ایف-35 لائیٹننگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایف-35 لائیٹننگ
F-35 at Edwards.jpg
 

نوع پانچویں نسل کا جیٹ جنگی طیارہ،  کثیر جہتی جنگی طیارہ،  سٹیلتھ طیارہ،  بمبار جنگی طیارہ  ویکی ڈیٹا پر (P279) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری نام F-35 (ریاستہائے متحدہ امریکا، اطالیہ اور ناروے)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P798) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صانع لوکہیڈ مارٹن ایئروناٹکس
لوکہیڈ مارٹن  ویکی ڈیٹا پر (P176) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
انجن پراٹ و وٹنی ایف 135  ویکی ڈیٹا پر (P516) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کل پیداوار 530 [2]  ویکی ڈیٹا پر (P1092) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات
آغاز خدمات 31 جولا‎ئی 2015[3]  ویکی ڈیٹا پر (P729) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پہلی پرواز 15 دسمبر 2006  ویکی ڈیٹا پر (P606) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صارفین
لمبائی 50.5 فٹ،  15.5 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2043) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 4.3 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2048) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پروں کا دائرۂ کار 460 مربع فٹ  ویکی ڈیٹا پر (P2112) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایف-35 لائٹننگ (F-35 Lightning) دفاعی ٹیکنالوجی کے بین الاقوامی تعاون کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 21 ویں صدی کے اس جدید ترین لڑاکا طیارے پر تحقیق اور تیاری کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 272 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے ۔

تیاری[ترمیم]

ایف 35، جسے عرفِ عام میں "جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر (Joint Strike Fighter)" بھی کہا جاتا ہے، کے منصوبے میں برطانیہ، اٹلی، نیدرلینڈز، ترکی، کینیڈا، آسٹریلیا، ڈنمارک اور ناروے شریک ہیں۔

ایف 35 کا امتیازی نشان

تازہ ترین تخمینے کے مطابق فضائیہ کے لیے تیار کیے جانے والے طیارے کی قیمت 45 ملین جبکہ بحریہ کے لیے بنائے جانے والے طیارے کی قیمت 60 ملین امریکی ڈالر ہو گی۔ اس طیارے کے ٹھیکے کے لیے دو بڑی امریکی طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کے درمیان پانچ سال تک سخت کشمکش جاری رہی لیکن بالآخر پینٹاگون نے لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ پروٹوٹائپ ایکس۔ 35 کو امریکی فضائیہ، بحریہ اور میرین کور کے لیے منتخب کر لیا جسے اب ایف۔ 35 کہا جاتا ہے۔

خصوصیات[ترمیم]

اس طیارے کی خاص بات اس میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس کی عمودی پرواز اور لینڈنگ کی صلاحیت ہے۔ یہ امریکی فضائیہ میں ایف 16 اور اے-10 تھنڈربولٹ جبکہ امریکی بحریہ اور میرین کور میں ایف-18 اور ہیریئر جمپ لڑاکا طیاروں کی جگہ لے گا۔ اس طیارے میں جدید ترین ریڈار، ایویونکس اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹم نصب ہیں اور یہ نہ صرف دورِ حاضر بلکہ مستقبل میں تیار کیے جانے والے مہلک روایتی ہتھیار، کروز میزائل اور گائیڈڈ بم بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حادثات[ترمیم]

28 ستمبر 2018ء کو، یو ایس ایم اے سی ایف 35 بی (USMC F-35B) میرین کور ایئراسٹیشن بیوفورٹ، جنوبی کیرولائنا کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ ہواباز محفوظ رہا۔ یہ ایف 35 کے حادثے کا پہلا واقع ہے۔[5][6]

عام معلومات[ترمیم]

پیمائش[ترمیم]

  • عملہ : 1
  • لمبائی : 15.37 میٹر / 50.6 فٹ
  • پر کی لمبائی : 10.65 میٹر / 35 فٹ
  • اونچائی : 5.28 میٹر / 17.4 فٹ
  • وزن : 12 ٹن

کارکردگی[ترمیم]

  • رفتار : ماک 1.67
  • حد : 2222 کلومیٹر
  • ثقلی وزن : 9 جی
  • اڑان کی بلندی کی حد : 60000 فٹ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ناشر: Italian Ministry of Defence
  2. https://www.f35.com/media-kit
  3. https://web.archive.org/web/20130103102751/http://www.lockheedmartin.com/us/aeronautics/media-center/f-35a-takes-flight-at-eglin.html — سے آرکائیو اصل فی 3 جنوری 2013
  4. عنوان : AirForces Monthly
  5. "F-35B Lightning II fighter jet crashes, pilot ejects in South Carolina". Stripes.com. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2018. 
  6. F-35 crashes for the first time in the jet’s 17-year history, pilot ejects safely - The Washington Post

بیرونی روابط[ترمیم]