تبادلۂ خیال صارف:Ali Hassan owais

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خوش آمدید![ترمیم]

ہمارے ساتھ سماجی روابط کی ویب سائٹ پر شامل ہوں: F icon.svg اور G 2014-04-24 22-48.png

Welcome! Bienvenue! Willkommen! Benvenuti ¡Bienvenido! ようこそ Dobrodosli 환영합니다 Добро пожаловать Bem-vindo! 欢迎 Bonvenon Welkom
(?_?)
ویکیپیڈیا میں خوش آمدید
Wikipedia laurier wp.png

جناب Ali Hassan owais کی خدمت میں آداب عرض ہے! ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اُردو ویکیپیڈیا کے لیے بہترین اضافہ ثابت ہوں گے۔
ویکیپیڈیا ایک آزاد بین اللسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ منصوبۂ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری 2004ء میں عمل میں آیا۔ فی الحال اردو ویکیپیڈیا میں کل 171,080 مضامین موجود ہیں۔
اس دائرۃ المعارف میں آپ مضمون نویسی اور ترمیم و اصلاح سے قبل ان صفحات پر ضرور نظر ڈال لیں۔



Samarbetare.svg

یہاں آپ کا مخصوص صفحۂ صارف بھی ہوگا جہاں آپ اپنا تعارف لکھ سکتے ہیں، اور آپ کے تبادلۂ خیال صفحہ پر دیگر صارفین آپ سے رابطہ کر سکتے ہیں اور آپ کو پیغامات ارسال کرسکتے ہیں۔

  • کسی دوسرے صارف کو پیغام ارسال کرتے وقت ان امور کا خیال رکھیں:
    • اگر ضرورت ہو تو پیغام کا عنوان متعین کریں۔
    • پیغام کے آخر میں اپنی دستخط ضرور ڈالیں، اس کے لیے درج کریں یہ علامت --~~~~ یا اس (Insert-signature.png) زریہ پر طق کریں۔

Signature-guide-ur.png


Under construction icon-green.svg

ویکیپیڈیا کے کسی بھی صفحہ کے دائیں جانب "تلاش کا خانہ" نظر آتا ہے۔ جس موضوع پر مضمون بنانا چاہیں وہ تلاش کے خانے میں لکھیں، اور تلاش پر کلک کریں۔

آپ کے موضوع سے ملتے جلتے صفحے نظر آئیں گے۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ آپ کے مطلوبہ موضوع پر پہلے سے مضمون موجود نہیں، آپ نیا صفحہ بنا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک موضوع پر ایک سے زیادہ مضمون بنانے کی اجازت نہیں۔ نیا صفحہ بنانے کے لیے، تلاش کے نتائج میں آپ کی تلاش کندہ عبارت سرخ رنگ میں لکھی نظر آئے گی۔ اس پر کلک کریں، تو تدوین کا صفحہ کھل جائے گا، جہاں آپ نیا مضمون لکھ سکتے ہیں۔ یا آپ نیچے دیا خانہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔


  • لکھنے سے قبل اس بات کا یقین کر لیں کہ جس عنوان پر آپ لکھ رہے ہیں اس پر یا اس سے مماثل عناوین پر دائرۃ المعارف میں کوئی مضمون نہ ہو۔ اس کے لیے آپ تلاش کے خانہ میں عنوان اور اس کے مترادفات لکھ کر تلاش کر لیں۔
  • سب سے بہتر یہ ہوگا کہ آپ مضمون تحریر کرنے کے لیے یہاں تشریف لے جائیں، انتہائی آسانی سے آپ مضمون تحریر کرلیں گے اور کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔


-- آپ کی مدد کےلیے ہمہ وقت حاضر
محمد شعیب 18:03، 15 جون 2021ء (م ع و)

گمنام تحریر[ترمیم]

گمنام راستوں کی آزردہ خاک پر بیٹھا وہ کسی کی یاد میں محو تھا۔ یاد یا یادوں کا تلاطم، اس کے چہرے سے کچھ بھی عیاں نہ تھا۔ ان لمحات میں اک اجنبی کا گزر ہوا۔ اجنبی کو اس کی جنبش لب سے ایسا محسوس ہوا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر خاموش رہا۔ اچانک اس کے منہ سے یہ جملہ بلند ہوا، " جدائی موت سے زیادہ سخت ہے"۔ اجنبی نے بآواز بلند کہا "ان للہ وانا الیہ راجعون اور سوال کیا، تمہارا کون پیارا انتقال کر گیا ہے؟" اس شخص کے قلب کی گہرائی سے یادوں کا طوفان اٹھا اور آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے برس پڑا۔ گویا ہوا, "اس کی محبت انتقال کر گئی جو میرے دل میں تھی۔" --Ali Hassan owais (تبادلۂ خیالشراکتیں) 18:14، 15 جون 2021ء (م ع و)علی حسن اویس

رسمِ جشن، آزادی یا غلامی[ترمیم]

قدیم رسومات کی پیروی کرتے ہوئے ہی آخر آزادی کا جشن کیوں منایا جاتا ہے؟ کیا صرف وہی جشن آزادی کے اصول پر کھرا اترتا ہے جو لوگوں کو باہم متنفر کرتے ہوئے بے ہودہ رسومات کے مطابق منایا جائے؟ میرے تجربے کے مطابق تو اس کا جواب ”ہرگز نہیں“ ہی ہوگا۔ تو آخر ان رسومات کی پیروی کرنا ہم پر اس دور ترقی میں کیوں لازم ہیں؟ اس سوال کا جواب ہر شخص کی نظر میں مختلف ہوگا مگر میرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ اس کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے غلامی ابدی غلامی۔ ہم نے انگریز سے،اس کے قانون اور ظلم سے تو آزادی حاصل کر لی مگر سوچ اور نظریہ کی آزادی حاصل کرنے سے ہم قاصر رہے ہیں۔ آج جب ہم جشن آزادی کی رسم ادا کرتے ہیں تو تقریب کا مہمان اعلیٰ علاقہ کا ایک امیر شخص ہی ہوا کرتا ہے۔ آخر ایسا ہی کیوں؟ کیوں اس بیوہ کو مہمان اعلیٰ نہیں بنایا جاتا جس کے شوہر نے بقول بسمل عظیم آبادی” سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے “ کا نعرہ لگایا اور اپنی سب سے قیمتی متاع کو وطن پر قربان کرتا ہوا منوں مٹی کے نیچے ہمیشہ کے لئے سو گیا۔ مگر جب لوگوں سے ان رسومات کو چھوڑ کر نیا انداز اپنانے کی اپیل کی جاتی ہے تو وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اسی پر بضد نظر آتے ہیں۔ میں کہتا ہوں مناؤ۔ بقول احمد فراز ” اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر“ کھل کر مناؤ، پر تکلف طریقے سے مناؤ مگر اس جشن کو جشن آزادی کا نام دینے سے اجتناب برتو کیوں کہ اس قسم کے جشن کو جشن آزادی کا نام دینا لفظ آزادی کی توہین ہے۔ موجودہ دور ترقی میں ان بے ہودہ رسومات پر عمل کرنے سے ایک غلام سوچ رکھنے والا معاشرہ تو پیدا کیا جا سکتا ہے مگر حقیقی آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم میں حقیقی آزادی حاصل کرنے کا جذبہ ہے تو ہمیں آج، اسی دن اور اسی جگہ یہ اعلان کرنا ہوگا کہ ان بے ہودہ رسومات سے جو آزادی کی معراج حاصل کرنے میں رکاوٹ عظیم ہیں ہم چھٹکاراحاصل کرتے ہوئے ان نفرتوں کو جو آدمی کو آدمی سے متنفر کرتی ہیں سات صندوقوں میں دفن کر کے محبت کا پیام دینے کو اولین فرض قرار دیتے ہیں۔ Ali Hassan owais (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:07، 30 اگست 2021ء (م ع و)

ہنس نامہ، فکر و فن[ترمیم]

عنوان:- ہنس نامہ ، فکر و فن

نظیر تاریخ کے آئینہ میں: نظیر اکبر آبادی کا اسمِ گرامی ولی محمد اور تخلص نظیر کرتے تھے۔ جنم دن کے متعلق حتمی فیصلہ کرنا کہ وہ کب پیدا ہوئے مشکل ہے کیونکہ تاریخ حتمی فیصلہ کا سراغ وا کرنے سے قاصر ہے۔ ہاں مگر ”زندگانی بے نظیر“ میں پروفیسر عبدالغفور شہباز نظیر اکبر آبادی کی دہلی میں پیدائش محمد شاہ رنگیلا کے عہد میں اور رام بابو سکسینہ نادر شاہ کے حملہ کے وقت بیان کرتے ہیں۔ مبہم اشارات کی روشنی میں قرین قیاس یہی ہے کہ ان کی پیدائش 1740ء-1735ء کے دوران دہلی میں ہوئی۔ والد محمد فاروق کے ہمراہ آپ بچپن میں ہی اکبر آباد (آگرہ) منتقل ہوگئے۔ اسی وجہ سے نظیر اکبر آبادی کہلائے۔ عام حالات و واقعات اور احساسات کو سادہ اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کا فن نظیر کا خاصہ ہے۔ اسی بنا پر انہیں عوامی شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی چند معروف نظموں میں آدمی نامہ، روٹیاں، بنجارا نامہ، مفلسی اور ہنس نامہ وغیرہ شامل ہیں۔ 1830ء میں فالج کے باعث ان کا انتقال آگرہ میں ہوا۔ بقول محمد وزیر خاں: ”کتاب لطف مآب پسند ہر صغیر و کبیر کلیاتِ نظیر۔“ تمثیل نگاری: ایسا اندازِ تحریر جس میں موضوع پر براہ راست بحث کرنے کے بجائے استعارات و تشبیہات اور تخیلی کرداروں (غیر ذی روح یا غیر ذی عقلی) کو استعمال کرتے ہوئے اصل موضوع بیان کیا جائے تمثیل نگاری کہلاتا ہے۔ فکری جائزہ: نظیر اکبر آبادی نے نظم بعنوان ”ہنس نامہ“ میں تمثیل نگاری کو استعمال کرتے ہوئے انسان کی اس عالمِ مستعجل میں اکیلے آمد اور اس جہان فانی سے ابدی عالم کی طرف اکیلے کوچ کی حقیقت کو ہنس کے روپ میں بیان کیا ہے۔ آیا تھا کسی شہر سے ایک ہنس بچارا اک پیڑ پہ جنگل کے ہوا اس کا گزارا جب آدمی اس دنیا میں تشریف لاتا ہے تو اس کے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ اس محلے میں جہاں وہ پیدا ہوتا ہے، خوشی کا سماں ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ جوانوں کی صف میں قدم رکھتا ہے اور سب اس پر فدا ہونے لگتے ہیں۔ سب ہو کے خوش اُس کی مے الفت لگے پینے ہر آن جتانے لگے چاہت کے قرینے وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں اس قدر گھل مل جاتا ہے کہ اس کے دوست احباب اس سے جدائی کا تصور کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ دوست احباب، رشتہ دار اور چند محبت میں اعلیٰ مقام کے حامل ذی وقار اس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ مگر ایک دن اسے ازل سے بلاوا آ ہی جاتا ہے اور جب وہ اپنے احباب سے راز عیاں کرتا ہے تو وہ گویا ہوتے ہیں کہ اگر تم چلے گئے تو ہمارا جینا ممکن نہ ہوگا۔ ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے۔ اک آن نہ دیکھیں گے تو دل غم سے بھریں گے ہم جتنے ہیں سب ساتھ تمہارے چلیں گے آخرکار وہ فانی دنیا سے عالمِ حقیقت کی جانب کوچ کر جاتا ہے اور تمام دوست اس کے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں کوئی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد تو کوئی قبر پر مٹھی بھر مٹی ڈال کر پہلی ہی منزل سے واپس لوٹ آتا ہے اور وہ آخری منزل یعنی قبر میں اکیلا ہی جاتا ہے۔ اُس پہلی ہی منزل میں کیا سب نے کنارا آخر کے تئیں ہنس اکیلا ہی سدھارا فنی تجزیہ: نظیر اکبر آبادی کی زیر تجزیہ نظم کا عنوان ہے ”ہنس نامہ“۔ نامہ کے معنی خط یا چٹھی کے ہیں۔ نظم کے متن میں ہنس کو تمثیل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو کہ انسان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس بنا پر ہنس نامہ کے معنی ہوئے انسانی خط دیگر الفاظ میں انسانی زندگی کا خط۔ اس نظم کا ہر بند پانچ مصرعوں پر مشتمل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظم مخمس ہے۔ اس نظم میں قافیہ کا استعمال ایسی خوبی سے کیا گیا ہے کہ ترنم کے ساتھ ساتھ معنی پوری آب و تاب کے ساتھ واضح ہو جاتے ہیں۔ محاورات کو نظم میں ایسے جوڑا گیا ہے جیسے نگینہ انگوٹھی میں۔ مثلاً موافق ہونا، آنکھ کا تارا ہونا، جان وارنا اور کنارہ کرنا وغیرہ۔ کیونکہ یہ نظم اٹھارہویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل کی تصنیف ہے اس وجہ سے کچھ ایسے الفاظ کا استعمال نظر آتا ہے جو موجودہ دور میں متروک ہو چکے ہیں مثلاً ایدھر اور ہووے وغیرہ۔ مجموعی تاثر: نظیر اکبر آبادی کی نظم ”ہنس نامہ“ تمثیلی نظم ہے جس میں خوبصورت قافیہ اور محاورات کا استعمال کرتے ہوئے انسان کی عالم فانی میں اکیلے آمد و انتقال کی حقیقت کو بخوبی بیان کیا گیا ہے۔

حواشی: 1:- پروفیسر محمد عبدالغفور شہباز، ”زندگانی بے نظیر“، لکھنؤ، منشی نول کشور مطبع، 1900ء، ص 411۔ 2:- نظیر اکبر آبادی، ”قاصد نامہ و ہنس نامہ“، مطبع آئینہ سکندر، ص 4۔

لکھاری:- علی حسن اویس Ali Hassan owais (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:20، 11 جنوری 2022ء (م ع و)

علی حسن اویس Ali Hassan owais (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:21، 11 جنوری 2022ء (م ع و)