خوفناک لمحات ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کی بودوباش، چلنا پھرنا، گفت و شنید، شب و روز کی سرگرمیاں اور شادی و بیاہ کی تقریبات سب کی سب یہی کہہ رہی ہیں کہ انہیں اپنے ذبح کیے جانے کا احساس بھی نہیں ہے۔ حالانکہ ہر طرف ان کی بربادیوں کے مشورے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا میں کسی کو بھی خوفناک آرمیگڈون کی آمد کی کوئی فکر نہیں ہے۔

یہودیوں کا نظریہ[ترمیم]

مسلمانوں کا نظریہ[ترمیم]

اہل سنت[ترمیم]

اہل تشیع[ترمیم]

اہل تشیع کے مطابق امام مھدی علیہ السلام 12 امام میں آخری امام میں اور یہ جنگ آپ علیہ السلام اور دجال کے لشکروں کے درمیان ہو گی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہال لینڈ سے کتاب دی لیٹ گریٹ پلینٹ ارتھ
  2. ^ 2.0 2.1 ہال سیل، کتاب خوفناک جدید صلیبی جنگ
  3. ہال سیل، کتاب خوفناک جدید صلیبی جنگ ،صفحہ69
  4. ہال سیل، کتاب خوفناک جدید صلیبی جنگ ،صفحہ 75
  5. ہال سیل، کتاب خوفناک جدید صلیبی جنگ ،صفحہ 80
  6. ہال سیل، کتاب خوفناک جدید صلیبی جنگ ،صفحہ 8
  7. ہال سیل، کتاب خوفناک جدید صلیبی جنگ ،صفحہ 7
  8. وہی مآخذ، صفحہ54
  9. وہی مآخذ صفحہ102
  10. وہی مآخذ، صفحہ 25
  11. وہی مآخذ، صفحہ 37
  12. وہی مآخذ، صفحہ 42