سدھو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سدھو
جٹ قبیلہ
SidhuFamily2.JPG
مقامپنجاب, سندھ
آباو اجدادبھٹی
شاخیںبھائیکا,برار,رائے, مہراجکے,ہریکے,والیکے, بھائیکے, گل,پروتھی,ساندھو, روزی اور مانوکے.سدھو براڑ، پھلکین اورلدھا عرف لدھےخیل
زبانیںپنجابی, ہریانوی, ہندی
مذہبسکھ مت, ہندو مت اور اسلام
خاندانی نامبھٹی, سدھو براڑ , پھلکین اور لدھا عرف لدھے خیل

سدھوپاکستانی اور بھارتی پنجاب[1][2] میں رہنے والا ایک جٹ قبیلہ [3][4] ہے۔ یہ قبیلہ بھٹی راؤ جیسل جو جیسلمیر کا بادشاہ تھا، کی اولاد ہیں۔ انہوں نے ہی جیسلمیر میں قلعہ کھیوہ راؤ بنایا تھا۔ راؤ جیسل کے پڑپوتے کی شادی جٹ قبیلے میں ہوئی تو پیدا ہونے والا بیٹا سدھو راؤ سدھو قبیلے کا بانی بنا۔[3][4] ـ خطۂ پنجاب بھارت کا[1] اور پاکستان.[5]

سدھو جٹ ایک بہت قدیم گوترا ہے جو ہریانہ، راجستھان، اترپردیش، پنجاب اور پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ یادو قبیلے کی نسل سے شروع کرتے ہیں۔ راجستھان میں جیسلمر کی بنیاد رکھنے والے جیسول بھٹی تھے اور بھٹی قبیلے سے سدھو، سدھو-برار اور برار قبیلوں کی نسل جد کے بارے لکھتے ہیں۔ جیسول بھٹی نے اپنا دارالحکومت لوردووا سے 1156 عیسوی میں جیسلمر منتقل کیا اور اسے آباد کیا۔ وہ کامیاب بغاوت کرکے جیسلمر سے نکال دیا گیا اور شمال کی طرف چلا گیا اور پرتھوی راج، دہلی کے راجہ تھے اور اجمیر کے تحفظ کی کوشش کی۔ جیسل کے چار بیٹے تھے، یعنی، کیلون، سلبہان II، ہیمیل، اور پیم۔ جیسل کا انتقال 1168 عیسوی میں ہوا اور اس کے دوسرے بیٹے سلبہان دوئم ان کے جانشین بنے۔ پیم جیسول کی موت کے تقریباً پانچ سال بعد انتقال کر گیا۔ ہیمیل نے حصار کے قصبے پر یلغار کردی اور اسے تباہ و بربادکیا اور متعدد پڑوسی شہروں پر قبضہ کرلیا۔ انہیں 1212 عیسوی میں سرسا اور باٹہندا خطوں کا گورنر بنا دیا گیا۔ اس نے ہنسار کا شہر تعمیر کیا، جہاں اس کا انتقال 1214 عیسوی میں ہوا۔ ہیمیل کابیٹا جندرا اس کی موت کے بعد اسکا جانشین بنا، جس کے اکیس بیٹے تھے۔ اس کا بیٹا بیٹرا سدھو، سدھو برار اور برار قبیلوں کا آباؤ اجداد ہے۔ بیٹرا کے بیٹے منجلرب کا ایک بیٹا تھا، جس کا نام، اوندرا یا آنند رائے تھا، جس کا کھیوا کے نام سے بیٹا تھا۔ کھیوا رائے بھٹی نے نیلی کے جاٹ زمیندار بصیر کی بیٹی سے شادی کی، کیوں کہ اس کی باقی کی بیویوں سے اولاد نہیں ہوسکی تھی ، کھیوا کا ایک بیٹا تھا، جس کا نام سدھو رائے بھٹی تھا، جو اس کی آخری نئی بیوی سے پیدا ہوا تھا۔ سدھو کے چار بیٹے تھے، کیتھل، جھمبا، ارنووال، اور سدھوال کی اولاد ڈاہڑ سے ہے۔ پھلکین سردار بور سے ہیں. سور کی اولاد بٹھنڈا اور فیروزپور میں بے شمار ہیں۔ روپاچ کی اولاد فیروزپور ضلع میں پیر کی کوٹ اور رتیا میں رہتی ہے۔ بر، بُر کے بیٹا تھا جس کے دو بیٹے تھے، سڈتکارہ، اور سیٹرہ. سیٹرہ کے دو بیٹے تھے، یعنی جرتھا اور لاکومبا تھے۔ ضلع امرتسر میں اٹاری کا خاندان لاکومبا سے ہے۔ لاکومبا کے بیٹے ہری نے ستلج پر ہریکی کو اپنا نام دیا اور بھٹہ اور گیمہ کے گاؤں کی بنیاد رکھی۔ جرتھا کا ایک ہی بیٹا تھا، ماہی یا ماہو، اور اس سے، پے درپے نسلوں میں گالا، مہرہ، حمیر، اور بیر یا برار جس نے برار قبیلے کو اپنا نام دیا۔ برار ایک کامیاب جنگجو تھا جو جید اور دھلیوال جٹوں سے بہادری سے لڑا۔ بھٹی کے سارسا، چتراسل راجوں کے ساتھ فکاسر، تھیری، اور کوٹ لاڈھونا سے لڑا تھا۔ برار اپنی اولاد کے لئے سرپرستی کا نام بن گیا۔ برار کے دو بیٹے تھے، جن کے نام پاوار اور ڈھول تھے۔ ڈھول فریدکوٹ کے راجاؤں اور برار قبیلے کا جد ہے، جو مری کے بیشتر اضلاع، مودکی، مکتسر، بوچن، مہراج، سلطان خان، بھدور، فریدکوٹ، اور پٹیالہ کے متعدد گاؤں نبہ، جھمبا، اور مالد پر اپنا راج رکھتے تھے۔ پھلکین سدھو راجہ سے پحل، پاوار کی ایک اولاد ہے۔

اس گوٹرا کے آباؤ اجداد سدھو برار تھا۔ گوترا اس کے نام سے منسوب کیا گیا تھا اور سدھارتھ کے نام سے مشہور ہوا تھا۔ سدھموخ پہاڑ کے باشندے لوگوں کو سدھو کہا جاتا تھا. یہ سب سے بڑا قبیلہ ہے اور سابقہ پٹیالہ ریاست کا شاہی خاندان اسی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ خیوا راؤ نے تقریبا 1250 ء میں سدھو راؤ کو جنم دیا. سدھو راؤ کی اولاد جٹ برادری کے ساتھ واپس مل گئی۔ سدھو سدھو قبیلے کا بانی ہے۔ سدھو کی شادی بھی گل جٹ خاندان میں ہوئی۔ انہوں نے اس شادی سے چھ بیٹوں کو جنم دیا: ڈہر کی اولاد کینتھال اور جھمبا کے بھائی کے طور پر جانتے ہیں. 'ڈھر کی اولاد پیرکوتیاس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ روپ کی اولاد روسے فریدکوٹ کے گاؤں میں آباد ہے۔ سورو کی اولاد مہرمیا کے طور پر جانی جاتی ہے۔ مانو کی اولاد ملکانہ اور نورنگ کے دیہات میں آباد ہے۔ مانوکاس کے نام سے مشہور ہے۔ بھورا کی اولاد حراکاس اور برآرس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ہری راؤ بھورا کے بڑے بیٹے سیتا راؤ کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ ہرکائک سدھو شاخ کے بانی تھے۔ کاؤنکی، اٹاری، ہاریک اور فتنکے کا تعلق اس نسب سے ہے۔ وہ برار نسب کے نہیں ہیں۔ جرتھ، سیتا راؤ کے دوسرے بیٹے، سیرڈ براڑ جنہوں نے براڑ قبیلے کی بنیاد رکھی۔ سدھو جٹ کی سات ذیلی ذاتیں ہیں: ،*برار

  • ہاراکی
  • بھاکی
  • پارکوٹیے
  • روسے
  • جید
  • مانوکی۔

|🔹خاندانی نام بھٹی , سدھو , براڑ , پھلکین اور لدھا عرف لدھے خیل 🔹 سدھو جٹوں کا ایک بہت بڑا قیبلہ ہے سدھو مسلمان اور سکھ تعداد میں سب سے زیادہ ہیں۔ انڈیا پنجاب اور پاکستان پنجاب میں ان کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔

لدھا خیل قبیلہ

لدھا (پیدائش 1700 / 1696 عیسوی) ہندوستان, صبوبہ پنجاب کے ضلع بھٹنڈا کے تحصیل گاؤں رام پورہ پھول سے تعلق رکھنے والا تھا خاندان سدھو براڑ بھاٹی سے تعلق تھا۔ رام سروپ جون کے مطابق سدھو براڑ کا تعلق بھاٹی/ بھٹی گوتر سے تھا۔ ان کی تاریخ کے مطابق، ان کے آباؤ اجداد، غزنی سے بے دخل ہو کر، یودھیشتھری سموات 3008 میں ہندوستان آئے تھے۔ رہنما یا تو بھترک، بھاٹی گوتر کے بانی، یا ان کے والد تھے۔ بھٹنڈا اور بھٹنر (بھٹنیر) کا نام ان کے نام پر رکھا گیا تھا۔لدھا کے ولد راما نے نانون کے ایک بھتر زمیندار کی بیٹی صاحباں سے شادی کی،جس سے ان کے چھ بیٹے پیدا ھوۓ 1. دونا 2. سبھا 3. آلا سنگھ 4. بخت 5.بدھا6.لدھا ان میں سے پہلا بیٹا دونا بھدور خاندان کا بانی تھا۔ دوسرا بیٹا سبھا، 1729 میں فوت ہوا، اور اس کا اکلوتا بیٹا، جودھ، اسی سال؛ اور ہوڈیانہ، جسے اس نے فتح کر کے اپنی رہائش گاہ بنا لی تھی، اپنے بھائی آلا سنگھ کے قبضے میں آ گئی۔ چوتھا بیٹا، بختا، ملود خاندان کا آباؤ اجدادتھا پانچواں بدھا رام کا نام پایا ،بدھا کی کوٸی اولاد شو نہیں ھو رھی .اور جبکہ آخری بیٹا چھٹا لدھا رام اپنے بھاٸی سے کسی بات پے ناراض ھوکر غزنی موجود افغانستان چلے گۓ۔لدھا احمد شاہ ابدالی کے ھاں سپہ سالار منتخب ھوۓ۔لدھا کی احمد شاہ ابدالی کے جرنیل گولا خان سے ملاقات ھوٸی.جرنیل گولا خان پیرگل محمد شاہ دا خاص مرید سی.سپہ سالار لدھا رام,رام ولد کا نام تھا.سپہ سالار لدھا نے سکھ مذہب سے اسلام قبول کیا.اسطرح سپہ سالار لدھا اور جرنیل گولا خان دامن مہاڑ میں آۓ گولا خان کے نام پے ایک گاٶں کِڑی گولا والی مشہور ھوٸی بعد میں موجودہ نام شہر گولیوالی ھوگیا.گولیوالی میں میرے خاندان کا پہلا برزگ جس کا نام لدھا.لدھا کے (معنی موٹا تازہ/صحت مند ) ھے.

شجرہ نسب لدھےخیل بھٹی قبیلہ[ترمیم]

🔹پاکستان صوبہ پنجاب ضلع خوشاب تحصیل قاٸدآباد شہر گولیوالی ڈیرہ بھٹیاں والا🔹

1.👈ابولبشر حضرت آدم علیہ السلام 2. 👈حضرت شیت علیہ السلام 61.🔹راجہ جگ پت🔹{ والی قلعہ غزنی موجود افغانستان } 62.👈🔹راجہ ہسپت 🔹{ والی قلعہ حصار }71. راجہ گج سین 72.🔹راجہ سالباہن🔹{ بانی سیال کوٹ } 73. راجہ بلند|74. 👈 🔹"'بھاٹی / بھٹی🔹{خاندان بھٹی"' 75. 🔸راجہ بھوپت🔸{ والٸ قلعہ بھٹنیر } 84. راجہ منگل راٶ 85. راجہ مندن راٶ 86. راجہ سورسین 87. راجہ رگھو 88. راجہ مولراج 89.راجہ اودے راٶ 90. راجہ مجم راٶ 91. راجہ کہر 92.راجہ تنو 93.راجہ بجے راٶ 94.🔸راٶ دیوراج🔸{ قلعہ دراوڑ } 95. راول مندھ 96. راول باچھ راٶ 97. راول دوساج 98. 👈 🔹 راول جیسل 🔹{ قلعہ جسلمیر 1156 عیسوی بنیاد } 99.ہمہیل ( 1214 موت ) 100. جندرا 101. بٹیرا 102. منجلرب 103.آنندر راۓ 104. کھیوا 105. 👈🔹سدھو راٶ🔹{خاندان سدھو} ( پیداٸش 1250 عیسوی ) 106. بَر 107.بیر 108. سیتراہ 108. جرتھا 110.ماہی 111. گالا 112. مہرہ 113.ہمبیر 114.👈🔹براڑ🔹{خاندان براڑ} ( موت 1415 عیسوی ) 115.پوڑ 116. بیرتھ 117. کاٸی 118.باو 119. سانگھڑ ( موت 1526 عیسوی ) 120. بیریم ( موت 1560 عیسوی ) 121. میراج122. سوتو 123.پَکو 124. بابا موہن ( موت 1618 عیسوی ) 125.روپ چند کے دو بیٹے تھے ( موت 1618 عیسوی ) 126. 👈1.🔹 پھول🔹{خاندان پھلکین} (موت 1652عیسوی) (+2.صندلی )پھول کے تین بیٹے تھے (ماٸی بالی ) تلوکھا + رگھو + راما 127.👈 راما ( موت 1714 عیسوی )راما کے چھ بیٹے تھے (ماٸی صاحباں ) دونہ+ سوبھا + راجا اعلی سنگھ + بختا + بدھا + لدھا 128. 👈 1.🔹لدھا 🔹{خاندان لدھےخیل}(پیداٸش 1696 عیسوی )کے دوبیٹے تھے دولا + دریای129.دَولا /دلہ کا ایک بیٹا تھا مہانڑا130.مہانڑا کا ایک بیٹا تھا ڈھینگانڑا131 ڈھینگانڑا کے چار بیٹے تھےککو+ کالو + بجارا + یارا 132.👈🔹ککو🔹{خاندان ککوخیل} دو بیٹے تھے محمد + آحمد 133.محمد کے چار بیٹے تھے اللہ ڈتہ + فتح خان + خان زمان + نور خان ) 134. اللہ ڈتہ پانچ بیٹے تھے حاکم خان + مستا خان + سلطان آحمد + ربنواز + محمد نواز135. 👈🔹حاکم خان🔹(29.09.2021 وفات )کے تین بیٹے ھیں محمدخان + عبدالخالق + عبدالراٶف 136. 👈 🔹محمد خان🔹 پیداٸش (04.08.1984 ) ایک بیٹا ھے137. 👈 محمد بلال خان ( پیداٸش 10.29.2019عیسوی)

شجرہ نسب لدھےخیل بھٹی قبیلہ[ترمیم]

🔹پاکستان صوبہ پنجاب ضلع خوشاب تحصیل قاٸدآباد شہر گولیوالی ڈیرہ بھٹیاں والا🔹

1.👈ابولبشر حضرت آدم علیہ السلام 2. 👈حضرت شیت علیہ السلام 61.🔹راجہ جگ پت🔹{ والی قلعہ غزنی موجود افغانستان } 62.👈🔹راجہ ہسپت 🔹{ والی قلعہ حصار }71. راجہ گج سین 72.🔹راجہ سالباہن🔹{ بانی سیال کوٹ } 73. راجہ بلند74. 👈 🔹"'بھاٹی / بھٹی🔹{خاندان بھٹی"' 75. 🔸راجہ بھوپت🔸{ والٸ قلعہ بھٹنیر } 84. راجہ منگل راٶ 85. راجہ مندن راٶ 86. راجہ سورسین 87. راجہ رگھو 88. راجہ مولراج 89.راجہ اودے راٶ 90. راجہ مجم راٶ 91. راجہ کہر 92.راجہ تنو 93.راجہ بجے راٶ 94.🔸راٶ دیوراج🔸{ قلعہ دراوڑ } 95. راول مندھ 96. راول باچھ راٶ 97. راول دوساج 98. 👈 🔹 راول جیسل 🔹{ قلعہ جسلمیر 1156 عیسوی بنیاد } 99.ہمہیل ( 1214 موت ) 100. جندرا 101. بٹیرا 102. منجلرب 103.آنندر راۓ 104. کھیوا 105. 👈🔹سدھو راٶ🔹{خاندان سدھو} ( پیداٸش 1250 عیسوی ) 106. بَر 107.بیر 108. سیتراہ 108. جرتھا 110.ماہی 111. گالا 112. مہرہ 113.ہمبیر 114.👈🔹براڑ🔹{خاندان براڑ} ( موت 1415 عیسوی ) 115.پوڑ 116. بیرتھ 117. کاٸی 118.باو 119. سانگھڑ ( موت 1526 عیسوی ) 120. بیریم ( موت 1560 عیسوی ) 121. میراج122. سوتو 123.پَکو 124. بابا موہن ( موت 1618 عیسوی ) 125.روپ چند کے دو بیٹے تھے ( موت 1618 عیسوی ) 126. 👈1.🔹 پھول🔹{خاندان پھلکین} (موت 1652عیسوی) (+2.صندلی )پھول کے تین بیٹے تھے (ماٸی بالی ) تلوکھا + رگھو + راما 127.👈 راما ( موت 1714 عیسوی )راما کے چھ بیٹے تھے (ماٸی صاحباں ) دونہ+ سوبھا + راجا اعلی سنگھ + بختا + بدھا + لدھا 128. 👈 1.🔹لدھا 🔹{خاندان لدھےخیل}(پیداٸش 1696 عیسوی )کے دوبیٹے تھے دولا + دریای129.دَولا /دلہ کا ایک بیٹا تھا مہانڑا130.مہانڑا کا ایک بیٹا تھا ڈھینگانڑا131 ڈھینگانڑا کے چار بیٹے تھےککو+ کالو + بجارا + یارا 132.👈🔹ککو🔹{خاندان ککوخیل} دو بیٹے تھے محمد + آحمد 133.محمد کے چار بیٹے تھے اللہ ڈتہ + فتح خان + خان زمان + نور خان ) 134. اللہ ڈتہ پانچ بیٹے تھے حاکم خان + مستا خان + سلطان آحمد + ربنواز + محمد نواز135. 👈🔹حاکم خان🔹(29.09.2021 وفات )کے تین بیٹے ھیں محمدخان + عبدالخالق + عبدالراٶف 136. 👈 🔹محمد خان🔹 پیداٸش (04.08.1984 ) ایک بیٹا ھے137. 👈 محمد بلال خان ( پیداٸش 10.29.2019عیسوی)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]