"تلنگانہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
32 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
==تاریخ==
ابھی جس علاقے کو تلنگانہ کہا جاتا ہے، اس میں آندھرا پردیش کے 23 اضلاع میں سے 10 اضلاع آتے ہیں. اس علاقے سے آندھرا پردیش کی 294 میں سے 119 اسمبلی نشستیں آتی ہیں. تلنگانہ کو 42 لوک سبھا سیٹوں میں سے 17 سیٹیں حاصل ہوئی ہے.تلنگانہ کو ایک الگ ریاست بنانے کی مانگ کی جاتی رہی ہے، اور اس کے لئے تحریک بھی چلائی گئی.
 
ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش بروز پیر2جونپیر 2 جون 2014 کو باضابطہ طور پر2حصوںپر 2 حصوں میں میںمنقسممنقسم ہو گئی جبکہ اس میں سے ملک کی 29 ویں ریاست تیلنلگانہتلنگانہ وجود میں آگئی ۔تیلنلگانہ۔تلنگانہ کا قیام اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو ہندوستان کے مقامی وقت کے مطابق رات12رات 12 بجے عمل میں آیا۔تلنگانہ ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت[[دار الحکومت]] حیدرآباد کے آس پاس کے10کے 10 اضلاع پر مشتمل ہے جبکہ حیدرآباد آئندہ دس برس کیلئے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومتدار الحکومت رہے گا۔انگا۔ ان 10 برسوں میں آندھرپردیش کو اپنا الگ دارالحکومتدار الحکومت بنانا ہوہوگا۔ گا۔مقامیمقامی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹرسمیتیراشٹر سمیتی نے نئی ریاست کے قیام کیلئےگذشتہ 14 سال تک تحریک چلائی اور نئی ریاست میں اس کی پہلی حکومت ہو گی۔
گذشتہ سال جولائی میں مرکز میں کانگریس کی سربراہی میں حکمراں اتحاد نے آندھراپردیش میں نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کی منظوری دی تھی اور اس کے بعد رواں سال فروری میں ملک کے ایوان بالا نے تلنگانہ کے قیام کا بل منظور کیا تھا۔ اس فیصلے پر اس وقت آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ کرن کمار ریڈی احتجاجاً اپنے عہدہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔آندھراپردیش کے شمالی اضلاع بشمول حیدرآباد پر مشتمل تلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ 1956 میں اس وقت سے کیا جا رہا تھا جبکہ تلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھراپردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور بااثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انھوں نے غریب اور پسماندہ تلنگانہ کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا۔چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علاحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا۔ 70-1969 میں اس مسئلہ پر پرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔2001 میں یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگودیشم سے عیلحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راو نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تلنگانہ کیلئے اپنی مہم کا آغاز کیا۔
 
رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہوگئی کہ 2004کے انتخابات کیلئے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔ہندوستان میں اس سے پہلے آخری بار 2012 میں تین نئی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان میں مدھیہ پردیش کے مشرقی علاقوں پر مشتمل چھتیس گڑھ کے نام سے نئی ریاست بنائی گئی۔ اتر پردیش کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل اتراکھنڈ ریاست اور ریاست بہار کے جنوبی علاقوں پر مشتمل جھار کھنڈ ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ندھراپردیش کے شمالی حصے میں نو اضلاع بشمول حیدرآباد پر مشتمل تلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ 1956 میں اس وقت سے کیا جارہا ہے جبکہ تلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھراپردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔تاریخی اعتبار سے تلنگانہ کا علاقہ نظام حیدرآباد کی آصف جاہی سلطنت کا حصہ تھا۔ 1948 کے دوران ہندوستان میں حیدرآباد کے انضمام کے بعد تلنگانہ کو کچھ برسوں تک ایک الگ ریاست کی حیثیت حاصل رہی۔جب لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل جدید کیلئے فضل علی کمیشن قائم کیا گیا تو علاقہ کے عوام نے اپنے لئے ایک علاحدہ ریاست کے موقف کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا اور اس علاقہ کو ساحلی آندھرا کے ساتھ ملا کر آندھراپردیش کا نام دیا گیا۔
گذشتہ سال جولائی 2016 میں مرکز میں [[کانگریس]] کی سربراہی میں حکمراں اتحاد نے آندھراپردیشآندھرا پردیش میں نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کی منظوری دی تھی اور اس کے بعد رواںفروری سال فروری2017 میں ملک کے ایوان بالا نے تلنگانہ کے قیام کا بل منظور کیا تھا۔ اس فیصلے پر اس وقت آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰوزیر اعلیٰ کرن کمار ریڈی احتجاجاً اپنے عہدہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔آندھراپردیشتھے۔ آندھرا پردیش کے شمالی اضلاع بشمول حیدرآباد پر مشتمل تلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ 1956 میں اس وقت سے کیا جا رہا تھا جبکہ تلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھراپردیشآندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور بااثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انھوں نے غریب اور پسماندہ تلنگانہ عوام کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا۔چنانچہکیا۔ چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علاحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا۔ 70-1969 میں اس مسئلہ پر پرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔2001گئے۔ 2001 میں یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگودیشمتلگو دیشم سے عیلحدگیعلاحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راو نے تلنگانہ راشٹرسمیتیراشٹر سمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تلنگانہ کیلئے اپنی مہم کا آغاز کیا۔
ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور با اثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انہوں نے غریب اور پسماندہ تلنگانہ کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا۔چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علاحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا۔ 70-1969 میں اس مسئلہ پر پرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں تلنگانہ کے عوام نے احتجاج کی قیادت کرنے والی تلنگانہ پرجا سمیتی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا۔ لیکن انتخابات کے بعد اسی پارٹی نے قلا بازی کھائی اور خود کو کانگریس میں ضم کرلیا۔ اس دھوکا دہی سے تلنگانہ کے عوام اتنے بدظن ہوئے کہ اگلے دو تین دہایوں تک کسی نے بھی تلنگانہ ریاست کا نام نہیں لیا۔2001 کے دوران یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگودیشم سے عیلحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راو نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تلنگانہ کیلئے اپنی مہم کا آغاز کیا۔رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہوگئی کہ 2004کے انتخابات کیلئے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔اس موقع پر دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ کے مسئلہ کو علاقہ کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور اس معاہدہ کی دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے تشریح کی۔ جہاں ٹی آر ایس کو امید تھی کہ یو پی اے کی حکومت جلد ہی آندھراپردیش کو دو حصوں میں بانٹ کر انہیں تلنگانہ ریاست تحفے کے طور پر پیش کرے گی جبکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ کی طرح ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا اور اب اس کا یہ کہنا ہے کہ محض ریاستوں کی تنظیم جدید کے ایک اور کمیشن کے قیام کے ذریعہ یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔جہاں تک دوسری پارٹیوں کے موقف کا سوال ہے۔ تلگودیشم ، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم آندھراپردیش کے بٹوارے کے خلاف ہیں۔ مجلس اتحاد السملمین جو اس علاقے میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کرتی ہے وہ بھی علاحدہ تلنگانہ کے حق میں نہیں ہے۔ صرف بی جے پی نے ہی اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اب تلنگانہ کی تائید کا اعلان کیا ہے۔چنانچہ جہاں اب اس مسئلہ پر گڑبڑ اور تشدد کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے وہیں اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ آگے چل کر ایک نیا سیاسی محاذ تشکیل پائے جس میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے علاوہ ایک تلگو اداکارہ وجے شانتی کی تلنگانہ تلی پارٹی بھی شامل ہو۔
رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہوگئی کہ 2004کے انتخابات کیلئے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔ہندوستانپڑا۔ ہندوستان میں اس سے پہلے آخری بار 2012 میں تین نئی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان میں مدھیہ پردیش کے مشرقی علاقوں پر مشتمل چھتیس گڑھ کے نام سے نئی ریاست بنائی گئی۔ اتر پردیش کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل اتراکھنڈ ریاست اور ریاست بہار کے جنوبی علاقوں پر مشتمل جھار کھنڈ ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ندھراپردیشتھا۔آندھرا پردیش کے شمالی حصے میں نو اضلاع بشمول حیدرآباد پر مشتمل تلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ 1956 میں اس وقت سے کیا جارہا ہے جبکہ تلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھراپردیشآندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔تاریخیتھی۔ تاریخی اعتبار سے تلنگانہ کا علاقہ نظام حیدرآباد کی آصف جاہی سلطنت کا حصہ تھا۔ 1948 کے دوران ہندوستان میں حیدرآباد کے انضمام کے بعد تلنگانہ کو کچھ برسوں تک ایک الگ ریاست کی حیثیت حاصل رہی۔جبرہی۔ جب لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل جدید کیلئے فضل علی کمیشن قائم کیا گیا تو علاقہ کے عوام نے اپنے لئے ایک علاحدہ ریاست کے موقف کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا اور اس علاقہ کو ساحلی آندھرا کے ساتھ ملا کر آندھراپردیشآندھرا پردیش کا نام دیا گیا۔
 
ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور با اثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انہوں نے غریب اور پسماندہ تلنگانہ عوام کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا۔چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علاحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا۔ 70-1969 میں اس مسئلہ پر پرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔اسگئے۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں تلنگانہ کے عوام نے احتجاج کی قیادت کرنے والی تلنگانہ پرجا سمیتی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا۔ لیکن انتخابات کے بعد اسی پارٹی نے قلا بازی کھائی اور خود کو کانگریس میں ضم کرلیا۔ اس دھوکا دہی سے تلنگانہ کے عوام اتنے بدظن ہوئے کہ اگلے دو تین دہایوں تک کسی نے بھی تلنگانہ ریاست کا نام نہیں لیا۔2001لیا۔ 2001 کے دوران یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگودیشم سے عیلحدگیعلاحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راو نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تلنگانہ کیلئے اپنی مہم کا آغاز کیا۔رفتہکیا۔ رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہوگئی کہ 2004کے2004 کے انتخابات کیلئے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔اسپڑا۔ اس موقع پر دونوں پارٹیوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ کے مسئلہ کو علاقہ کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور اس معاہدہ کی دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے تشریح کی۔ جہاں ٹی آر ایس کو امید تھی کہ یو پی اے کی حکومت جلد ہی آندھراپردیشآندھرا پردیش کو دو حصوں میں بانٹ کر انہیں تلنگانہ ریاست تحفے کے طور پر پیش کرے گی جبکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ کی طرح ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا اور اب اس کا یہ کہنا ہے کہ محض ریاستوں کی تنظیم جدید کے ایک اور کمیشن کے قیام کے ذریعہ یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔جہاںہے۔ جہاں تک دوسری پارٹیوں کے موقف کا سوال ہے۔ تلگودیشم ،تلگودیشم، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم آندھراپردیشآندھرا پردیش کے بٹوارے کے خلاف ہیں۔ مجلس اتحاد السملمینالسلمین جو اس علاقے میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کرتی ہے وہ بھی علاحدہ تلنگانہ کے حق میں نہیں ہے۔ صرف بی جے پی نے ہی اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اب تلنگانہ کی تائید کا اعلان کیا ہے۔چنانچہہے۔ چنانچہ جہاں اب اس مسئلہ پر گڑبڑ اور تشدد کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے وہیں اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ آگے چل کر ایک نیا سیاسی محاذ تشکیل پائے جس میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے علاوہ ایک تلگو اداکارہ وجے شانتی کی تلنگانہ تلی پارٹی بھی شامل ہو۔
 
== اضلاع ==
تلنگانہ ریاست کے 31 اضلاء ہیں۔
1,518

ترامیم

فہرست رہنمائی