باکسر بغاوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باکسر بغاوت
روایتی چینی 義和團運動
سادہ چینی 运动
لغوی معنی راستبازی کی تحریک میں متحدہ ملیشیا

باکسر بغاوت (انگریزی: Boxer Rebellion)، (چینی زبان:拳亂 یا 義和團運動) ایک عیسائی مخالف اور شاہانہ نظام کی مخالف تحریک تھی جو چین میں چنگ خاندان کے عہد کے اختتام میں 1899ء تا 1901ء میں شروع ہوئی۔ یہ قوم پرست لوگ تھے جن کو نو آبادیاتی نظام، مسیحی مشنری اور ان کی حرکات و سکنات سے بیر تھا۔

جن لوگوں نے اس تحریک کو شروع کیا تھا ان کو باکسر کہا جاتا ہے کیونکہ اس کئی ارکان چینی مارشل آرٹ کے ماہر تھے جن کو مغرب میں چینی باکسنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس احتجاج کی وجہ خارجی حلقہ اثر تھا جس کی وجہ سے چین میں سوکھا پڑ رہا تھا اور قحط سالی کے آثار نمایاں تھے۔ اس بغاوت کی اصل وجہ بیجنگ میں یورپی لیگیشن کو ایک خاص قانونی درجہ دینا جو چینی اتھارٹی کے لیے بھی نہیں تھے۔ جرمن لیگیشن کی عمارت میں ایک لوٹ مار کرنے والا گروہ تیار کیا گیا جس سے چینی عوام میں نفرت پھیل گئی کیونکہ وہ گروہ سزا سے بچنے کے لیے چین میں جرم کر کے یورپ بھاگ جاتے تھے۔ اسی لیے نو آبادیاتی نظام اور عیسائی مشنری کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت بھر گئی۔ شانڈونگ اور شمالی چین میں جون 1900ء میں غیر ملکیوں اور مسیحی پیروکاروں کے خلاف کئی ماہ کے مسلسل تشدد کے بعد باکسر جنگجوؤں نے یہ منوالیا کہ غیر ملکی ہتھیار ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے بیجنگ میں چنگ خاندان کی حکومت کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے ایک جگہ جمع ہوئے، تو خارجی اور غیر ملکیوں نے لیگیشن کوارٹر میں [ناہ لی۔ چینی حکام دو گروہ میں منقسم ہو گئے۔ ایک گروہ ان باغیوں کی حمایت میں تھا جس کی سربراہی شہزادہ چنگ کر رہے تھے۔ وہیں دوسری طرف چینی افواج کے سپریم کمانڈر، جنرل جنگلو نے بعد میں اعتراف کیا کہ وہ غیر ملکیوں کی حفاظت کی تھی۔ کئی افسران نے غیر ملکیوں کے خلاف جنگ میں حصہ یلینے کے شاہی احکام کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ شہزادہ چنگ پانچ سال قبل پہلی چین جاپان جنگ ہار چکے تھے۔ 7 ستمبر 1901ء کو باکسر پروٹوکال بنا جس کی رو سے ان تمام سرکاری افسران کو سزائے موت دے دی گئی جنہوں نے باکسروں کی مدد کی تھی۔اس کے علاوہ غیر ملکی فوج کو 450 ملین تایل چاندی (2008ء میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی مالیت) ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]