تبادلۂ خیال:واقعہ کربلا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Information icon4.svgیادہانی:اردو ویکیپیڈیا یا ویکیمیڈیا فاؤنڈیشن کا، صارفین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

براہ مہربانی متنازع موضوعات پر تبادلۂ خیال کرتے وقت تہذیب و شائستگی کا مظاہرہ کریں، فرقہ وارنہ گفتگو سے گریز کریں اور اپنی رائے کو شستہ الفاظ میں پیش کریں، نیز تاریخی واقعات کو فیصلہ کن انداز میں غلط یا درست قرار دینے کے بجائے غیر جانبداری کے ساتھ بیانیہ انداز میں تحریر کریں۔ خیال رہے کہ یہاں مذہبی، سیاسی اور تاریخی موضوعات میں فریقین اور بنیادی/ثانوی/ثلثی مآخذ سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، چناں چہ اگر اس مضمون میں محض ایک نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے تو اسے جانبدار باور کرنے کے بجائے آپ دوسرا نقطہ نظر با حوالہ شامل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ویکیپیڈیا پر کسی بھی طرح کی جانبداری کو تخریب کاری سمجھا جاتا ہے۔



Untitled[ترمیم]

سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک افسوسناک ترین باب ہے، اور اس حوالے سے صرف بنیادی معلومات اس مضمون میں رکھی گئی ہیں، میری تمام ویکیان سے گذارش ہے کہ اس مضمون میں اپنی جانب سے بھرپور اضافہ کریں۔ والسلام فہد احمد کیہر تبادلۂ خیال | میرا حصہ امام حسین الجھن کا شکار ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حقیقت ہے ہا تمہاری ذاتی رائے؟؟؟؟

  • وکی کے تجربہ کار صارفین خصوصاً منتظمین سے سوال ہے کہ حالیہ ترمیمات کے بعد کیا اس مضمون کو منتخب مقالہ قرار دینے یا اسے مقفل کرنے کے بارے میں رائے سے آگاہ کریں فہد احمد کیہر تبادلۂ خیال | میرا حصہ

  • میرا علم ان موضوعات پر محدود ہے، مگر لگ رہا ہے کہ مضمون وکیپیڈیا کے مزاج سے ہٹتا جا رہا ہے، اور جذباتی رنگ اختیار کر رہا ہے۔ "تبادلہ خیال" کے صفحہ پر قابل اعتراض حصوں پر بحث کر کے انہیں واپس کیا یا بدلا جا سکتا ہے۔ آج کل اس شعبہ میں تجربہ کار افراد وکیپیٰڈیا پر کم ہی آ رہے ہیں، اس لیے معلوم نہیں کہ بحث میں حصہ کون لے گا۔

--Urdutext 11:47, 29 جنوری 2008 (UTC)

  • دائرہ المعارف پر ذاتی نظریات اور خیالات کے بجاۓ صرف حقائق بیان کیۓ جانے چاہیں اس طرح کہ مضمون کا جھکاؤ کسی بھی ایک فریق کی جانب محسوس نا ہو ۔ اگر کوئی ہستی اجتماعی طور پر قابل احترام ہے تو اسکا ذکر بلا جھجھک القابات کے ساتھ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر کوئی ہستی اجتماعی طور پر قابل احترام نہیں یا یوں کہ لیں کہ متنازع سی کیفیت کا شکار ہو تو بھی اسکا ذکر ہتک آمیز الفاظ میں نہیں کیا جانا چاہیۓ ، ہاں یہ کیا جاسکتا ہے کہ ایسی صورت میں الفاظ کا چناؤ صرف زبان کے قواعد کی پابندی کرتا ہو اور تمام جذبات بے نیاز ہو۔ میرا خیال ہے کہ اس مضمون کو فہد صاحب کی آخری ترمیم پر واپس کر کہ مکمل محفوظ کر دیا جانا چاہیۓ اور تبدیلی کے بارے میں راۓ تبادلۂ خیال کے صفحے پر کی جاسکتی ہے۔ عمید 12:50, 29 جنوری 2008 (UTC) جواب:۔۔۔۔ بھائی فہد صاحب کیا واقعہ کربلا پر دنیا کی سب سے بڑی سند ہیں جو انکی ترمیم کو حرف آخر مان کر مضمون کو مقفل کر دیا جائے؟؟؟ آپ کے رشتہ دار ہیں کیا ؟؟؟

فہد کو میرا جواب[ترمیم]

میں نے جو کچھ لکھا وہ شیعہ اور سنی دونوں منابع سے ثابت ہے۔ آپ حوالے مٹا کر کہتے ہیں کہ میں نے جہ لکھا وہ غیر مستند ہے۔۔۔۔ تمہیں صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح کہنے کا حق کس نے دے دیا؟؟ میں نے تاریخ تبری جو سنیوں کی سب سے مستند کتاب ھے سے ھوالہ دیا تھا۔ پہلے تاریخ پڑھو پھر اعتراض کرنا۔ تم چاہتے ہو کہ جھوٹ لکھو اور سنی عقائد کو عین تاریخ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرو۔ تم کہتے کہ امام حسین علیہ السلام یزید کے خوف سے مکہ سے نعوذ باللہ فرار ہوے ان دلائل اور حقائق پر کیوں غور نہیں کرتے؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔ امام حسين اگر مدينہ ميں مقيم رہتے تو بنی اميہ کی طرف سے مدينہ پر فوج کشی کا خطرہ تها، اسکے علاوہ اگر امام حسين مدينہ ہی ميں شہيد کر ديئے جاتے تو جمہور امت مسلمہ کو يہ پتہ بهی نہ چلتا کہ امام اور يزيد کے مابين کس بات پر اختلاف تها اور کيوں امام نے يزيد کی بيعت سے انکار کيا۔ اس کے علاوہ يہ بهی خطرہ تها کہ اگر امام امت مسلمہ کے سامنے يزيد اور بنی اميہ کے نفاق اور فسق و فجور کو آشکار نہ کرتے تو عوام اور کم فہم لوگ يہ سمجهتے کہ امام حسين عليہ السلام اور يزيد پليد کے مابين اختلاف امت مسلمہ پر بنی اميہ کی ملوکيت کو مسلط کرنے کی وجہ سے نہ تها بلکہ اقتدار کے حصول کی کشمکش تهی۔ لٰہذا امام نے مکہ کا رخ کيا تاکہ مکہ کی مرکزی حيثيت کو بروئے کر لاتے ہوے اپنا موقف نہ صرف امت پر ظاہر کريں بلکہ اپنے اس سفر اور قيام سے حکومت وقت سے اپنی ناراضگی اور بيزاری کا برملا اظہار کريں۔ امام کا مکہ کی طرف سفر ايک فرار نہيں بلکہ ايک قيام يا تحريک کا آغاز تها۔ مکہ ميں امام کسی بهی اعتبار سے مدينہ سے زيادہ محفوظ نہيں تهے۔ جس بنی اميہ کی مدينہ پر حکومت تهی اسی کی مکہ پر بهی حکومت تهی پهر بهلا مکہ کس صورت مدينہ سے زيادہ محفوظ ہو سکتا تها۔ امام نے مدينہ چهوڑتے وقت ٢٨ رجب سن ٦٠ ہجری کو اپنے بهائی محمد بن حنفيہ کو اپنا جو تحريری وصيت نامہ ديا تها اس ميں بهی اپنے اس موقف کو واضح کرديا تها کہ انکا يہ سفر کسی ڈر يا خوف کی بناء نہ تها بلکہ امت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی خاطر تها۔ امام کا يہ وصيت نامہ تمام معروف شيعہ اور سنی منابع تاريخ ميں موجود ہے۔ يہاں قارئين کی سہولت کے ليئے ايک مرتبہ پهر سےاصل عربی عبارت ميں درج ہے:

" هذا ما أوصي به الحسين بن علي إلي أخيه محمد بن الحنفية إن الحسين يشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريک له و أن محمداً عبده و رسوله جاء بالحق من عنده و أن الجنة حق و النار حق و الساعة آتية لاريب فيها و أن الله يبعث من في القبور و أني لم أخرج أشراً و لا بطراً و لا مفسداً و لا ظالماً و إنما خرجت لطلب الإصلاح في امة جدي(صلي الله عليه و آله ) أريد أن آمر بالمعروف و أنهي عن المنکر و أسير بسيرة جدي و أبي علي بن أبي طالب فمن قبلني يقبول الحق فالله أولي بالحق و من رد علي هذا أصبر حتي يقضي الله بيني و بين القوم و هو خيرالحاکمين، و هذه وصيتي إليک يا أخي! و ما توفيقي إلا بالله، عليه توکلت و إليه أنيب." (تواريخ طبری و ابن اثير)

اس خطبے کی روشنی ميں يہ درک کرنا مشکل نہيں کہ امام کا قيام اور سفر دراصل باطل کے خلاف ايک تحريک تها نہ کہ اپنی جان بچانے کی خاطر فرار (نعوذ بالله)، جيسا کہ بعض کم فہم مبصرين کا قياس ہے۔ اگر فرار ہی مقصود ہوتی تو يمن بہترين مقام تها جيسا کہ آپکو عبدالله ابن عباس اور بعض ديگر صحابہ نے مشورہ بهی ديا تها اور جہاں نہ صرف بنی اميہ کی مخالفت پہلے سے موجود تهی بلکہ سوق الجيشی اور جنگی اعتبار سے بهی يہ علاقہ نہايت موزوں تها۔ اسی طرح اگر امام کا مقصود اپنی جان بچانا ہی ہوتا تو امام بيعت يزيد سے انکار ہی کيوں کرتے؟

امام کے اصلی عربی خطبے سے بڑھ کر کون سی دلیل چاہیئے؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کہتے ہو کہ امام نے کہا کہ میں خفییہ بیعت نہیں کروں گا جب کہ سیعہ اور سنی دونوں تاریخوں میں ہے کہ امام نےبیعت سے سرے سے ہی انکار کردیا تھا۔۔۔۔ "ايها الامير انا اهل بيت النبوة ومعدن الرسالة ومختلف الملائكة ومحل الرحمة بنا فتح الله وبنا ختم ويزيد رجل::جد هؤلاء الفجرة:: فاسق شارب خمر، قاتل النفس المحرمة معلن الفسق ومثلي لا يبايع مثله ولكن نصبح وتصبحون وننظر وتنظرون اينا احق بالخلافة والبيعة"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کیوں حقائق سے آنکھیں چرآتے اور پھر بھی اپنے آپ کو تاریخ کا ٹھیکیدار جانتے ہو؟؟؟؟؟

تم نے لکھا کہ امام حسین کے بیٹے علی زین العابدین کی عمر چھ سال تھی جبکہ تمام مسلمانوں کی کتابوں میں ان کی عمر چوبیس سال لکھی ہوی ہے۔ جب تمہیں کوئی معقول حوالہ نہ مللا تو تم نے مغربی مصنف گبن کا حوالہ دے ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم جھوٹ لکھو اور کوئی اعتراض بھی نہ کرے؟؟؟؟؟

سنی عقائد و نظریات تاریخ نہیں بن سکتے[ترمیم]

میرا معترضین کومخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے عقائد و نظریات سے ہٹ کر شخصیت پرستی کے بجائے شخصیات کے تاریخی کردار کو پیش نظر رکھیں خدا ہر صحابی سے راضی نہیں ہو سکتا اگر ایسا ہو تو یہ ذات باری تعالی' کی طرف سے زمانی ناانصافی ہو گی اور خدا اس سے بری ہے کہ کسی سے صرف اس لیئے راضی ہو جائے کہ وہ ایک مخصوص دور میں پیدا ہوا اور رسول اللہ کی زیارت اسے نصیب ہوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھئی ہم کیوں رضی اللہ نہیں؟؟ صرف اس لیئے کہ اکیسویں صدی میں زندہ ہیں؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو کسی کو لعنۃ اللہ کہنا برا لگتا ہے تو مجھے بھی ہر ایرے غیرے کو رضی اللھ بنا دینا برا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا بھی تو کچھ خیال کیجیئے!!!

--

  • محمد ابن احمد علي النقوي صاحب، اگر آپ کو مضمون پر بحث کرنا ہے تو سلیقہ سے کریں۔ ذاتی حملوں سے گریز کریں۔ صدیوں کے اختلافات وکیپیڈیا پر حل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے وکیپیٰڈیا پر لکھتے وقت خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی بھی طرف کا شدت پسند انداز نہ اپنایا جائے۔ وکیپیڈیا پر تمام طرف کے اصحابِ افکار موجود ہیں، بلکہ منتظمین میں شامل ہیں۔ اس لیے خاطر جمع رکھیں کہ آپ کے نکتہ نظر سے زیادتی ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اُمید ہے کہ آپ مذید بحث میں وکیپیٰڈیا کے آداب ملحوظ خاطر رکھیں گے۔ مضمون پر فیصلہ مذید رائے آنے کے بعد کیا جائے گا۔

--Urdutext 23:40, 29 جنوری 2008 (UTC)

جواب: اگر حل نہیں ہو سکتا تو آپ کیوں حل کرنا چاہ رہے ہیں؟ میں نے کسی پر ذاتی حملہ نہیں کیا صرف سچ لکھا ہے۔ مجھے تم سے سلیقے کا سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیئے۔ سب سے بڑی بد سلیقگی جھوٹ کو کو نظر انداز کرنا اور اسکی حمایت کرنا ہے جو آپ کر رہے ہیں۔ آپ میرا مشورہ مان کر دو چار تاریخ کی کتابیں کیوں نہیں پڑھ لییلے؟ فہد اگر کچھ لکھ کر اسکے عین الحق ہونے پر اسرار کرے تو اسکا جواب اسے نہیں تو کیا میں تمہیں دوں؟؟؟ مجھ سے بات کرنی ہے تو دلیل اور حوالوں سے بات کرو۔ اگر یہ موضوع اتنا متنازعہ ہے تو ہر ایک پر لازم ہے کہ اس بات کی توضیح کرے کہ ایک مخصوس واقعہ یا رائے ( جسے وہ لکھتا ہے)کس مسلک کی نمائندگی کرتی ہے۔ دوسرے اگر اپنی شدت پسندانہ رائے اس مضمون سے ہٹا لیں تو میں بھی غور کرتا ہوں۔ میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اور کچھ غلط چیزیں دیکھی تھیں جبھی ترمیم کی تھی۔ فھد پر مجھے اس بیت پر غصہ ھے کہ اس نے وہ حوالے ہٹا دیئے جو میں نے لکھے تھے۔ ذاتی حملہ اس نے کیا میں نے نہیں!!

  • محترم! سب سے پہلے یہ بات واضح کر دوں کہ وکیپیڈیا پر مضمون لکھتے ہوئے یہ بنیادی فلسفہ ہمیشہ میرا نصب العین رہا ہے کہ کسی بھی اختلافی مضمون پر مختلف طبقہ ہائے فکر کی آرا کا احترام کیا جائے اور کسی بھی مضمون کا جھکاؤ یکسر کسی ایک کے پلڑے میں نہ ہو جائے۔ سلمان رضوی صاحب نے اس سلسلے میں سانجۂ کربلا جیسے نازک موضوع پر اتنا اچھا مضمون لکھ کر جو مثال قائم کی وہ یقیناً تمام وکی صارفین کے لیے مثال ہے۔ ـآپ ایسا کریں کہ آپ کو مضمون میں جن جن امور پر اعتراض ہے ان کو نکات کی صورت میں یہاں پیش کر دیں، اور جن کا آپ اضافہ چاہتے ہیں وہ بھی بحوالہ پیش کریں۔ ویسے محمد صاحب! ایک طرف تو آپ یہ کہتے ہیں کہ " تم چاہتے ہو کہ جھوٹ لکھو اور سنی عقائد کو عین تاریخ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرو" اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ " میں نے تاریخ تبری (اصل لفظ طبری ہے) جو سنیوں کی سب سے مستند کتاب ھے سے ھوالہ دیا تھا۔ پہلے تاریخ پڑھو پھر اعتراض کرنا" اور "سنی عقائد و نظریات تاریخ نہیں بن سکتے" یہ دو رنگی کیا معنی؟ بہرحال آپ کو اس سلسلے میں جو تکلیف اٹھانا پڑی اس پر میں انتہائی معذرت خواہ ہوں اور امید ہے کہ آئندہ آپ کو میری طرف سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ فہد احمد کیہر تبادلۂ خیال | میرا حصہ

اسلام علیکم؛ جناب آب یزید بن معاویہ کو سانحہ کربلا میں کیوں کینچ رہے ہیں: امام بخاری نے ثابت کیا ہے۔دیکھے؛ http://emanekhalis.com/mawazna/mawazna25.htm طبری ایک کٹر شیعہ تھا اس لیے تاریخ طبری سنیوں کا نہیں بلکہ شیعوں کا مستند حوالہ ہے تفصیل کے لیے دیکھیے علامہ تمنا عمادی کی کتاب "تصویر کا دوسرا رخ" ر ن ا== یزيد ==

کچھ سوال ضروری ھي 1 کیا وجھ تھی کہ کسی نے بھی حسین بن علی کا ساتھ نہي دیا، جیسے عبدالہ ابن عباس، عبدالھ ا بن عمر او بہت سے صحابہ

عنوان مضمون[ترمیم]

اس مضمون کا عنوان سانحہ کربلا سے واقعہ کربلا کی طرف منتقل کرنا چاہتا ہوں۔ --:) یہ صارف منتظم ہے—خادم—  21:47, 24 اکتوبر 2014 (م ع و)