باکسر بغاوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باکسر بغاوت
Siege of Peking, Boxer Rebellion.jpg Battle of Tientsin Japanese soldiers.jpg Beijing Castle Boxer Rebellion 1900 FINAL courtesy copy.jpg
بالائی تصویر: امریکی دستے بیجنگ کی دیواروں کو روندتے ہوئے
درمیانی تصویر:جنگ تین سین میں جاپانی فوجی
ذیلی تصویر:جنگ بیجنگ میں برطانوی اور جاپانی سپاہی
تاریخ2 نومبر 1899 – 7 ستمبر 1901
(1 سال, 10 مہینے, 5 دن)
مقامشمالی چین
نتیجہ اتحادیوں کی فتح
نوشتہ(معاہدہ) باکسر پر دستخط ہوئے۔
محارب
اتحادِ ہشت ملت:
Yihetuan flag.png باکسر
چنگ خاندان کا پرچم سلطنتِ چنگ
کمانڈر اور رہنما

سفارت:
متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ کا پرچم کلاڈ میک ڈونلڈ
سیمور مہم:
متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ کا پرچم ایڈورڈ سیمور
گیزلی مہم:
متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ کا پرچم الفریڈ گیزلی
سلطنت روس کا پرچم یوگینی الیکسیف
سلطنت روس کا پرچم نکولائی لینی وچ
سلطنت جاپان کا پرچم فوکو شیما یاسوماسا
سلطنت جاپان کا پرچم یاماگوچی متومی [ja]
فرانسیسی جمہوریہ سوم کا پرچم ہنری-نکولس فرے [fr]
ریاستہائے متحدہ کا پرچم ادنیٰ چافی

قابض فوج:
جرمن سلطنت کا پرچم الفریڈ وان والڈرسی
منچوریا پر قبضہ:
سلطنت روس کا پرچم الیکسےکروپاتکن
سلطنت روس کا پرچم پاؤل وان رینن کیمف
سلطنت روس کا پرچم پاول مش چینکو
باہمی تحفظ برائے جنوب مشرقی چین:
چنگ خاندان کا پرچم یوآن شکائی
چنگ خاندان کا پرچم لی ہونگ ژانگ
چنگ خاندان کا پرچم یو ژنگ کوئی
چنگ خاندان کا پرچم لیوکونئی
چنگ خاندان کا پرچم ژانگ ژی ڈونگ
باکسر:
Yihetuan flag.png ساؤ فوچیان Executed
Yihetuan flag.png ژانگ ڈچانگ 
Yihetuan flag.png نی زین چنگ
Yihetuan flag.png ژو ہانگ ڈینگ
سلطنتِ چنگ:
چنگ خاندان کا پرچم ملکہ دواگرسیشی
چنگ خاندان کا پرچم لی بنگ ہینگ
چنگ خاندان کا پرچم یوشیان Executed
سالارِ اعلیٰ:
چنگ خاندان کا پرچم رونگلو
حشن ژنگ:
چنگ خاندان کا پرچم زاژی
سخت جان فوج:
چنگ خاندان کا پرچم نی شی چانگ 
پرعزم فوج:
چنگ خاندان کا پرچم ماژوکن [zh]
چنگ خاندان کا پرچم سونگ چنگ
چنگ خاندان کا پرچم جیانگ گؤتی
گانسو فوج:
چنگ خاندان کا پرچم دونگ فوشیانگ
چنگ خاندان کا پرچم ما فولو 
چنگ خاندان کا پرچم ما فوشیانگ
چنگ خاندان کا پرچم ما فوشنگ
طاقت
سیمور مہم:
2,100–2,188[1]
گیزلی مہم:
18,000[1]
امدادِ چین مہم:
2,500[2]
منچوریا میں روسی افواج:
100,000[3]–200,000[4]

Yihetuan flag.png 100,000–300,000
باکسر اور المصابیح الحمراء
چنگ خاندان کا پرچم 100,000 شاہی دستے[5]

ہلاکتیں اور نقصانات
32,000 چینی مسیحی اور 200 مغربی مسیحی مبلغ شمالی چین میں چینی باکسروں کے ہاتھوں مارے گئے[6]
معرکہ میں کل اموات ~100,000 (شہریوں اور فوجیوں سمیت)[7]
  1. The Netherlands intervened in the conflict independently of the Eight Nations Alliance due to its policy of neutrality.
  2. ^ ا ب Although the Qing dynasty declared war on Belgium and Spain, Belgian and Spanish forces only participated in the Siege of the International Legations.
باکسر بغاوت
روایتی چینی 義和團運動
سادہ چینی 运动
لغوی معنی راستبازی کی تحریک میں متحدہ ملیشیا

باکسر بغاوت (انگریزی: Boxer Rebellion)، (چینی زبان:拳亂 یا 義和團運動) ایک عیسائی مخالف اور شاہانہ نظام کی مخالف تحریک تھی جو چین میں چنگ خاندان کے عہد کے اختتام میں 1899ء تا 1901ء میں شروع ہوئی۔ یہ قوم پرست لوگ تھے جن کو نو آبادیاتی نظام، مسیحی مشنری اور ان کی حرکات و سکنات سے بیر تھا۔

جن لوگوں نے اس تحریک کو شروع کیا تھا ان کو باکسر کہا جاتا ہے کیونکہ اس کئی ارکان چینی مارشل آرٹ کے ماہر تھے جن کو مغرب میں چینی باکسنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس احتجاج کی وجہ خارجی حلقہ اثر تھا جس کی وجہ سے چین میں سوکھا پڑ رہا تھا اور قحط سالی کے آثار نمایاں تھے۔ اس بغاوت کی اصل وجہ بیجنگ میں یورپی سفارت کو ایک خاص قانونی درجہ دینا جو چینی اتھارٹی کے لیے بھی نہیں تھے۔ جرمن سفارت کی عمارت میں ایک لوٹ مار کرنے والا گروہ تیار کیا گیا جس سے چینی عوام میں نفرت پھیل گئی کیونکہ وہ گروہ سزا سے بچنے کے لیے چین میں جرم کر کے یورپ بھاگ جاتے تھے۔ اسی لیے نو آبادیاتی نظام اور عیسائی مشنری کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت بھر گئی۔ شانڈونگ اور شمالی چین میں جون 1900ء میں غیر ملکیوں اور مسیحی پیروکاروں کے خلاف کئی ماہ کے مسلسل تشدد کے بعد باکسر جنگجوؤں نے یہ منوالیا کہ غیر ملکی ہتھیار ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے بیجنگ میں چنگ خاندان کی حکومت کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے ایک جگہ جمع ہوئے، تو خارجی اور غیر ملکیوں نے سفارت خانہ میں پناہ لی۔ چینی حکام دو گروہ میں منقسم ہو گئے۔ ایک گروہ ان باغیوں کی حمایت میں تھا جس کی سربراہی شہزادہ چنگ کر رہے تھے۔ وہیں دوسری طرف چینی افواج کے سپریم کمانڈر، جنرل جنگلو نے بعد میں اعتراف کیا کہ انہوں نےغیر ملکیوں کی حفاظت کی تھی۔ کئی افسران نے غیر ملکیوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے شاہی احکام کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ شہزادہ چنگ پانچ سال قبل پہلی چین جاپان جنگ ہار چکے تھے۔ 7 ستمبر 1901ء کو باکسر پروٹوکال بنا جس کی رو سے ان تمام سرکاری افسران کو سزائے موت دے دی گئی جنہوں نے باکسروں کی مدد کی تھی۔اس کے علاوہ غیر ملکی فوج کو 450 ملین تایل چاندی (2008ء میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی مالیت) ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Harrington 2001, p. 29.
  2. "China Relief Expedition (Boxer Rebellion), 1900 – 1901". Veterans Museum and Memorial Center. 16 جولا‎ئی 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2017. 
  3. Pronin, Alexander (7 November 2000). Война с Желтороссией . Kommersant. Retrieved 6 July 2018.
  4. Hsu، Immanuel C.Y. (1978). "Late Ch'ing Foreign Relations, 1866–1905". In John King Fairbank. The Cambridge History of China. Cambridge University Press. صفحہ 127. ISBN 978-0-521-22029-3. 
  5. Xiang 2003, p. 248.
  6. Hammond Atlas of the 20th century (1996)
  7. "Boxer Rebellion". Encyclopedia Britannica.