بابا محمد یحیی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بابا محمد یحییٰ خان
بابا محمد یحیٰ خان
Baba G.jpg
پیدائش 7 ستمبر 1936(1936-09-07) [1]
سیالکوٹ, پاکستان
زبان اردو، ہندی، پنجابی، انگریزی
قومیت پاکستانی، برطانوی
نسل خان
اصناف صوفی
نمایاں کام پیا رنگ کالا
کاجل کوٹھا
شب دیدہ
بابا بلیک شیپ

بابا محمد یحیی خان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دور حاضر کے عظیم صوفی بزرگ اور اردو کے مشہور و معروف مصنف ہیں جو ابھی حیات ہیں۔ بابا یحیی پوری دنیا میں بہت سے لوگوں کے روحانی راہنما ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

بابا محمد یحیی خان 7 ستمبر 1936ء کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے[1]۔ بابا خود کو اویسی ملامتی سلسلۂ روحانیت کے بزرگ کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔ اپنی زندگی میں بابا جی نے بہت سے بین الاقوامی سینماؤں اور اسٹیج شو وغیرہ میں کام کیا جس میں آپ نے بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ، میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ اور بہت سے دوسرے صوفی بزرگوں کے کردار ادا کیے۔ بابا جی نے اپنی صوفیانہ خیالات کو بہت سی کتابوں جیسا کہ پیا رنگ کالا، کاجل کوٹھا وغیرہ کے ذریعے پھیلایا۔ ان کے کاموں کا مختلف زبانوں میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ آپ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ، اشفاق احمد رحمۃ اللہ علیہ، قدرت اللہ شہاب رحمۃ اللہ علیہ، ممتاز مفتی رحمۃ اللہ علیہ اور بانو قدسیہ کے بہت قریب ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

بابا جی اپنی کتابوں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ آپکی تصانیف میں سے چند کتابیں درج ذیل ہیں :

  1. پیا رنگ کالا
  2. کاجل کوٹھا
  3. شب دیدہ
  4. موم کی مورت
  5. ماں مندر ماں مسجد
  6. بابا بلیک شیپ

سیر و سیاحت[ترمیم]

تصانیف کے علاوہ بابا جی محمد یحیی خان صاحب نے لوگوں کے روحانی اور نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے دنیا کے بہت سے ممالک کے سفر کیے۔ ان میں سے کچھ بڑے ممالک میں ہندوستان، برطانیہ، امریکا، کینیڈا، مصر، لبنان، عراق، مصر، فلسطین، آسٹریلیا، ایران، سلطنت بحرین۔ بابا جی آج کل لاہور، پاکستان میں رہائش پزیر ہیں۔ بابا جی اکثر اولیاء کرام کے مقابر اور مزاروں پر حاضری دیتے ہیں۔

اسلوب[ترمیم]

بابا محمد یحیی خان کی کتاب " کاجل کوٹھا" سے اقتباس ملاحظہ کریں،

درویش اور طوائف کے دِل دروازے۔۔۔۔۔ ان کے اپنے دَریدہ زخموں کی مانند ۔۔۔ بِلا تفریق و امتیاز ہر ایک کے لیے کُھلے رہتے ہیں کبھی بند نہیں ہوتے۔

دُرویش و طوائف کے کوائف میں چنداں تفاوت، دَر و دام کا بھی ہے۔ طوائف اپنے ہاں اُترنے والوں کی جیب میں دَام و درہم کی کھنک پہ کان دَھرے ہوتی ہے۔ جبکہ درویش حاضری دینے والوں کے سینوں میں دَرد و دَم کی دِھانس پہ ناک لگائے ہوتا ہے۔۔۔ طوائف کے کوٹھے اور دُرویش کی کوٹھڑی کے مابین ایک تضاد چڑھتی اُترتی سیڑھیوں اور سار لیتے ہوئے قدموں کا بھی ہوتا ہے۔۔۔ طوائف کے کوٹھے کی سیڑھیاں باہر سے اُوپر ظاہر کی جانب چڑھتی ہیں جبکہ دُرویش کی کوٹھڑی کی طرف بڑھنے والے قدم ، اندر سے نیچے دَروں خانے کی طرف جاتے ہیں۔۔۔ سو دُرویش اور طوائف کے مابین یہی باہر، اندر۔۔۔۔۔ نیچے اُوپر اور دَرو بام ۔ دَر و دَم کا فرق ہوتا ہے۔۔۔[2]

ہم عصر ادیبوں کی رائے[ترمیم]

معروف مصنف و کالم نگار عطاء الحق قاسمی بابا محمد یحیی خان کے بارے میں کہتے ہیں،

میں نے چھپے ہوئے کچھ رُستم دیکھے ضرور ہیں لیکن یہ رُستم زمانے کی نگاہوں سے کچھ زیادہ ہی چھپا ہواہے، شاید اس لیے کہ وہ ظاہر ہونا ہی نہیں چاہتا۔ مین جانتا ہوں میرے یہ لفظ بابا محمد یحیی خان کے لیے بہت کم ہیں مگر میں یہ جانتا ہوں کہ اسے میرے لفظوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ خوبصورتی کو سراہنا، سراہنے والے کی ضرورت ہے، خوبصورتی کی نہیں[3]۔

ڈاکٹر یونس جاوید بابا محمد یحیی خان کے بارے میں کہتے ہیں،

بابا محمد یحیی ضان ایک تخلیقی قوت کا نام ہے۔ ایسی تخلیقی قوت لکھاری میں علوم ِ انسانی کی گہرائی اور مشاہدے کی سچائی کا باعث ہوتی ہے۔ گر ریاضت کا نکھار جھلک دکھادے تو فنی معراج تخلیق کار کا مقدر ہوجاتا ہے۔ یہ ایسا وصف ہے جو قدرت اپنے منظور نظر اور منتخب لوگوں کے لیے وقف رکھتی ہے۔

بابا محمد یحیی خان یوں بھی پیدائشی لکھاری ہے اس پر قدرت کے اسرار نزول کرتے ہیں۔ جنہیں ترتیب دیتے ہوئے وہ زیادہ توانا اور جری ادیب کے روپ میں ڈھل جاتا ہے۔ اسے اپنے بڑے پن کا کم کم یقین اس لیے ہے کہ عجز ہر بڑے شخص کا وتیرہ ہے۔ میں اس وہبی لکھاری کی تحریریں پڑھ کر اکثر تحیر میں ڈوب جاتا ہوں اور یہی تحیر خود مجھے زندگی کو سمجھنے کے لیے نئی راہیں سجھاتا ہے[4]۔

معروف کالم نگار اور شاعر ڈاکٹر اجمل نیازی بابا محمد یحیی خان کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں،

بابا محمد یحیی خان نے کالے رنگ میں سارے رنگوں کے جمال و جلال کی موجودگی اور آسودگی کو محسوس کیا۔۔۔۔۔ وہ اندر کے آدمی ہیں۔ اُن کے وجود میں رعنائیاں، سچائیاں اور گہرائیاں وَجد کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ روحانیت اِن کی ذات میں ٹھکانا بناتی ہے۔ اُنہوں نے اپنی تحریر میں روحانیت اور رومانیت کو یکجائی دے کر یکتائی حاصل کی ہے[5]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Family Magazine
  2. اقتباس کاجل کوٹھا از بابا محمد یحییٰ خان، اردو ویب، پاکستان
  3. پیا رنگ کالا، بابا محمد یحیی خان، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،2009ء، ص 19
  4. پیا رنگ کالا، بابا محمد یحیی خان، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،2009ء، ص 20
  5. پیا رنگ کالا، بابا محمد یحیی خان، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور،2009ء، ص 22