دستاویزی مفروضہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

دستاویزی مفروضہ (انگریزی: documentary hypothesis) یا صرف (DH) عہد نامہ قدیم کی پہلی 5 کتب یعنی تورات کے مآخذ سے متعلق ایک نظریہ ہے۔ جس کے مطابق تورات کا متن اصل میں آزاد، متوازی، اور مکمل روایتوں سے حاصل کیا گیا تھا۔جسے بعد میں مدونین کا ایک سلسلہ مل گیا تھا جس نے اسے مدون کیا۔ ان روایات کی تعداد عام طور پر چار مقرر ہے، لیکن درست تعداد مفروضے کا لازمی جزو نہیں ہے۔ اسے جولیس ویل ہاسن نے پیش کیا، اسی کی نسبت سے اسے کبھی کبھی ویل ہاسن مفروضہ بھی کہا جاتا ہے۔

جے ڈی ای پی[ترمیم]

دستاویزی مفروضہ کے مطابق تورات کی پہلی چار کتب کے مآخذ کی ترتیب و تقسیم

دستاویزی نظریہ سب سے پہلے تورات کی ناموافقت کی وجوہات پر اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سامنے آیا۔انیسویں صدی کے آخر تک، اس پر اتفاق ہو گیا کہ یہ اصل میں چار بنیادی مآخذ سے اخذ کی گئی ہے۔ جن کو انگریزی میں jedp کہا جاتا ہے۔[1]

  • جے سے یہوواہ (Jehovah) بنتا ہے۔ کیونکہ تورات کی پہلی کتاب پیدائش میں یہوداہ کا لفظ اس ہستی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس نے دنیا اور انسان کو بنایا جو نسب ناموں ک وبیان کرتا اور جزا و سزا، گناہ ثواب کا ذکر کرتا ہے۔
  • ای سے ایلوہی ہے، تورات کا وہ حصہ جو شمالی سلطنت سے دلچسپی رکھتا ہے، اور مصر کے معاملات سے خوب واقف ہے، اس میں کوئی برتر ہستی کو یہوداہ نہیں کہتا بلکہ اس حصہ میں اس کا نام الوہیم ہے، یہ حصہ خدا کو مجسم بیان نہیں کرتا بلکہ اسے نا نظر آنے والی ایک ہستی بیان کرتا ہے۔جس نے موسیٰ کو شریعت دی اور ہمکلام ہوا۔ یہ حصہ عام طور پر عہد کی کتاب یعنی کتاب خروج باب بیس کی آیت بائیس سے باب 23 کی آیت انیس تک خیال کی جاتی ہے۔جے یعنی یہوداہ والا حصہ بھی خروج باب چونتیس کی آیت دس سے اٹھائیس تک خیال کیا جاتا ہے۔
  • ڈی سے مراد (یونانی میں ڈیوٹرانومی جو ڈی سے شروع ہوتا ہے) استشنا کی کتاب کے اکثر حصے پر مشتمل ہے۔
  • پی سے مراد تورات کا وہ حصہ جو کاہنوں کی شریعت بیاں کرتاہے۔ اور لفظ یہوواہ کا استعمال اس حصہ میں نہیں ملتا۔ یہ شریعت کی وضاحت اس طرح کرتا ہے کہ بت پرستی اور توحید الگ الگ دو متضاد نظریات ثابت ہوتے ہیں۔

بالآخر کسی ایک مولف یا مولفین کی جماعت نے ان تمام دستاویوں کو ایک جگہ جمع کر کے تورات کی تشکیل کی۔ لیکن کبھی کبھی اس امر کی ضرورت ہوئی کہ مدیرانہ طور پر ترمیم و نظر ثانی کی جائے۔ بعض حصے اوروں کی نسبت زیادہ غیر مربوط تھے۔ لیکن دوسری صدی قبل از مسیح کے شروع میں تمام شریعت کو ایک کتاب سمجھا جاتا تھا اور اس کی ملی جلی خلط ملط اصل کے متعلق کسی کو شک و شبہ بھی نہ تھا۔[2]

جے ای پی آر[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ولیم میکڈونلڈ، تفسیر الکتاب، جلد اول، صفحہ 18، 2009، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور
  2. جی ٹی مینلی، ہماری کتب مقدسہ، باب 9، صفحہ 177 تا 181، 2009، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور