ادھم سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ادھم سنگھ

معلومات شخصیت
پیدائش 26 دسمبر 1899  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سونام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 31 جولا‎ئی 1940 (41 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن غدر پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تنظیم غدر پارٹی، Hindustan Socialist Republican Association, Indian Workers' Association
تحریک تحریک آزادی ہند
الزام
الزامات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جرم کی سزا (P1399) ویکی ڈیٹا پر
Udham Singh taken away from Taxon Hall.jpg

ادھم سنگھ پنجاب کاایک غیور اور دلیر انسان تھا۔ وہ جلیانوالہ باغ کاالمیہ فراموش نہ کرسکا۔ یہ واقعہ اس کے سینے میں کانٹے کی طرح پیوست ہو گیا۔ اس نے عزم کر لیا کہ وہ جلیانوالہ باغ کے قاتل ڈائر سے بدلہ لے کر ہی دم لے گا اور اس نے جلیانوالہ باغ کے شہیدوں کی قیمت اس وقت چکائی جب سرمایہ دار قومی نیتا آزادی کے نام پر برطانوی سامراج سے سودا بازی کرنے میں مصروف تھے۔ اُدھم سنگھ کو اپنا عزم پورا کرنے کاموقع جلیانوالہ باغ واردات کے بیس سال بعد ملا جبکہ لندن میں ایک شام کیگسٹن ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈائر (Michael O'Dwyer)، سانحہ امرتسر کا جلاّد، جسے بیس سال پہلے برطانوی سرکار ہندوستانی عوام کے غضبناک احتجاج کے پیش نظر محض دکھاوے کے لیے لندن کی عدالت میں مقدمہ چلاکر بری کرچکی تھی۔ اگلی صف میں بڑے اطمینان اور سکون سے براجمان تھا۔ اس کو معلو م نہیں تھا کہ اُدھم سنگھ کے روپ میں اس ہال میں کچھ فاصلے پر موجود ہے۔

جونہی تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا اور کچھ وقفہ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈائر کا نام نشر ہونے پر وہ اسٹیج پر تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوا۔ تقریب کی جگہ پستول کی گولیوں سے گونج اُٹھی اورجلیا نوالہ باغ کا جنرل ڈائڑ اسٹیج پر ڈھیر ہو گیا۔ حاضرین کی صفوں میں اودھم سنگھ پستول ہاتھ میں لیے کھڑا تھا اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک جھلک تھی اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہاکہ وہ جلیانوالہ باغ میں مارے گئے نہتوں کا انتقام لینے کے لیے ہندوستان سے آیا تھا اور اس نے جوکچھ کیا ہے اس پر اسے فخر ہے۔ انگریزوں نے اُدھم سنگھ کو لندن کی ایک جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا،اس طرح سرفروشوں کی فہرست میں ایک سرفروش کا اضافہ ہو گیا۔