ثوبیہ طاہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ثوبیہ طاہر
معلومات شخصیت
پیدائش 26 جنوری 1966ء (عمر 53 سال)
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت پاکستانی
عملی زندگی
تعليم بی اے فلاسفی، سماجیات (جامعہ پنجاب لاہور، 1985)
ایم اے فلاسفی(جامعہ پنجاب لاہور، 1989)
پی ایچ ڈی فلاسفی (جامعہ پنجاب لاہور، 1996)
پوسٹ ڈاکٹرل ڈپلومہ (فلسفہ)(کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک، 2002)
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ پروفیسر فلسفہ
نوکریاں فلاسفی ڈیپارٹمنٹ , گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
ویب سائٹ
ویب سائٹ Faculty webpage

ثوبیہ طاہرپاکستانی مفکرہ، محقق، لکھاری اور فلسفہ کی پروفیسر ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور"فلاسفی اینڈ انٹر ڈسپلنری سڈیز ڈیپارٹمنٹ" میں فلسفہ ٔ مذہب، کلاسیکل اور ماڈرن مسلم فلاسفی کی پروفیسر ہیں[1]۔ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے "فلاسفی اینڈ انٹر ڈسپلنری سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ" میں ایم فل پروگرام کی بانی ہیں۔ تحقیق میں اُن کے بنیادی دلچسپی کے شعبے، تنقیدی فلسفہ، ادب اور ترجمہ ہیں۔[2]

تعلیم[ترمیم]

انہوں نے جامعہ پنجاب لاہورسے ایم اے فلسفہ کی ڈگری لینے کے بعد اُسی یونیورسٹی سے انہوں نے 1996 میں فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ 2012 میں ڈاکٹر ثوبیہ طاہر نے "کُلمبیا یونیورسٹی" امریکا سے پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ مکمل کی جس کا عنوان تھا؛ " حنفی کا مطالعۂ خصوصی اور اقبال کا تقابلی جائزہ" اپنے مقالہ میں انہوں نے حسن حنفی کی فلسفیانہ فکر اور اور اس کی اہمیت کو واضح کیا۔ علاوہ ازیں موجودہ اسلامی فکر میں ان کے نظریات کے اثرات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حنفی کے افکار، ترقی، فکری اُپچ اور دور ِ حاضر کی جدیدیت کے ساتھ اسلام کے تطابق پر ان کی فکر کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اِس طرح حنفی کی فکر کا تقابلی جائزہ جنوبی ایشیأ میں دور ِ حاضر کے ماڈرن مسلم فلسفی اقبال کے ساتھ پیش کیا۔

خدمات[ترمیم]

ثوبیہ طاہر نے اپنی فعال سماجی اور معاشرتی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ انہوں نے اپنے کرئیر کا آغاز "روزنامہ پاکستان" لاہور میں ٹرینی سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کیا اور 1990 سے 1992 تک وہاں کام کرتی رہیں۔ وہاں سے "روزنامہ خبریں" چلی گئیں اور 1992 سے 1995 تک سب ایڈیٹر کے عہدے پر اپنی خدمات سر انجام دیں۔ 1995 سے 1996 تک ثوبیہ "روزنامہ اخبار لاہور" میں نیوز ایڈیٹر رہیں۔ آپ "پلاننگ پروگرام ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ ڈوژن" فیملی پلاننگ ایسویسی ایشن آف پاکستان میں 1996 سے 2001 تک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرتی رہیں۔ بعد میں آپ 2002 سے 2006 تک ڈائریکٹرکے عہدے پر بھی رہی۔ یہی پوسٹ بعد میں ڈائریکٹر سے مینیجر سے معنون ہو گئی۔ آپ نے 2008 تک اس پوسٹ پر کام کیا۔

مضامین[ترمیم]

شائع شدہ مضامین[ترمیم]

  • ٹالسٹائی کا نظریہ عدم تشدد۔ ایک منطقی جائزہ، (ثوبیہ طاہر)۔[3][4]
  • مسلم دنیا میں روشن خیالی کی کمی : ایک فلسفیانہ جائزہ۔(ثوبیہ طاہر) [5]
  • اسلام اور جدیدیت: سرمایہ دارانہ نظام کا منتخب اثر۔(ثوبیہ طاہر)۔[6]
  • فلسفہ اور امن: اندرونی اور بیرونی ۔(ثوبیہ طاھر), online Journal de la revue Sciences-Croisées : 7-8 Soin de l'âme (perspectives historiques et philosophiques), January, 2011.[7]
  • ٹالسٹائی کے ابتدائی اور بعد ازاں ادبی رجحانات پر ایک فلسفیانہ نظر۔(ثوبیہ طاہر)۔[8]
  • Tahir, Sobia, “Categorical Imperative, Super-Ego and Dharma: A Comparative Study of Kant, Freud and Bhagvad Gita”.[9][10][11]
  • Tahir, Sobia, “Critique of Arab Reason: A worthy Contribution of Mohammad Abed Al-Jabri to Contemporary Muslim Philosophy”.[12]
  • Tahir, Sobia, “What is Education Imbibing in You?”.[13]
  • Tahir, Sobia, “Truth: Self Evident or in need of Proof?”.[14]
  • Tahir, Sobia, “Divine Attributes-An Attempt to Reinterpret”, The Historian, Vol. 6, Number 2, 2008. (Peer Reviewed)
  • Tahir, Sobia, “Evil: A Problem of Philosophy of Religion”, Al-Hikmat, Vol. 18, 1998.[15]
  • Tahir, Sobia, “Psychology of Indian Pessimism”.[16]
  • Tahir, Sobia, “Rabindra Nath Tagore: Poetry, Painting & Philosophy Personified”.[17]

زیر طبع مضامین[ترمیم]

  • Tahir, Sobia, “Obsessional Neurosis as an Origin of Slavery, Technology and Low Status of Women-Freud and Bhagvad-Gita Revisited”.[18]
  • Tahir, Sobia, “A Monograph on Hassan Hanafi: Critical Analysis with Muhammad Iqbal”, (Fulbright post-doctoral research conducted at Columbia University, New York), Scientific and Academic Publishing USA.

شائع شدہ تراجم[ترمیم]

  • ٹالسٹائی کے اعترافات اور دیگر مذہبی تحاریر۔[19]
  • سگمنڈ فرائد:ٹوٹم، ٹیبو اور دیگر مضامین۔[20]
  • جناح اور گاندھی (جسٹس ایس۔ کے موجمدار، ویسٹ بنگال)۔[21]

اعزازات[ترمیم]

  • شمولیت کا اعزاز ‘Who is Who-International Network of Women Philosophers” منجانب یونیسکو، دسمبر-2009.[22][23][24]
  • یونیسکو کمیونٹی آف ریسرچرز میں شمولیت کا اعزاز، سال 2009-2010.[25]
  • فلاسفرز کی فہرست میں شمولیت کا اعزاز۔ فلاسفرز انفارمیشن سنٹر، اوہائے او، امریکا۔
  • امریکا سے پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ پر ’’ فل برائیٹ سکالر ایوارڈ ‘‘ حاصل کرنے کا اعزاز، تعلیمی سال 2011،12
  • ایچ ای سی کی جانب سے مصدقہ پی ایچ ڈی سپروائزر ہونے کا اعزاز، سال 2012[26]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لاہور جی سی یو۔ "ڈیپارٹمنٹ آف فلاسفی اینڈ آئی ڈی سی ، جی سی یو، لاہور"۔ http://www.gcu.edu.pk۔ جی سی یو لاہور۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر2014۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت); External link in |website= (معاونت)
  2. گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور۔ "فیکلٹی پیج ، جی سی یو ، لاہور"۔ gcu.edu.pk۔ gcu.edu.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر2014۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  3. ثوبیہ، Tahir (October 2012). "ڈائیلاگ/7_4/ڈائیلاگ_اکتوبر_دسمبر 2012_347-363.pdf ٹالسٹائی کا نظریہ عدم تشدد – ایک منطقی جائزہ". The Dialogue, Qurtaba University, Peshawar, Pakistan VII (نومبر4): 347-363. http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/دی ڈائیلاگ/7_4/ڈائیلاگ_اکتوبر_دسمبر 2012_347-363.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 October 2014. 
  4. Tahir Sobia۔ "GCU Lahore Annual Report" (پی‌ڈی‌ایف)۔ www.gcu.edu.pk۔ GCU Lahore۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2014۔
  5. ثوبیہ، طاہر (جون2012). "مسلم دنیا میں روشن خیالی کی کمی : ایک فلسفیانہ جائزہ". علی گڑھ جرنل آف مسلم فلاسفی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، یو پی، انڈیا. 
  6. ثوبیہ، طاھر (2011). "اسلام اور جدیدیت: سرمایہ دارانہ نظام کا منتخب اثر". Journal of اسلامک تھاٹس اینڈ سولائزیشن 1 (1): 55-70. http://admin.umt.edu.pk/Media/Site/SSH/SubSites/ITC/FileManager/Data/itc-vol-1-Issue2.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 اکتوبر 2014. 
  7. Sobia Tahir۔ "Philosophy and Peace: external and internal"۔ sciences-croisees.com۔ sciences-croisees.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر 2014۔
  8. Sobia، Tahir (2009). "ٹالسٹائی کے ابتدائی اور بعدازاں ادبی رجحانات پر ایک فلسفیانہ نظر". کوئیسٹ ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ، لاہور، پاکستان: 19-20. 
  9. Sobia، Tahir (2009). "Categorical Imperative, Super-Ego and Dharma: A Comparative Study of Kant, Freud and Bhagvad Gita". Journal of Indian Council of Philosophical Research (JICPR 26 (3). 
  10. Sobia Tahir۔ "Categorical Imperative, Super-Ego and Dharma: A Comparative Study of Kant, Freud and Bhagvad Gita"۔ .internationalpeaceandconflict.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر 2014۔
  11. Sobia Tahir۔ "Categorical Imperative, Superego and Dharma"۔ amazonaws.com۔ amazonaws.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر 2014۔
  12. Sobia، Tahir (October 2009). "Critique of Arab Reason: A worthy Contribution of Mohammad Abed Al-Jabri to Contemporary Muslim Philosophy". Aligarh Journal of Islamic Philosophy, Aligarh Muslim University, India. 
  13. Sobia، Tahir (2009–2010). "What is Education Imbibing in You?". Iqbal, Bazm-e-Iqbal, Club Road, Lahore. 
  14. Sobia، Tahir (2009). "Truth: Self Evident or in need of Proof". The Ravi, GCU Lahore. 
  15. Tahir Sobia۔ "EVIL: A PROBLEM OF PHILOSOPHY OF RELIGION"۔ Pakistan Research Repository۔ HEC Pakistan۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2014۔
  16. Sobia، Tahir (1994–1996). "Psychology of Indian Pessimism". Pakistan Philosophical Journal 31 (43). http://www.gcu.edu.pk/Forms/SAO/2011/Rsearch_Publication_Detail-2011.PDF. 
  17. Sobia، Tahir (1994). "Rabindra Nath Tagore: Poetry, Painting & Philosophy Personified". Al-Hikmat, University of Punjab, Lahore 14: 79-93. 
  18. Sobia، Tahir. "Obsessional Neurosis as an Origin of Slavery, Technology and Low Status of Women-Freud and Bhagvad -Gita Revisited". Pakistan Journal of Social and Clinical Psychology (PJSCP), GCU, Lahore.. 
  19. ثوبیہ طاہر۔ ٹالسٹائی کے اعترافات اور دیگر مذہبی تحاریر۔ نگارش پبلیکشنز لاہور۔
  20. ثوبیہ طاہر۔ سگمنڈ فرائد:ٹوٹم ، ٹیبو اور دیگر مضامین۔ نگارش پبلیکشنز لاہور۔
  21. ثوبیہ طاہر۔ ناح اور گاندھی (جسٹس ایس ۔کے موجمدار ، ویسٹ بنگال)۔ سارنگ پبلشرز ، لاہور۔
  22. خواتین فلسفی Network of۔ "انٹرنیشنل نیٹ ورک آف وومین فلاسفر، منجاب ؛ یونیسکو"۔ http://www.unesco.org۔ یونیسکو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2014۔ External link in |website= (معاونت)
  23. Archive News۔ "International Network of Women Philosophers holds its First Assembly at UNESCO"۔ http://www.worldfamilyorganization.org۔ ورلڈ فیملی آرگنائزیشن۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2014۔ External link in |website= (معاونت)
  24. %7B%7Bcite web|last1=خواتین فلاسفر|first1=Asia, Pacifique|title=ایشیا پیسفک/ASIA AND THE PACIFIC 1 - unesco|url=http://www.unesco.org/new/fileadmin/MULTIMEDIA/HQ/SHS/pdf/Women-Philosophers_Asia-Pac_281111.pdf%7Cwebsite=http://www.unesco.org%7Cpublisher=یونیسکو%7Caccessdate=20 October 2014}}
  25. طاہر ثوبیہ۔ "یونیسکو کمیونٹی آف ریسرچرز 2009-2010" (پی‌ڈی‌ایف)۔ http://www.unesco.org/۔ UNESCO۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2014۔ External link in |website= (معاونت)
  26. Tahir Dr. Sobia۔ "Registration of Phd Supervisor"۔ http://www.hec.gov.pk۔ HEC Pakistan۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2014۔ External link in |website= (معاونت)