ابو سعید گنگوہی
ابو سعید گنگوہی (متوفی:1630ء) چشتیہ صابریہ سلسلے کے ایک ہندوستانی روحانی پیشوا، صوفی، مبلغ، مصلح مصنف اور عالم تھے۔ وہ عبد القدوس گنگوہی کے پڑپوتے اور جلال الدین تھانیسری کے نواسے تھے۔
| ابو سعید گنگوہی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| مقام پیدائش | گنگوہ |
| وفات | سنہ 1630ء گنگوہ |
| شہریت | ہندوستانی |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | صوفی ، عالم ، مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی ، فارسی |
| درستی - ترمیم | |
سوانح
[ترمیم]ابو سعید گنگوہی صوفی بزرگ عبد القدوس گنگوہی کے پوتے تھے۔[1] ان کا تعلق ایک علمی و روحانی خاندان سے تھا، اسی لیے ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وہ ظاہری و باطنی علوم کے جامع تھے۔ وہ نظام الدین بلخی تھانیسری سے بیعت ہوئے اور کثیر ریاضت و مجاہدہ کے بعد اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔[2]
ان کے مشاہیر خلفاء میں محمد صادق گنگوہی، ابراہیم رامپوری، محب اللہ الہ آبادی، ابراہیم سہارنپوری اور خواجہ پانی پتی شامل ہیں۔[3][2]
وفات
[ترمیم]1049ھ بہ مطابق 1630ء کو گنگوہ میں ان کی وفات ہوئی، ان کا مزار گنگوہ میں شاہ عبد القدوس گنگوہی کے مزار کے جنوب میں واقع ہے۔[4] اور عبد القدوس گنگوہی کے مزار کے جنوب میں سپردِ خاک کیے گئے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ محمد ایوب شیخ (29 مئی 2022ء)۔ "ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں ( 2)"۔ نوائے وقت۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-02-04۔
حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی جو مشائخ چشتیہ میں بہت اونچا مقام رکھتے ہیں، ان کے پوتے شاہ ابو سعید صاحب جو سلسلہ چشتیہ کے مشائخ میں سے ہیں
- ^ ا ب محمد زکریا کاندھلوی۔ تاریخ مشائخ چشت (پہلا ایڈیشن)۔ جھنجھانہ، ضلع شاملی: شعبۂ نشر و اشاعت مدرسہ عربیہ اسلامیہ نور محمدیہ۔ ص 216–220
- ↑ خلیق احمد نظامی۔ تاریخ مشائخ چشت (پہلا ایڈیشن)۔ لاہور: مشتاق بک کارنر۔ ص 216
- ↑ عبد الحئی حسنی حسنی (1999)۔ نزہۃ الخواطر و بہجۃ المسامع (بزبان عربی) (پہلا ایڈیشن)۔ لبنان: دار ابن حزم۔ ص 469