امراؤ طارق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امراؤ طارق
پیدائش سید امراؤ علی
24 مارچ 1932(1932-03-24)ء
فتح پور چوراسی، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
وفات دسمبر 8، 2011(2011-12-08)ء
کراچی،پاکستان
قلمی نام امراؤ طارق
پیشہ افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد
زبان اردو
نسل مہاجر قوم
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف ناول، افسانہ تنقید
نمایاں کام بدن کا طواف
معتوب
فرمان فتح پوری: حیات و خدمات

امراؤ طارق (پیدائش: 24 مارچ، 1932ء - وفات:8 دسمبر، 2011ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ناول نگار اور افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ انہیں ان کے افسانوں کے مجموعے بدن کا طواف پر آدم جی ادبی انعام ملا۔

سوانحی خاکہ[ترمیم]

امراؤ طارق 24 مارچ، 1932ء میں فتح پور چوراسی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے مگر انہوں نے اپنا بچپن شاہ پور میں گزارا جہاں ان کے والد ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا اصل نام سید امراؤ علی تھا[1]۔ انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے پہ امراؤ طارق حیدرآباد دکن منتقل ہو گئے جو اس وقت ایک آزاد ریاست تھی۔ اسی زمانے میں مولوی عبدالحق، جو بعد میں بابائے اردو کہلائے، بھی حیدرآباد دکن میں موجود تھے۔ 1948ء میں ہندوستانی فوج کے حیدرآباد پہ حملے اور ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہونے کے بعد امراؤ طارق حیدرآباد چھوڑ کر ڈھاکہ چلے گئے جو اس وقت مشرقی پاکستان کا دار الحکومت تھا۔ 1952ء میں امراؤ طارق ڈھاکہ سے کراچی منتقل ہو گئے جہاں ان کے وسیع خاندان کے اور لوگ بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے پہنچے تھے۔ اردو کے تین بڑے اکابرین مولوی عبدالحق، نیاز فتح پوری اور فرمان فتح پوری بھی کراچی میں موجود تھے۔ کراچی پہنچنے پہ امراؤ طارق نے مولوی عبد الحق اور فرمان فتحپوری کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔ امراؤ طارق نے شعبہ پولیس میں ملازمت کی اور 1992ء میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد امراؤ طارق نے کچھ عرصے وکالت بھی کی۔ امراؤ طارق بابائے اردو مولوی عبد الحق کے قائم کردہ ادارے انجمن ترقی اردو میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پہ کام کرتے رہے۔

ادبی زندگی[ترمیم]

گو کہ امراؤ طارق نے بچپن میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا مگر ان کی پہلی کہانی برگ گل نامی رسالے میں 1954ء میں شائع ہوئی

تصانیف[ترمیم]

  1. ۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ بدن کا طواف کے نام سے 1979ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب نے آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا۔

امرائو طارق کی دیگر تصانیف درج ذیل ہیں :

  1. خشکی پہ جزیرے ، افسانوں کا مجموعہ
  2. تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے ، افسانوں کا مجموعہ
  3. معتوب، ناول
  4. دھنک کے باقی ماندہ رنگ، عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
  5. تاروں پہ لکھے نام، عصر حاضر کے ادیبوں کے خاکے
  6. فرمان فتح پوری، حیات و خدمات، تین جلدوں پہ مشتمل یہ کتاب فرمان فتح پوری کی ادبی کاوشوں پہ لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جسے امراؤ طارق نے تالیف کیا ہے۔

امراؤ طارق کے فن پر تحقیق[ترمیم]

سندھ یونیورسٹی میں ایم فل کی ایک طالبہ نے امراؤ طارق پہ تحقیق کی اور اپنا مقالہ امراؤ طارق، فن و شخصیت کے عنوان سے 1997ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب امراؤ طارق کے ادبی سفر پہ سب سے مستند دستاویز ہے

بہاءالدین زکریا یو نیورسٹی ملتان کے ایم۔ اے اردو کے طالب علم آصف بلوچ نے 1998 میں امراؤ طارق پر تحقیقی مقالہ لکھا۔ جس کا عنوان''امراؤ طارق شخصیت اور فن'' ہے۔  

وفات[ترمیم]

امراؤ طارق 8 دسمبر، 2011ء کو خون کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر کراچی میں انتقال کر گئے۔ پس ماندگان میں انہوں نے بیوی اور پانچ بچے چھوڑے ہیں۔[1]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالی جات[ترمیم]