دھاتوں کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انسان نے سونا 8,000 سال قبل دریافت کر لیا تھا، کیونکہ یہ آزاد حالت میں ملتا ہے۔ 750 سال قبل از مسیح تک یعنی سونے کی دریافت کے سوا پانچ ہزار سال بعد تک انسان صرف سات دھاتوں سے واقف تھا جو یہ تھیں:

  1. سونا : 8,000 سال قبل دریافت ہوا۔
  2. تانبا : 6,200 سال قبل دریافت ہوا۔
  3. چاندی : 6,000 سال قبل دریافت ہوئی۔ (اب تک دریافت ہونے والی تینوں دھاتیں تین الگ الگ رنگوں کی تھیں۔)
  4. سیسہ : 5,500 سال قبل دریافت ہوا۔
  5. قلعی : 3,750 سال قبل دریافت ہوئی۔
  6. لوہا : 3,500 سال قبل دریافت ہوا۔ (اس کے ساتھ ہی کانسی کا دور ختم ہوا اور iron age شروع ہوا۔ کانسی تانبے اور قلعی کا آمیزہ ہوتی ہے۔)
  7. پارہ : 2,750 سال قبل دریافت ہوا۔ (یہ دھات مائع شکل میں ہوتی ہے۔)
قدرتی تانبے کا ایک ٹکڑا

8,000 سال قبل سونے کی دریافت کے بعد سے سترھویں صدی تک یعنی 7700 سال تک انسان صرف 12 دھاتوں سے واقف تھا۔

انیسویں صدی سے پہلے تک انسان صرف 24 دھاتوں سے واقف تھا جن میں سے 12 اٹھارویں صدی میں دریافت کی گئیں تھیں۔

اکیسویں صدی میں انسان 88 دھاتوں سے واقف ہے، جن کی مدد سے ہزاروں طرح کے بھرت بنائے جاتے ہیں۔

لوہے کی ایجاد سے پہلے دریافت ہونے والی ساری دھاتیں (سونا،تانبا، چاندی، سیسہ اور قلعی) اتنی نرم ہوتی ہیں کہ ان سے کارآمد اوزار اور ہتھیار نہیں بنائے جا سکتے۔ لیکن 5000 سال قبل انسان یہ دریافت کر چکا تھا کہ تابنے اور قلعی کو ملانے سے جو دھات حاصل ہوتی ہے (یعنی کانسی) وہ ان دونوں اجزا سے کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اگر کانسی میں قلعی کی مقدار دس فیصد سے زیادہ ہو تو کانسی میں پھوٹک پن آ جاتا ہے یعنی چوٹ لگنے سے یہ تڑک کر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے ایسی کانسی اوزار اور ہتھیار بنانے کے لیے تو موزوں نہ تھی مگر سکے بنانے کے لیے بہت استعمال ہوتی تھی۔ دو یا تین فیصد آرسینک یا اینٹیمنی ملانے سے کانسی کی سختی اور بھی بڑھ جاتی ہے اور ہتھیاروں کی دھار زیادہ پائیدار ہو جاتی ہے۔

لوہا[ترمیم]

سطح زمین پر لوہا بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ درحقیقت سطح زمین کے نزدیک مٹی کا پانچ فیصد لوہے پر مشتمل ہے۔ لیکن انسان کو لوہا حاصل کرنے میں دیر اس وجہ سے لگی کہ لوہا 1535 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلتا ہے جبکہ تین چار ہزار سال قبل استعمال ہونے والی بھٹیوں میں 1150 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا ٹمپریچر حاصل ہو سکتا تھا جو تابنے کو تو گلا سکتا تھا مگر لوہے کو نہیں کیونکہ تانبا 1083 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلتا ہے۔
رفتہ رفتہ یہ معلوم ہوا کہ لکڑی کی بجائے کوئلہ جلا کر زیادہ ٹمپریچر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دھونکنی کی ایجاد سے بھٹی کا ٹمپریچر اور بھی بڑھ گیا اور اس طرح انسان لوہا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ سب سے پہلے ترکی میں 4 ہزار سال قبل لوہا استعمال ہونے لگا۔
اگرچہ چین میں کاسٹ آئرن 2500 سال پہلے بنا لیا گیا تھا مگر یورپ میں یہ سات سو سال پہلے بننا شروع ہوا۔

==مزید دیکھیے==* کاسٹ آئرن