خالد حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خالد حسن
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اپریل 1934  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سری نگر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 5 فروری 2009 (75 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان[2]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماہرِ لسانیات،  صحافی،  مترجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
خالد حسن

پاکستان کے نامور صحافی، کالم نگار اور مترجم ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

خالد حسن سنہ 1934ء میں سری نگر میں پیدا ہوئے۔ اسکول کی تعلیم جموں میں حاصل کی جہاں اُن کے والد ڈاکٹر نور حسین محکمہء صحت میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔ خالد ابھی نویں جماعت میں تھے کہ تقسیم کا ہنگامہ اور کشمیر کی جنگ شروع ہو گئی۔ اُن کا خاندان بمشکل جان بچا کر سیالکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہوا جہاں سنہ 1948ء میں خالد حسن نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

ملازمت[ترمیم]

انھوں نے اُنیس سال کی عمر میں مرے کالج سیالکوٹ سے ایم اے انگریزی کر لیا اور جب اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی پڑھانی شروع کی تو اپنے کئی شاگردوں کو عمر میں خود سے بڑا پایا۔ بعد میں وہ مرے کالج سیالکوٹ اور لارنس کالج گھوڑا گلی میں بھی انگریزی زبان و ادب کی تدریس سے وابستہ رہے۔ سن پچاس کی دہائی میں وہ مقابلے کا امتحان دے کر انکم ٹیکس افسر بن گئے لیکن بقول خود’۔۔ نہ تو مجھے اس کام سے دلچسپی تھی اور نہ ہی پیسہ اینٹھنے کا شوق تھا۔۔۔‘ چنانچہ جلد ہی اس ملازمت سے کنارہ کش ہو گئے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ سنہ 1960 کے لگ بھگ ریڈیو پاکستان کی اصلاح اور تنظیمِ نو کے لیے جو براڈ کاسٹنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، خالد حسن اس کے سیکرٹری تھے۔

صحافت[ترمیم]

لکھنے لکھانے کا آغاز 1967ء میں ہوا جب انھوں نے آئی ایچ برنی کے رسالے ’آؤٹ لُک‘ میں کالم نگاری شروع کی۔ صحافت کا ماحول انھیں خوب راس آیا اور اسی زمانے میں انھوں نے انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز میں سینئر رپورٹر کی ملازمت اختیار کر لی اور ہفتہ وار کالم OF THIS AND THAT بھی لکھنا شروع کر دیا۔ اس کالم میں ہلکا پھلکا انداز اختیار کر کے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کا جو ڈھنگ انھوں نے اپنایا وہ بعد میں اُن کی صحافیانہ تحریروں کا طرّہ امتیاز بنا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں طنز کی کاٹ بھی شامل ہوتی گئی۔ صحافیانہ زندگی کی ابتدا ہی میں انگریزی کالموں کے دو مجموعے A Mug’s Game اور The Crocodiles Are Here To Swim منظرِ عام پر آ گئے تھے۔

بھٹو کا دور[ترمیم]

1972ء کے آغاز میں خالد حسن ایک ایسے دلچسپ عہدے پر فائز ہوئے جس کی خوشگوار یادیں آخری دِنوں تک اُنکے ساتھ رہیں اور جن کا ذکر وہ دوستانہ محفلوں کے علاوہ اپنے کالموں میں بھی کرتے رہے۔ یہ عہدہ تھا ذو الفقار علی بھٹو کے پریس سیکرٹری کا۔ بھٹو صاحب اُس وقت پاکستان کے صدر تھے۔ حامد جلال کے ساتھ مِل کر خالد حسن نے بھٹو کی جا بجا بکھری ہوئی تحریروں کو جمع کرنا شروع کیا اور تین ضخیم جلدوں کی شکل میں ان تحریروں کو مرتب کیا۔

فارن سروس[ترمیم]

فارن سروس میں شامل ہونے کے بعد وہ پانچ برس تک پیرس، اوٹاوا اور لندن میں کام کرتے رہے لیکن 1977ء میں ضیاءالحق کا مارشل لا لگا تو انھوں نے لندن میں پریس کونسلر کے عہدے سے احتجاجاً استعفا دے دیا اور لندن ہی میں تھرڈ ورلڈ فاؤنڈیشن کے رسالے ’ساؤتھ‘ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بن گئے۔ 1979ء سے 1990ء تک وہ ویانا میں، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر رہے۔ ملازمت کی زندگی میں یہ ان کا خوشحال ترین دور تھا جب معمولی سی محنت کے عوض انھیں بہت بڑی تنخواہ اور اضافی سہولتیں میسر تھیں۔

تراجم[ترمیم]

خوشحالی اور فارغ البالی کے انہی ایام میں خالد حسن نے اُردو کے بہت سے ادبی شہ پاروں کا مطالعہ کیا اور سعادت حسن منٹو کی کہانیوں کا انگریزی ترجمہ کرنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ ترجموں کا یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہا۔ کہانیوں کے علاوہ انھوں نے منٹو کے لکھے ہوئے شخصی خاکوں اور منٹو کے مضامین کو بھی انگریزی ترجموں کے ذریعے مغربی دنیا میں روشناس کرایا۔ اِن کہانیوں، خاکوں اور مضامین کو 2001ء میں اسلام آباد کے اشاعتی ادارے الحمرا نے ایک ضخیم جلد میں یکجا کر دیا جس کا عنوان تھا: A Wet Afternoon۔ خالد حسن نے غلام عباس کی کہانیوں کے ترجمے بھی کیے اور ’جموں جو ایک شہر تھا‘ کے نام سے اُردو میں ایک کتاب بھی مرتب کی جس میں اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کیا۔

ادبی ماحول[ترمیم]

اُردو شعر و ادب سے خالد حسن کی دلچسپی بہت نو عمری میں شروع ہو گئی تھی کیونکہ اُن کے والد ڈاکٹر نور حسین اُردو اور فارسی کی شاعری کا گہرا شغف رکھتے تھے۔ اُن کے ذاتی دوستوں میں ڈاکٹر محمد دین تاثیر، فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی اور جعفر علی اثر جیسی قدآور شخصیات شامل تھیں۔ یہ لوگ جب بھی کشمیر آتے ڈاکٹر نور حسین کے گھر پہ قیام کرتے جہاں شعر و سخن کی محفلیں جمتیں۔ خالد حسن کا بچپن اور نوجوانی اسی علمی و ادبی ماحول میں گزری۔

انگریزی کتب[ترمیم]

خالد حسن نے انگریزی زبان میں مندرجہ ذیل کتابیں تحریر کیں:

  • Score Card
  • Rear View Mirror
  • Give Us Back Our Onions
  • The Empire Strikes Back
  • Private View
  • The Fourth Estate
  • Return of Onion
  • Question time
  • The Tragedy of Afghanistan
  • The Terrorist Prince

پاکستانی رسائل و اخبارات[ترمیم]

خالد حسن کی زندگی کا بہت سا حصّہ یورپ اور امریکا میں گزرا لیکن انھوں نے کسی زمانے میں بھی وطن سے رابطہ منقطع نہیں کیا۔ سن ستّر کے عشرے میں وہ بیرونِ ملک سے لاہور کے ہفت روزے ویو پوائنٹ کے لیے کالم بھجتے رہے۔ اس کے بعد وہ نیشن، دی نیوز اور ڈان کے لیے بھی لکھتے رہے۔ 6 فروری 2009ء کو ورجینیا، ریاستہائے متحدہ امریکا میں ان کا انتقال ہوا،

  1. http://www.app.com.pk/en_/index.php?option=com_content&task=view&id=67221&Itemid=2
  2. http://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12519914v — اخذ شدہ بتاریخ: 26 مارچ 2017