ادریس آزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ادریس آزاد
Idris Azad.jpg
ادیب
پیدائشی نامادریس احمد
قلمی نامادریس آزادؔ
تخلصآزادؔ
ولادت7 اگست 1969ء خوشاب
ابتدالاہور، پاکستان
اصناف ادبشاعری، افسانہ ، ناول نگار، نثر
ذیلی اصنافغزل، نظم
ادبی تحریکترقی پسند
تعداد تصانیف15
تصنیف اولابن مریم ہوا کرے کوئی
تصنیف آخرقرطاجنہ
معروف تصانیفسلطان محمد فاتح ، عورت، ابلیس اور خدا

ادریس آزادؔ (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اور کالم نگار ہیں [1][2]۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا پیدائشی نام "ادریس احمد" ہے لیکن اپنے قلمی نام "ادریس آزادؔ" سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔[3] بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کیں ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب "عورت، ابلیس اور خدا"[4] ،"اسلام مغرب کے کٹہرے میں"[5] اور "تصوف، سائنس اور اقبالؒ"[6] ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ "روزنامہ دن"، "آزادانہ" [7] کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔[8]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پیدائش[ترمیم]

ادریس آزاد “ قاری سعید احمد اسعد“ کے گھر پیدا ہوئے جو ایک عالم دین "مولانا اسماعلیل دیوبندیؒ" کے بیٹے ہیں۔ خوشاب شہر ان کی جائے پیدائش ہے جو پنجاب کا ایک صوبہ ہے۔ تعلیمی دستاویزات کی رو سے ان کی تاریخ پیدائش 25 مارچ 1970ء ہے جبکہ موصوف 17 اگست 1969ء کو اپنی تاریخ پیدائش تسلیم کرتے ہیں [1]۔ اس سلسلے میں بتاتے ہیں کہ ؛ "میرے دادا جی (مولانا اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنے نجی ڈائری پر 7 اگست 1969ء کے صفحہ پر لکھا ہے ۔۔۔۔۔ تولد عزیز ادریس احمد بوقت 7:30 بجے دن کے ۔۔۔۔۔۔"۔ لٰہذا میری درست تاریخ پیدائش یہی ہے۔[8]

تعلیم کا حصول[ترمیم]

ان کی تعلیمی دستاویزات واضح کرتی ہیں کہ “گورنمنٹ پرائمریاسکول نمبر1 مین بازار خوشاب“ سے 1980ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ 1983ء مڈل گورنمنٹ ہائیاسکول ٹانک (خیبر پختونخوا) سے بہ درجہ اول اور میٹرک 1985ء میں گورنمنٹ ایم۔ سی ہائیاسکول خوشاب سے پاس کیا۔ انہوں نے ایف۔ اے اور بی۔ اے کے امتحانات بالترتیب 1987ء اور 1989ء میں گورنمنٹ کالج سرگودھا (سرگودھا یونیورسٹی)سے پاس کیے۔ اور پنجاب یونیورسٹی لاہور ہے فلسفے کی ڈگری حاصل کی۔[8]

ادبی ماحول[ترمیم]

ان کی تربیت دینی و علمی ماحول میں ہوئی۔ علم کی لو اُن کی گھٹی میں ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی نظم اس وقت لکھی جب وہ پرائمریاسکول کے طالبعلم تھے۔[9] ان کی طبیعت کی ادبی آبیاری میں ان کے گھر کے ساتھ ساتھاسکول اور کالج کا کردار نمایاں ہے۔ "اردو مجلس۔ جوہرآباد" کے تحت انہوں نے اپنے ادبی ذوق کو جلا دی، پھر گورنمنٹ کالج سرگودھا (سرگودھا یونیورسٹی) کے ادبی ماحول سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں لاہور کے ادبی حلقوں اور خصوصاً اسلام آباد کے ادبی حلقوں سے مستفیز ہوئے۔ ان کی ادبی شناخت بطور ناول نگار، افسانہ نگار، شاعر اور نثر نگار ہے۔ غیر افسانوی کتب بھی منصہء شہود پر آچکی ہیں۔[8]

ادبی خدمات[ترمیم]

بطور شاعر[ترمیم]

پاکستان کے ادبی حلقوں میں ادریس آزاد ایک کہنہ مشق شاعر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی شاعری ندرت خیال اور فن عروض سے مرسع ہوتی ہے۔ ان کا اسلوب بندھا ٹکا اور نپا تلا ہوتاہے :[10]

نمونہء شاعری

گذشتہ شب جو ہستی برفرازِ دارتھی میں تھا

پھر اگلے دن جو سرخی شوکت ِ اخبار تھی، میں تھا[11]

وہاں کچھ لوگ تھے، الزام تھے، باقی اندھیرا ہے

بس اتنا یاد ہے جلاد تھا، تلوار تھی، میں تھا

جہاں تصویر بنوانے کی خاطر لوگ آتے تھے

وہاں پس منظرِ تصویر جو دیوار تھی میں تھا

میں اپنا سر نہ کرتا پیش اجرت میں تو کیا کرتا؟

تمہاری بات تھی، وہ بھی سرِ بازار تھی، میں تھا

یہ ویراں سرخ سیّارے، انہیں دیکھوں تو لگتا ہے

تری دنیا میں جو چہکار تھی، مہکار تھی میں تھا

خفا مت ہو! مرے بدلے وہاں گلدان رکھ دینا

ترے کمرے کی چیزوں میں جو شے بیکار تھی، میں تھا

تمہارے خط جو میں نے خود کو ڈالے تھے نہیں پہنچے

تو انجانے میں جس کے پیار سے دوچار تھی میں تھا

مرے کھلیان تھے، دہقان تھے، تقدیر تھی، تو تھا

ترا زندان تھا زنجیر تھی، جھنکار تھی، میں تھا

افسانوی نثر[ترمیم]

ادریس آزاد کی افسانوی نثر کا محور ناول نگاری ہے۔ ان کے شائع ہونے والے ناولوں کا موضوع اسلامی تاریخ ہے ۔سلطان محمد فاتح ان کا پہلا ناول ہے۔ تاریخی پس منظر میں موضوع کا چناؤ ناول نگار کے حسن انتخاب کے شعور کی دلیل ہے۔ قمر اجنالوی کی ناول نگاری سے حد درجہ متاثر ہیں۔ قمر اجنالوی کے ناول "سلطان، جنگ مقدس، بغداد کی رات اور خان الغازی" جو قرون وسطیٰ کی اسلامی تاریخ پیش کرتے ہیں۔ ادریس آزادؔ کی ناول نگاری ان مذکورہ ناولوں کے قریب قریب نظر آتی ہے۔ ایک ناول نگار گمشدہ تہذیب، تاریخ یا زمانے کی بازیافت کا فریضہ سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔ گمشدہ حقائق و واقعات کو منظرعام پر لاکر قدیم و جدید کے درمیان میں رابطہ استوار کرتاہے۔ دراصل ناول نگار اس عمل کے ذریعے ماضی کے طرز احساس کو اجاگر کر رہا ہوتا ہے۔ دیگر ناول نگاروں کی طرح ادریس آزاد نے بھی یہی کام کیا ہے۔ ادریس اپنے ہم عصروں میں اس لیے ممتاز ہیں کہ انہوں نے محض اسلامی تاریخ پر قناعت نہیں کی بلکہ دیگر قبائل اور ممالک کی تاریخ کے دھندلکوں میں بھی جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کام انتہائی مشکل اور بظاہر ناممکن سہی لیکن اپنے مطالعہ اور ذوق کے پیش نظر ممکن بنایا ہے ۔

منظر نگاری[ترمیم]

"صبح دم افق کے دریچے سے سورج کی پہلی کرن جھانکتی تو سیدھی صدر دروازے کی بالکونی پر پڑتی۔ چڑیاں چہچہانے لگتیں اور ندی صبح کی آمد کا گیت گنگنانا شروع کردیتی۔ سورج غروب ہونے لگتا تو مکان کی عقبی طرف چلا جاتا۔ مکان کی پشت پر لیٹے جھلمل کرتے پانی میں دن بھر کا تھکا ماندا سورج منہ ہاتھ دھوتا شفق پاراترنے سے پہلے مشرقی پہاڑیوں کی اوٹ میں تھوڑی دیر کے لیے رک کر غمگین نظروں کے ساتھ وادی میں رکھے جل پنا کے مقام کو جھانکتا۔ سفق کی لالی پھیل کر تالاب کو چند لمحوں کے لیے خون آلود کرد یتی۔ "[12]

"ذہن میں تصویر نہیں بنتی، تصور بنتا ہے اور ذہن رحم مادر کی طرح اس تصویر کو اپنے تن بدن کا لہو پلا کر پرورش دیتا ہے۔ بالآخر وہ تصور جنم لیتا ہے تو تصویر بن جاتی ہے۔ میں کیوں نہ چاہوں گی کہ میری بنائی ہوئی تصویر کوئی دیکھے۔ میں مصورہ اس لیے ہوں کہ اپنا شاہکار دوسروں کو دکھا سکوں۔ خدا کیا چاہتا ہے، کیا وہ بھی یہی نہیں چاہتا؟ خدا بھی ایک مصور ہے۔ "[13]

بطورفلسفی[ترمیم]

ادریس آزاد رجعت پسند، آئیڈئیلسٹ فلسفی ہیں ۔[14] ان کا سب سے اہم کام بائیوسوشائیلوجی پر ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کرہ ہر زندہ جاندار بڑی شدت کے ساتھ زمین کے ساتھ منسلک ہے۔ جسے زمینی پویستگی یا ارتھ روٹیڈنس کہتے ہیں۔ جتنا کوئی زمین کے نزدیک ہوگا اتنی اس کی زندگی ارزل ہو گی۔ ادریس آزاد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بائیوسوشائیلوجکلی جانور چار گروہوں میں منقسم ہیں۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

  1. جھنڈ
  2. غول
  3. ریوڑ
  4. ڈار[14]

جانوروں کے عمیق مطالعہ کے بعد انہوں نے روح حیوانی کا نظریہ پیش کیا ہے۔ بعینہ ہمہ روح حیوانی کی ترکیب مسلم تصوف میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ ادریس آزاد نے اس ترکیت کا اپنے نظریہ کے ساتھ ططابق پیدا کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ارتقا کے دروان بہت سی وجوہات ایسی تھیں جن کی وجہ سے انسان نے جانوروں کی خصلتیں اختیار کیں۔ ادریس آزاد انسانوں کو معاشرہ میں، پرندوں کی طرح زندگی بسر کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ الہٰیات پر بات ہو تو ادریس آزاد کے مطابق خدا کا انکار کسی صورت ممکن نہیں، اگرچہ خدا کے ہونے کو ثابت کرنے میں بھی عقل نارسا ہے۔ ان کی تعلیمات سے بعض اوقات ظاہر ہوتا ہے کہ بدھوں کی طرح غیر شخصی خدا کے قائل ہیں۔ تاہم وہ شخصی خدا کے ماننے پر زور دیتے ہیں جسے ثابت کرنے میں عقل کی رسائی نہیں۔ اسی طرح کائنات کی معقولیت کو شخصی خدا کے ہونے کا ثبوت سمجھتے ہیں۔ آزادیء اختیار کے بارے میں ادریس آزاد اپنی کتاب " تصوف، سائنس اور اقبال " میں لکھتے ہیں کہ :

"فطرت ہمیں چنتی ہے کہ ہم فطرت کو چنیں "[14]

وہ انسان کے مسقبل کے بارے میں بہت ہی پر امید ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک دن یہ زمین انسانیت کے لیے بہت ہی اچھی جگہ بن جائے گی۔ ادریس آزاد کے بقول ابھی انسان نادان اور کم علم ہے لیکن وہ بڑی تیزی کے ساتھ اعلیٰ انسانی اقدار کو اختیار کر رہے ہیں ۔

تصــــانیف[ترمیم]

فلسفـــہ

  • عورت، ابلیس اور خدا[4]
  • موسیقی، تصویر اور شراب[15]
  • اسلام مغرب کے کٹہرے میں[5]
  • تصوف، سائنس اور اقبالؒ[6][16]

ناول

  • سلطان محمد فاتحؒ [17]
  • ابنِ عطاش[12]
  • سلطان شمس الدین التمش[18]
  • بحراَسود کے اُس پار[13]
  • اُندلس کے قزاق[19]
  • قرطاجنه[20]

دیگر تصانیف

  • نئی صلیبی جنگ اور اسامه [21][22]
  • بازگشت[23][24]
  • ابن مریم ھوا کرے کوئی[25]
  • منشیات اور تدارک[26]
  • نجات کے راستے پر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اکادمی ادبیات حکومت پاکستان۔ "Writers Directory"۔ رائٹرز ڈائریکٹری۔ اکادمی ادبیات، اسلام آباد، حکومت ِپاکستان۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2014۔
  2. OpenLibrary.org، ادریس آزاد - مصنف (اگست 07, 1969)
  3. "اردو ادب کے فروغ میں خوشاب کو حصہ از محسن عباس"۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد۔ Unknown parameter |صفحات= ignored (معاونت)
  4. ^ ا ب ادریس آزادؔ۔ "عورت ، ابلیس اور خدا : تہذیبوں کی جنگ کے رومانوی محاذ، فلسفہء جنسیات پر ایک باضابطہ تحریر"۔ Book۔ لاہور : خزینہء علم و ادب ، الکریم مارکیٹ، اردوبازار۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔| کیٹالاگ۔ بی ایل۔ یوکے
  5. ^ ا ب "اسلام مغرب کے کٹہرے میں / ادریس آزادؔ"۔ Book۔ لاہور : خزینہ علم و ادب : ملنے کا پتہ، مکتبہء رحمانیہ۔کیٹلاگ ایل او سی
  6. ^ ا ب "تصوف، سائنس اور اقبالؒ"۔ ورلڈ کیٹ ڈاٹ اوآرجی
  7. {{| کالم کا عنوان = آزادانہ، آن دا ریکارڈ اخبار =روزنامہ دن | تاریخ = 2011 ء سے تاحال}}
  8. ^ ا ب پ ت Scribd: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، مقالہ ایم فل اردو آن لائن الیکٹرانک نقل ملاحطہ کریں،۔ صفحات: 63 تا 68
  9. " ادریس آزادؔ بطور شاعر، ناول نگاراور فلسفی "
  10. پروفیسر ڈاکٹر بدر منیر۔ دیدہء خوشاب۔ خزینہء علم و ادب ، الکریم مارکیٹ ،اردو بازار ، لاہور۔ صفحات 160 تا 165۔ Unknown parameter |pages-indicator= ignored (معاونت); Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)
  11. ریاض امین۔ "خانہء فرہاد"۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)9 فروری، 2012
  12. ^ ا ب ابن عطاش۔ القریش پبلیکیشنز، اردو بازار،لاہور۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ گوگل بکس پاکستان – ابن عطاش
  13. ^ ا ب بحر اَسود کے اس پار۔ القریش پبلیکیشنز، اردو بازار،لاہور۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ گوگل بکس پاکستان – بحر اسود کے اس پار
  14. ^ ا ب پ "Earth Rootedness and Animal Spirit by Idrees Azad (Part 1)"۔ Audio Lecture on Earth Rootendess۔ ALl-Qasim Trust۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 21, 2012۔ Unknown parameter |Parts= ignored (معاونت)
  15. موسیقی، تصویر اور شراب۔ خزینہء علم و ادب اردو بازار،لاہورگوگل بکس-۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  16. "تصوف، سائنس اور اقبالؒ / ادریس آزادؔ"۔ Book۔ لاہور : خزینہء علم و ادب۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ کیٹلاگ بی ایل یو کے
  17. "سلطان محمد فاتح"۔ القریش پبلیکیشنز، اردو بازار،لاہور۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اوپن لائبریری – سلطان محمد فاتح۔ ناول
  18. سلطان شمس الدین التمش۔ القریش پبلیکیشنز، اردو بازار،لاہور۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ گوگل بکس پاکستان – سلطان شمس الدین التمش
  19. اندلس کے قزاق۔ القریش پبلیکیشنز، اردو بازار،لاہور۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ گوگل بکس پاکستان – اندلس کے قزاق
  20. قرطاجنہ۔ القریش پبلیکیشنز، اردو بازار،لاہور۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ گوگل بکس پاکستان – قرطاجنہ
  21. "نئی صلیبی جنگ اور اسامہ"۔ خزینہء علم و ادب، اردو بازار،لاہور۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ ورلڈ کیٹ ڈاٹ او آر جی
  22. "نئی صلیبی جنگ اور اسامہ / ادریس آزاد"۔ لاہور : خزینہء علم ادب : الکریم مارکیٹ ، اردو بازار۔ کیٹلاگ ایل او سی جی او وی
  23. "مشاہیر عالم کی یادگار تقریریں : بازگشت / ادریس آزادؔ"۔ خزینہء علم و ادب، اردو بازار،لاہور۔ ورلڈ کیٹ ڈاٹ او آر جی
  24. clio.cul.columbia.edu بازگشت / ادریس آزاد کیٹلاگ ایل او سی
  25. "ابن مریم ھوا کرے کوئی ۔ از ادریس آزادؔ ، 1998"۔ ینگ سکالرز اکیڈمی ، خوشاب۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  26. "منشیات اور تدارک"۔ خزینہء علم و ادب، اردو بازار،لاہور۔ prism.talis.com

بیرونی رابطے[ترمیم]