امۃ الواحد بنت حسین محاملی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امۃ الواحد بنت حسین محاملی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 987  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک شافعی
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان،  فقیہہ،  محدثہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

امۃ الواحد بنت قاضی ابو عبد اللہ حسین بن اسماعیل محاملی ضبی، نام "سُتَیتَہ"، لقب "بنت المحاملی" اور کنیت "ام عبد الواحد" ہے۔ مشہور فقیہہ، محدثہ، مفتیہ اور حدیث کی روایہ ہیں، ریاضی کی عالمہ بھی ہیں۔ قبیلہ "بنو ضبہ" سے تھیں۔ ان کا زمانہ بغداد میں چوتھی صدی ہجری ہے، سنہ ولادت معلوم نہیں ہو سکا۔

نسب و قبیلہ[ترمیم]

نسب: امۃ الواحد بنت قاضی ابو عبد اللہ حسین بن اسماعیل بن محمد بن اسماعیل بن سعید بن ابان محاملی ضبی۔

قبیلہ: بنو ضبہ بن اد بن طابخہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔

خاندان[ترمیم]

امۃ الواحد کے دادا اسماعیل ضبی اپنے زمانے میں بغداد کے محدث اور کبار علما میں سے تھے۔ ان کے والد ابو عبد اللہ حسین بن اسماعیل محاملی اپنے زمانے کے امام، محدث اور بغداد کے قاضی القضاۃ تھے۔ ان کے چچا قاسم بن اسماعیل محاملی امام، محدث اور ثقہ راوی تھے۔ ان کے بھائی قاضی عبد اللہ بن حسین محاملی اور علی بن حسین محاملی حدیث کے ثقہ راویوں میں سے تھے۔ خلاصہ یہ ہے ان کا پورا خاندان حدیث، فقہ اور قضا کے میدان میں مشہور علمی خاندان تھا، اسی علمی دینی خاندان اور گھرانہ میں امۃ الواحد کی ولادت ہوئی۔[1]

علم[ترمیم]

شافعی مذہب کی پیروکار تھیں، شافعی فقہ کی تعلیم اپنی والد قاضی حسین محاملی سے حاصل کیا، یہانتک کہ ایک زمانے میں وہ شافعی مذہب کی سب سے بڑی فقیہہ شمار ہونے لگیں۔ قرآن مجید کی حافظہ تھیں، نیز قرآنی فقہ اور قرأت کا علم بھی حاصل کیا تھا۔ حدیث میں بھی نمایاں مقام رکھتی تھیں، حدیث کی سماعت، روایت اور اس کی تعلیم کیا کرتی تھیں۔ اسی طرح عربی زبان وادب خصوصاً علم نحو پر اچھا عبور حاصل تھا۔ اسلامی قانون وراثت (علم الفرائض) اور ریاضی بھی جانتی تھیں، یہانتک کہ بغداد کے قاضی بعض مسائل میں خصوصا ریاضی کے متعلق استفسار کے لیے ان کی خدمت میں آیا کرتے تھے۔[1]

اساتذہ[ترمیم]

اکثر علوم کو خصوصاً حدیث و فقہ کو اپنے والد محترم سے حاصل کیا تھا۔ جن لوگوں سے خاص طور سے حدیث بیان کرتی ہیں وہ یہ ہیں:

  • ابو عبد اللہ حسین بن اسماعیل محاملی (ان کے والد ہیں)
  • اسماعیل بن عباس وراق
  • عبد الغافر بن سلامہ حمصی
  • ابو الحسن مصری
  • امام حمزہ ہاشمی[2]

تلامذہ[ترمیم]

بہت سے لوگوں نے ان سے علمی استفادہ کیا، احادیث کی سماعت کی اور روایت کیا۔ ان کے سب سے مشہور اور مایہ ناز شاگرد:

  • حسن بن محمد خلال ہیں، انھوں نے سب سے زیادہ روایت بیان کی ہے۔

علما کی آرا[ترمیم]

امۃ الواحد پر کئی علما اور مؤرخین نے لکھا ہے۔ خاص طور سے: ذہبی نے اپنی کتاب "سیر اعلام النبلاء" میں، ابن جوزی نے "صفۃ الصفوۃ" میں، خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" میں، ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" اور "طبقات الشافعیین" میں اور خیر الدین زرکلی نے اپنی کتاب "الاعلام للزرکلی" میں۔

ان علما نے ان کی خوب تعریف کی ہے، چنانچہ ذہبی لکھتے ہیں: «عالمہ، فقیہہ اور مفتیہ تھیں۔» دوسری جگہ لکھتے ہیں: «قرآن کی حافظہ تھیں اور شافعی فقہ حاصل کیا تھا، اسی طرح علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) پر بھی خوب عبور رکھتی تھیں۔»[3]

ابن کثیر لکھتے ہیں: «قرآن، فقہ، فرائض، حساب، عربی زبان اور نحو میں خوب مہارت رکھتی تھیں، اپنے زمانے میں شافعی مذہب کی سب بڑی فقیہہ مانی جاتی تھیں، شیخ ابو علی بن ابو ہریرہ کے ساتھ فتوی دیتی تھیں، ساتھ ساتھ بہت اعلی اخلاق اور کار خیر کی حامل تھیں۔»[4][5]

خطیب بغدادی لکھتے ہیں: «مجھے خلال نے بتایا کہ: ابو حامد اسفرایینی ان (امۃ الواحد) کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے۔»[6]

خیر الدین زرکلی بیان کرتے ہیں: «فاضلہ اور فقہ و فرائض کی عالمہ تھیں، بغداد کی رہنے والی تھیں، شافعی فقہ کی سب سے بڑی حافظہ تھیں، فتوی دیتی تھی، احادیث بھی روایت کرتی تھیں۔»[7]

ان کے بھتیجے احمد بن عبد اللہ بن حسین محاملی ان کے بارے میں کہتے ہیں: «ان کا اصل نام ستیتہ تھا، فاضلہ اور عالمہ تھیں، شافعی مذہب کی سب بڑی حافظہ مانی جاتی تھیں۔»[8]

اہل و عیال[ترمیم]

امۃ الواحد کا نکاح ان کے چچا کے لڑکے احمد بن قاسم بن اسماعیل بن محاملی سے ہوا، ان کے شوہر بھی بڑے محدث اور ثقہ راوی تھے۔ ان سے اولاد میں محمد بن احمد بن قاسم محاملی ہیں جو ثقہ محدث، فقیہ اور قاضی تھے، اسی طرح ان کے پوتے احمد بن محمد بن بن احمد بن قاسم محاملی جو ابو الحسن ضبی کے نام سے مشہور ہیں، محدث اور مشہور شافعی فقیہ تھے، ان کی مشہور کتاب "اللباب فی الفقہ الشافعی" ہے اور ان کے دوسرے پوتے عبد الکریم بن محمد بن احمد بن قاسم محاملی جو ابو الفتح محاملی کے نام سے مشہور ہیں بھی ثقہ محدث تھے۔[3]

وفات[ترمیم]

امۃ الواحد کی وفات سنہ 377ہجری مطابق 987عیسوی میں رمضان المبارک کے مہینے میں، بغداد میں ہوئی۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]