راجیندر چولا اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راجیندر چولا اول
پراکیسری، یدھملہ، ممودی، گنگئی کونڈن، کدرم کونڈن
Rajendra Chola (cropped).JPG
راجیندر اول کا مجسمہ گنگئی کونڈا چولا پورم (اریالور ضلع)
ت 1014 – تقریباً 1044 CE[1]
پیشروراجاراجا اول
جانشینراجادھیراجا چولا اول
شریک حیات
  • تریبھوانا یا وناون مہادیوی
  • مکوکیلن
  • پنچون مہادیوی اور ویرامہادیوی
نسل
شاہی خاندانچولا سلطنت
والدراجاراجا اول
والدہوناون مہادیوی معروف بَہ تریبھوانا مہادیوی
وفات1044 CE
برہمادیسم، ضلع تروون ملئی، تمل ناڈو[2]
تدفینبرہمادیسم، ضلع تروون ملئی، تمل ناڈو[2]
مذہبہندو مت

راجندر چولا اول؛ اکثر "راجندر اعظم" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ 1012ء - 1044ء کے درمیان جنوبی بھارت کے چولا سلطنت کا حکمران تھا۔[3][4] راجیندر 1014 عیسوی میں اپنے والد راجاراجا اول کے بعد برسر اقتدار آیا۔[3] راجیندر کے ماتحت وسیع چولا سلطنت میں موجود جنوبی بھارت کے بیشتر حصے شامل تھے، جن میں دریائے کرشنا شمالی حد کے طور پر، سری لنکا اور لکشادیپ اور مالدیپ شامل تھے۔[3] اس نے اڑیسہ اور بنگال کے راستے دریائے گنگا میں ایک کامیاب فوجی مہم چلائی اور گنگا کا پانی اپنے نئے دارالحکومت دریائے کاویری، گنگئی کونڈا چولا پورم میں نیچے لے آیا۔[3] سریویجیا (جنوبی مالے جزیرہ نما اور سماٹرا) کی بادشاہت کے خلاف راجیندر کی پرجوش مہم کی تاریخ تقریباً 1025 عیسوی ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں آبنائے ملاکا کے ساتھ کئی اسٹریٹجک مقامات چولا کے کنٹرول میں آئے۔[3] راجندر کے بعد راجادھیراجا چولا اول (1018ء - 1054ء) بر سر اقتدار ہوا۔[5]

راجیندر کے وقت چولا؛ جنوبی ایشیا کا سب سے اہم سلطنت تھی، حالانکہ ان کی سرگرمیاں بنیادی طور پر جنوبی بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کو متاثر کرتی تھیں۔[6] بحیرہ عرب اور آبنائے ملاکا میں چولا بحری مہمات بحر ہند مصالحے کی تجارت (جنوب مشرقی ایشیا یا جنوبی چین سے عرب یا مشرقی افریقہ تک) پر قابو پانے کے لیے ضروری تھیں۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sen، Sailendra (2013). A Textbook of Medieval Indian History. Primus Books. صفحات 46–49. ISBN 978-9-38060-734-4. 
  2. ^ ا ب Ē. Kē Cēṣāttiri. Sri Brihadisvara: The Great Temple of Thānjavūr. Nile Books, 1998. صفحہ 19. 
  3. ^ ا ب پ ت ٹ Thapar، Romila (2003) [2002]. The Penguin History of Early India: From the Origins to AD 1300. New Delhi: Penguin Books. صفحات 364–365. ISBN 978-0-14-302989-2. 
  4. Sastri، K. A. Nilakanta (1955). The Colas (ایڈیشن 2nd revised). University of Madras. صفحات 194–95 and 228. 
  5. Karashima، Noboru (2014). A Concise History of South India: Issues and Interpretations. New Delhi: Oxford University Press. صفحہ 370. ISBN 978-0-19-809977-2. 
  6. ^ ا ب Thapar، Romila. "The Colas". Encyclopedia Britannica.