باب:تاریخ/منتخب مضمون/9

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Jang.jpg

ایران عراق جنگ کا باعث دریائے شرط العرب ہے۔ مگر بعض مبصرین کے خیال میں شط العرب کو محض ایک بہانہ کے طور پر استعمال کیا گیا اور عراق نے امریکہ کی ایما پر ایران پر حملہ کیا۔ اس دریا کے علاقے میں ایران عراق سرحد کا تعین کرنے کے لیے ایران اور خلافت عثمانیہ کے مابین 1823ء میں ارض روم میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس پر بوجوہ عمل نہ ہو سکا۔ 1847ء میں ایک دوسرے معاہدے (ارض روم ترکی) کے ذریعے ایران نے سلیمانیہ کا علاقہ خلافت عثمانیہ کی تحویل میں دے دیا۔ جب کی ایران کو محمرہ (خرم شہر) اور خضر (آبادان) اور شط العرب کی مشرقی آبادیاں دے دی گئیں۔ تاہم ایران کو بھی اس دریا میں جہاز رانی کا حق دے دیا گیا۔ 1911ء میں تہران میں ایران اور عراق کے مابین یہ طے پایا کہ دونوں ملک سرحدوں کی نشاندہی کے سلسلے میں مشترکہ کمیشن قائم کریں لیکن یہ کمیشن بھی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا۔ بلآخر ترکی، روس اور برطانیہ کی کوششوں سے 17 نومبر 1913ء کو استنبول کے مقام پر ایران اور سلطنت عثمانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا۔ جس کی رو سے برطانیہ، روس، سلطنت عثمانیہ اور ایران کے نمائندوں پر مشتمل چار رکنی کمیشن کا قیام عمل میں آیا۔ کمیشن نے ایک سال کی کوششوں کے بعد اکتوبر 1914ء میں ایران اور عراق کے مابین سرحدوں کا تعین کیا۔نتیجے کے طور پر محمرہ کی بندرگاہ کے نواح میں دریا کے وسط میں سرحد قائم کی گئی اور فوری طور پر بندرگاہ کا نظم و نسق عراق کے حوالے کر دیا گیا۔ 1932ء میں ایران میں جب رضا شاہ کبیر کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے 1913ء اور 1914ء میں ہونے والے معاہدوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔