بال ٹھاکرے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بال ٹھاکرے
(مراٹھی میں: बाळ केशव ठाकरे خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Bal Thackeray تفصیل=

بانی اور صدر شیو سینا
مدت منصب
19 جون 1966 – 17 نومبر 2012ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عہدہ قائم
ادھو ٹھاکرے Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 23 جنوری 1926[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 17 نومبر 2012 (86 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب ہندومت
جماعت شیو سینا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
اولاد بندومادھو ٹھاکرے
جے دیو ٹھاکرے
ادھو ٹھاکرے
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،صحافی،مصور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
بال ٹھاکرے

بال ٹھاکرے (1927ء-2012ء) بھارتی انتہا پسند لیڈر اور بھارت کے صوبہ مہاراشٹر کی انتہا پسند جماعت شیو سینا کا سربراہ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بھارت کے ایک برہمن انتہا پرست خاندان میں پیدائش ہوئی۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ ایک کارٹونسٹ تھا؛ بعد میں اس کی جگہ چبھتے ہوئے فکروں نے لے لی۔ کارٹونسٹ کی حیثیت سے اسے ابتدا میں کامیابی ملی لیکن جلد ہی تنخواہ پر جھگڑا ہو جانے کی وجہ سے اس نے نوکری چھوڑ دی اور بمبئی سے غیر مراٹھی لوگوں کو باہر رکھنے کے لیے ایک تحریک شروع کی۔

شیو سینا[ترمیم]

بال ٹھاکرے نے لسانی اور مذہبی بنیادوں پر بے روزگار نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا اور 1966ء میں شیو سینا قائم کی جسے مراٹھی ہندو راجا شیوا جی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ شیوا جی کو بعض مورخ مغل بادشاہوں کے خلاف جدوجہد کے علم بردار کے طور پر پیش کر تے ہیں۔ بال ٹھاکرے کے مطابق یہ تنظیم صرف مراٹھی نوجوانوں کو انصاف دلوانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ غیر مراٹھیوں کے خلاف اس تحریک نے متعدد دفعہ تشدد کا رنگ اختیار کیا۔ شیو سینا میں بال ٹھاکرے کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر نہیں تھا۔ حتی کہ جماعت میں تنظیمی انتخابات کی بات کرنے کی بھی حماقت کسی نے نہیں کی۔ جن لوگو ں نے آواز اٹھانے کی کوشش کی انہیں جماعت سے نکال دیا گیا۔ ان میں چھگن بھجبل بھی شامل تھے جو مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ بھی رہے۔۔ جب 1995ء میں مہاراشٹر میں شیو سینا اور بی جے پی کی مخلوط حکومت بنی، تو حکومت سے باہر رہنے کے باوجود تمام فیصلے بال ٹھاکرے ہی کرتا تھا۔ اس نے کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ ریموٹ کنٹرول سے حکومت چلاتا ہے۔ اس کی جماعت مرکزی حکومت میں بھی شامل رہی اور اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پر ہمیشہ دباؤ قائم رکھا۔ شیو سینا کے ایک رکن پارلیمان کی جانب سے وزیر اعظم کے قریبی معاونین پر بدعنوانی کے الزامات پر واجپئی اتنا ناراض ہوئے کہ انہوں نے استعفے کی پیش کش کر دی تھی۔ بعد میں 2005ء اور 2006ء میں شیو سینا میں شدید اختلافات سامنے آئے۔ اور اس کے کئی کارکنان بال ٹھاکرے کی آمرانہ حکمت عملی کی وجہ سے جماعت سے علاحدہ ہو گئے۔ حتی کہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے نے علاحدہ ہو کر ایک نئی جماعت بنائی۔

ہندوستانی تہذیب[ترمیم]

شیو سینا کی موقع حبالہ کے مطابق ہندوستان کی تہذیب ہندو ہے اور ہندوستان میں رہنے والے ہر شخص کو اسے ماننا ہوگا۔ 1992ء میں جب بابری مسجد مسمار کی گئی تو بال ٹھاکرے نے کہا کہ یہ ’عظیم‘ کام شو سینکوں نے انجام دیا تھا جس پر مجھے فخر ہے۔

ہٹلر کا مداح[ترمیم]

بال ٹھاکرے کھلم کھلا ہٹلر کو اپنا سیاسی پیشوا تسلیم کیا، اس کا کہنا تھا کہ جرمنی کے فسطائی رہنما کے بارے میں لوگ جو بھی کہیں، ہٹلر نے جو بھی کیا جرمنی کے حق میں ہی کیا۔

بال ٹھاکرے کی پوری سیاست اسی نظریہ کے ارد گرد گھومتی رہی اور اپنے مسلمان مخالف نظریہ کو وہ اسی تناظر میں پیش کرتا رہا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی مقبولیت میں اس کے اقلیت مخالف متنازع بیانات کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ قوم پرست طبقہ اس طرح کی باتیں سننا چاہتا ہے۔

زندگی قبل از وفات[ترمیم]

امراض قلب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت گھر پر ہی گزرتا تھا۔ اس کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ بال ٹھاکرے میں پہلے جیسی شدت باقی نہیں رہی تھی۔ ممکن ہے کہ یہ سچ ہو لیکن بیانات میں تندی وتیزی اس وقت بھی قائم رہی۔

موت[ترمیم]

بروز سنیچر 17 نومبر، 2012ء کو ممبئی کے ایک مقامی ہسپتال میں وفات ہوئی۔ موت کے وقت بال ٹھاکرے کی عمر 86 برس تھی۔

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Bal-Thackeray — بنام: Bal Thackeray — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica