الرخ زونگلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الرخ زونگلی
(جرمن میں: Ulrich Zwingli خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Ulrich Zwingli.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (سوس جرمن میں: Ulrich Zwingli خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 1 جنوری 1484[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وائلڈ ہاؤس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 اکتوبر 1531 (47 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کیپل ایم البس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Switzerland (Pantone).svg سویٹزرلینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ آنا رینہارٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ویانا
جامعہ بازیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان[3]،  مترجم،  قس،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان لاطینی زبان،  جرمن[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Signature of Huldrych Zwingli.svg 

مارٹن لوتھر کی وفات کے بعد اصلاحِ کلیسیا کا کام جاری رہا۔ اصلاح کی اہم ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے والوں میں سے ایک الرخ زونگلی تھا جو سوئٹزر لينڈ کا رہنے والا تھا۔

حالات زندگی[ترمیم]

1484ء میں پیدا ہوا۔ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کیتھولک پادری بنا۔ ایک دفعہ روم گیا تو کلیسیا کی ابتر حالت اس پر عیاں ہو گئی۔ اس مسیحی مذہب کی اصلاح کا عزم بالجزم کر لیا۔ سوئٹزر لینڈ واپس آکر تقاریر کے ذریعہ کلیسیا کی ابتر حالت کو عوام پر آگاہ کرنے لگا۔ اس طرح کیتھولک فرقہ کے پیروؤں کے خلاف جنگوں کا سلسلہ کر دیا۔ انہی جنگوں میں 1531ء میں وفات پا گیا۔

منفرد عقائد[ترمیم]

وہ لوتھر کے مقابلہ میں زیادہ متشدد تھا۔ اس نے بائبل کی تعلیم پر عمل کرنے اور اسے زندگی کے ہر شعبہ میں راہنما قرار دینے پر بہت زور دیا۔ عشائے ربانی کے بارے میں اس کا یہ عقیدہ تھا کہ اس کے ذریعے اس قربانی کا اعادہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کی یاد تازہ کی جاسکتی ہے۔ اس نے کلیسیا کے نظام کو جمہوری بنیادوں پر قائم کیا۔ حکومت کے عمال کے لیے سیدنا مسیح کی تعلیمات پر عمل کرنا لازمی قرار دیا اور کہا کہ اگر کوئی عامل سیدنا مسیح کی تعلیم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو اس کے عہدہ سے معزول کر دینا چاہیے۔ اس نے پادریوں کی شادی پر زور دیا اور پادری صاحبان کی شادی نہ کرنے کو ایک بدعت قرار دیا اور کہا کہ اس کا مسیحی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ خاص کر مقدسہ مریم اور سیدنا یسوع کی مورتیوں کو خلاف قانون قرار دیا۔ ہر قسم کے جلوس، تہوار اور تقریبات کی مخالفت کی۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://urn.nb.no/URN:NBN:no-nb_digibok_2008060900023#3
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119297669 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. اجازت نامہ: CC0
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119297669 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ از پروفیسر چودھری غلام رسول چیمہ، صفحہ 533، علمی کتاب خانہ، لاہور۔ 1986ء