اسماعیل ہانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اسماعیل ہانیہ
(عربی میں: إسماعيل عبد السلام أحمد هنية ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 29 جنوری 1963ء (61 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الشاطی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش دوحہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ریاستِ فلسطین  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت حماس[2]  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن حماس[3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اسلامیہ غزہ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں israel palestine conflict  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اسماعیل عبد السلام احمد ہنیہ (عربی: إسماعيل عبد السلام أحمد هنية) فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور مزاحمتی تحریک حماس کے موجودہ سربراہ ہیں[5]۔ آپ 1962 میں غزہ شہر کے مغرب میں شطی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے، جب ان کے والدین 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کے قصبے اشکیلون کے قریب اپنا گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔[6]

تعلیم[ترمیم]

آپ نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے 1987 میں عربی ادب میں ڈگری حاصل کی، پھر 2009 میں اسلامی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔[7]

عملی سیاست[ترمیم]

عہدیداریاں[ترمیم]

  • آپ خالد مشعل کی جگہ حماس کے مئی 2017 کے انتخاب کے بعد رئيسِ سياسی مکتب منتخب ہوئے۔

قید اور جلاوطنی[ترمیم]

1988 میں، حماس کے غزہ میں ایک اہم مزاحمتی تحریک کے طور پر سامنے آنے کے بعد، انھیں دوبارہ حراست میں لیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ جس کے بعد انھیں حماس کے رہنماؤں کے ایک گروپ کے ساتھ لبنان-فلسطینی سرحد پر مرج الظہور میں جلاوطن کر دیا گیا، جہاں انھوں نے 1992 میں ایک پورا سال جلاوطنی میں گزارا۔

مشہور اقوال[ترمیم]

ہم تسلیم نہیں کریں گے، ہم تسلیم نہیں کریں گے، ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔

خدائے واحد کے حکم سے قلعے نہ گریں گے، نہ قلعے ٹوٹیں گے اور نہ عہدوں کو ہم سے چھین لیا جائے گا۔

حماس کے آغاز کی اکیسویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں انھوں نے کہا:

تم گرے بش لیکن ہمارے قلعے نہ گرے، تم گرے بش لیکن ہماری تحریک نہ گری، تم گرے بش لیکن ہمارا مارچ نہ گرا۔

ہم وہ لوگ ہیں جو موت کو اسی طرح پسند کرتے ہیں جیسے ہمارے دشمن زندگی سے پیار کرتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]