منہاس
منہاس/راجپوت خاندان کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام اور ام البشر حضرت حوا سلام اللہ علیہا کی نسل سے اللہ کریم کے عظیم نبی حضرت نوح علیہ الاسلام کی تاریخ سے آگاہی بہت ضروری ہے۔
نسلِ انسانی کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے بعد
حضرت نوح علیہ السلام کے والد بزرگوار کا اسم گرامی لامک ہے۔ ان کا نسب حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچتا ہے اور ان کا نسب نامہ نوح بن لامک بن متوشلح بن خنوخ (ادریس) بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی کہا جاتا ہے یعنی ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح، آدم (علیہ السلام) کے بعد یہ دوسرے ابو البشر ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے:-
وَ جَعَلۡنَا ذُرِّیَّتَہٗ ہُمُ الۡبٰقِیۡنَ o
ترجمہ عرفان القران : اور ہم نے فقط انھی کی نسل کو باقی رہنے والا بنایاo ( سورۃ الصافات 37: آیت77 )
حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے، جنھیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو شرک اور گمراہی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ انھوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر اکثریت نے انکار کیا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا اور اہلِ ایمان کو نجات دی۔
حضرت نوح علیہ السلام کے چار بیٹے تھے:
1. سام
2. حام
3. یافث
4. کنعان (یام)
طوفان سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کنعان کو بھی دعوت دی کہ وہ کشتی میں سوار ہو جائے، مگر اس نے غرور اور کفر میں ڈوبے رہنے کا انتخاب کیا اور قوم کے ساتھ غرق ہو گیا۔ اس کی والدہ اور باقی اہلِ خانہ بھی جو ایمان نہ لائے تھے، اسی انجام کو پہنچے۔
اس طرح طوفان کے بعد زمین پر انسانوں کا نیا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — کی نسل سے ہوا۔ یہی نسلیں مختلف سمتوں میں پھیل کر آج کے تمام انسانوں کی آبادی کی بنیاد بنیں۔
👈سام بن نوح علیہ السلام
سام حضرت نوح علیہ السلام کے بڑے بیٹوں میں سے تھے۔ طوفان کے بعد وہ مشرق کی طرف، خاص طور پر یمن میں آباد ہوئے۔
ان کی نسل سے عرب، فارس، روم، بنی اسرائیل، آشوری، ارمنی اور کلدانی جیسی بڑی اقوام وجود میں آئیں۔ سام کو "ابوالعرب" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب قبائل کا سلسلۂ نسب انہی تک پہنچتا ہے۔
بنی اسرائیل بھی سام کی اولاد ہیں اور اسی نسبت سے انھیں "سامی اقوام" کہا جاتا ہے۔ سام کی نسل نے جزیرہ نما عرب، عراق، شام، فلسطین اور ایران جیسے خطوں میں اپنی تہذیبیں قائم کیں۔
👈حام بن نوح علیہ السلام
حام طوفان کے بعد براعظم افریقہ میں آباد ہوئے۔
حام کی نسل سے سوڈان (مشرق سے مغرب تک) یعنی سندھ، ہند، نوب، زنج، حبشہ، قبط، بربر ، مصری، کنعانی اور کچھ جنوب ایشیائی اقوام پیدا ہوئیں۔
مصراِیم بن حام نے قدیم مصری تہذیب کی بنیاد رکھی۔ ان کے بیٹوں کی نسل میں افریقہ اور بعض ایشیائی خطوں میں پھیلی ہوئی اقوام شامل ہیں۔ زیادہ تر حام کی نسل والے گہرے رنگت اور مضبوط جسمانی ساخت کے مالک تھے
👈یافث بن نوح علیہ السلام
یافث سب سے بڑے یا بعض روایات کے مطابق درمیانی بیٹے تھے، جو شمال اور مغرب کی سمت میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے ترک، روس، تاتار، مغول، صقالہ، جاپان، یاجوج ماجوج، یونانی اور شمالی یورپ کی اقوام پیدا ہوئیں۔
یہ نسل دنیا کے سرد اور معتدل علاقوں میں پھیلی اور تجارت، جہاز رانی اور جنگی فنون میں مہارت حاصل کی۔
آج زمین پر بسنے والے تمام انسان، چاہے وہ کسی بھی نسل زبان یا رنگ کے ہوں، حضرت نوح علیہ السلام کے ان تین بیٹوں سام، حام اور یافث کی اولاد ہیں۔ اس حقیقت کو جان کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی خاندان کی اولاد ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ عدل احترام اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔
حضرت نوح علیہ السلام سے نسل انسانی کا اگلا مرحلہ شروع ہوا ہے جو قران نے بھی بتایا ہے۔ آج زمین پر جتنے بھی انسان ہیں، سب کا نسب حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — سے جڑتا ہے طوفانِ نوح کے بعد یہی تینوں نسلِ انسانی کو دنیا کے کونے کونے میں لے کر پھیلے
ارشاد باری تعالی ہے:-
وَ جَعَلۡنَا ذُرِّیَّتَہٗ ہُمُ الۡبٰقِیۡنَ o
ترجمہ عرفان القران : اور ہم نے فقط انہی کی نسل کو باقی رہنے والا بنایاo ( سورۃ الصافات 37: آیت77 )
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ وَ مَنۡ اٰمَنَ ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ (سورہ هُوْد، 11 : 40)
[ترمیم]ترجمہ عرفان القران: یہاں تک کہ جب ہمارا حکمِ (عذاب) آ پہنچا اور تنور (پانی کے چشموں کی طرح) جوش سے ابلنے لگا (تو) ہم نے فرمایا: (اے نوح!) اس کشتی میں ہر جنس میں سے (نر اور مادہ) دو عدد پر مشتمل جوڑا سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (لے لو) سوائے ان کے جن پر (ہلاکت کا) فرمان پہلے صادر ہو چکا ہے اور جو کوئی ایمان لے آیا ہے (اسے بھی ساتھ لے لو) اور چند (لوگوں) کے سوا ان کے ساتھ کوئی ایمان نہیں لایا تھاo
(سورہ هُوْد، 11 : 40)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کشتی سے اُترنے کے بعد ان کے ہمراہیوں میں جس قدر مرد و عورت تھے سبھی مر گئے سوا آپ کی اولاد اور ان کی عورتوں کے ، انہی سے دنیا کی نسلیں چلیں۔
۔“(خزائن العرفان، صفحہ830،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
(وَاللہُ اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)
اب بات کرتے ہیں منہاس راجپوت قوم کی تو یہ اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے ہے جو برصغیر پاک و ہند اورجموں و کشمیر میں پھیلی۔
منہاس راجپوتوں کی ایک عظیم شاخ کا نام ہے۔ منہاس قوم کے جد امجد "من ہنس" کا زمانہ 800 قبل مسیح بتایا جاتا ہے گویا مدت کے لحاظ سے یہ راجپوتوں کی بے حد قدیم قوم ہے۔
منہاس قوم راجا جوگ رائے نامی راجے بڑے بیٹے من ہنس / مالن ہنس جموال کی اولاد ہیں۔
جو راجا جامبو لوچن (بانی شہر جموں و کشمیر)کی 71 ویں پشت میں تھا۔ [1] جامبو لوچن نے جموں کا شہر اپنے نام کی نسبت سے آباد کیا.
منہاس, جموال یہ راجپوت قبائل آپس میں بھائی بند ہیں اور ان کا نسبی تعلق رام چندر جی کے بیٹے " کُش" سے ہے۔
راجا جامبو لوچن کی اولاد پشت در پشت ریاست جموں پر حکومت کرتی رہی.
جامبو لوچن کی اولادوں کا تعلق چونکہ شاہی گھرانے سے تھا لہذا وہ بھی اپنے باپ کی نسبت سے جموال کہلایں.
منہاس در حقیقت راجپوتوں کے جموال خاندان ہی کی ایک شاخ ہیں۔ گویا نسل کے اعتبار سے ماگرے جموال منہاس قبیلہ جموال راجپوت قبیلہ کی اولاد ہیں۔
منہاس قوم کو منہاس اس کے جد امجد "من ہنس" کے نام سے کہا جاتا ہے۔ لفظ "من ہنس" کثرت استعمال سے "منہاس " بن گیا ہے۔
راجا جوگ رائے کے 2 بیٹے تھے بڑے بیٹے کا نام من ہنس اور چھوٹے بیٹے کا نام سورج ہنس تھا۔ لمہن ہنس بہت طاقتور آدمی تھا اس کی اولاد بہت کثرت سے ہوئی۔ اُس نے ہر ایک لڑکے کو اپنی جاگیر تقسیم کر دی۔ اُس کی اولاد نے برخلاف آئین راجپوتاں کھیتی شروع کر دی۔ چنانچہ موضع پرگوال، چپراڑ، تھب اُن کے نام پر آباد ہیں۔ اور اس قوم کو منہاس کہتے ہیں۔
من ہنس اپنے باپ کی حیات میں فوت ہوا اور راجا جوگ رائے نے راج کمک اپنے چھوٹے بیٹے سورج ہنس کو دیا۔ اپنے باپ کے بعد وہ راجا ہوا۔
منہاس قوم کے اب بھی جموں و کشمیر کے علاقوں میں کافی خاندان آباد ہیں۔
منہاس قوم پنجاب کے کم و بیش تمام اضلاع میں آباد ہے۔ منہاس سب سے زیادہ ضلع جہلم اور ضلع چکوال اور اس کے نواح میں آباد ہیں۔ دوسرے نمبر میں راولپنڈی کے اضلاع میں آباد ہیں۔ جبکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ضلع سیالکوٹ میں آباد ہیں۔ ان اضلاع کے علاوہ یہ لوگ چکوال، نارووال، لاہور, گوجرانوالہ, گجرات, فیصل آباد ، شیخوپورہ, سرگودھا, شاہ پور, ملتان, مظفر گڑھ کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان , بنوں، نیلم ویلی اور مڑرہ میں بھی آباد ہیں۔
جموال، منہاس اور جسروٹیہ کا جد امجد ایک ہی ہے اس لیے پاکستان میں کئی نسبی جموال بھی منہاس ہی کہلواتے ہیں حالانکہ منہاس صرف وہ ہیں جن کا نسب مالہن ہنس جموال ڈوگرا سے جا ملتا ہے [2]اور منہاس راجا ، ٹھاکر، رانا، چودھری ٹائٹل استعمال کرتے ہیں جبکہ جموں و کشمیر میں انھیں ڈوگرہ راجپوت بھی کہا جاتا ہے اور یہ راجا، ٹھاکر ، رانا چودھری اور میاں کا لقب استعمال کرتے ہیں اور پنجاب، بھارت میں زیادہ تر ٹھاکر کا لقب استعمال کرتے ہیں۔
منہاس اور جموال قوم کے سات خاندان مشہور ہیں اور پنجاب میں جتنے بھی جموال اور منہاس آباد ہیں انھیں سات خاندانوں میں سے ہی نکلے ہیں۔
1: براہ راست من ہنس کی اولاد
[ترمیم]پہلے پہل یہ خاندان کشمیر میں چپراڑ, بھت اور پرگوال کے مقامات پر آباد ہوا. پرگوال کا نام راجا پرگو منہاس کے نام پر رکھا گیا، راجا پرگو منہاس پرگوال کا فرمانروا بھی تھا۔ بعداز راجا پرگو منہاس کی اولادیں اسلام سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئیں اور پاکستان کے شہر سیالکوٹ، جہلم، گوجرخان، راولپنڈی اور دیگر علاقوں میں قیام پزیر ہوئیں۔
2: منہاس جسروٹیہ
[ترمیم]پہلے پہل یہ خاندان جموال سے الگ ہو کر کشمیر میں موضع مالتی تحصیل سوہلی میں آباد ہوا.
3: خاندان راجا چک دیو
[ترمیم]یہ خاندان راجا چک دیو کے دوسرے فرزند رام دیو سے نکلا ہے۔ رام دیو کے دو بیٹے سنگا دیو اور جگو تھے۔ ان دونوں کی اولادیں سیالکوٹ, گرداسپور اور ہوشیار پور میں آباد ہوئیں. اس خاندان کو مہتہ کالقب بھی دیا جاتا ہے.
4: خاندان راجا سنگرام دیو
[ترمیم]یہ خاندان کانگڑہ اور گورداسپور میں آباد ہوا.
5: راجا برج دیو کے بیٹے المل دیو کا خاندان
[ترمیم]یہ خاندان راجا برج دیو کے دوسرے بیٹے المل دیو کی نسل سے ہے۔ اور پہلے پہل موضع سمبل پور میں آباد ہوا.
6: سیدو اور جنکھر دیو کے خاندان
[ترمیم]راجا برج دیو کے بیٹے راجا نرسنگ دیو کے تین بیٹے تھے جن میں ایک بیٹا راجا ارجن دیو تو راج پاٹ کا مالک بنا جبکہ دوسرے دو بھائی جن کے نام سیدو اور جنکھر دیو تھے ایک منہاس خاندان کے بانی بنے. ان کی اولادیں مواضعات سم, توپ, جنڈیالہ اور سوہانجنہ میں آباد ہوئیں.
7: حکمان دیو کا خاندان
[ترمیم]منہاس راجپوتوں کا یہ خاندان حکمان دیو کلیان دیو کی اولادوں پر مشتمل ہے جو مہاراجا مالدیو کا چھوٹا بھائی تھا۔ راجا مالدیو کی وفات 1513ء کے لگ بھگ ہوئی. یہ خاندان پہلے پہل کشمیر کے علاقہ بلاوڑہ چندرکوٹ, عاقل پور اور کاستی گڑھ وغیرہ میں آباد ہوا. جموں کا مشہور راجا عجائب دیو یا عجب دیو اسی خاندان کا طشم و چراغ تھا۔
منہاسوں کے متذکرہ بالا ساتوں خاندان ابتدا میں زیادہ تر کشمیر میں آباد ہوئے تھے لہذا یہ بات یقینی حد تک درست یے کے یہ لوگ کشمیر سے پنجاب کی طرف نقل مکانی کر کے آئے ہوں گے. گویا پنجاب میں آباد تمام منہاس خاندان انھیں سات خاندانوں کے ابناؤ اخلاف ہیں۔ اب بھی جموں کشمیر میں منہاس قوم کی کئی گڑھیاں ملتی ہیں.
منہاس مشاہیر
[ترمیم]- راشد منہاس
- راجہ عباس ساغر منہاس
- افضل منہاس
- مشتاق منہاس
- راجا جیون بخش خان منہاس(رحمۃ اللہ علیہ) اٹھارہویں صدی کے آخر میں ان کی پیداٸش دریاٸے چناب کنارے موضع شیخ چوگانی ضلع گجرات کے مشہور و معروف سیاسی و سماجی زمیندار منہاس خاندان میں ہوٸی، جو کسی زمانہ میں کشمیر سے ہجرت کر کے موضع ””شیخ چوگانی“ اللہ کے دو برگزیدہ نبیوں ”حضرت طانوح علیہ السلام اور حضرت امنون علیہ السلام“ کے مزارات کے پاس آ کر آباد ہو گٸے تھے۔ راجا جیون بخش خان منہاس اپنے والدین کے اکلوتے ییٹے تھے اور بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے۔ ان کی پھوپھی رسولاں بیگم منہاس انھیں موضع شیخ چوگانی سے کشمیر کے پہاڑوں کے دامن میں واقع موضع متے عالی، ضلع گجرات میں اپنے ساتھ لے گٸیں۔ ان کی پرورش کی اور موضع مناور، کشمیر میں رشتے دار مغل خاندان میں خانزادی بیگم جیونی مغل سے ان کی شادی کی۔ قیام پاکستان کے وقت ہندو، سکھ، مسلم فسادات کے دوران ان کے گاؤں موضع متے عالی پر حملہ ہو گیا۔ ان فسادات میں بیشمار مسلمان شہید ہوٸے ان کے گھر جلا دیٸے گئے۔ اسی بھگدوڑ میں بیگم جیونی مغل زوجہ راجا جیون بخش منہاس سات دنوں تک اپنی جان بچاتے کھو گٸیں اور کافی تلاش بسیار کے بعد آٹھویں دن ملیں۔ راجا جیون بخش خان منہاس اپنے اہل و عیال کی جان بچاتے موضع دھمتھل ضلع گجرات میں رشتے دار جنجوعہ خاندان کے پاس عارضی قیام کیا جہاں پر ان کی دو بیٹیاں سرداراں بیگم منہاس زوجہ احمد دین جنجوعہ، رابعہ بیگم منہاس زوجہ نبی بخش جنجوعہ بیاہی تھیں اور قریبی گاؤں موضع سرہالی میں ان کی بڑی بیٹی دولت بیگم منہاس زوجہ محمد رمضان جنجوعہ سے بیاہی تھی۔ وہیں سے اپنے بیٹوں اور زوجہ کے ہمراہ موضع 33 چک ، خاصہ، تحصیل ملکوال ضلع منڈی بہاؤ الدین آباد ہو گئے۔ ان کے بیٹیوں میں سب سے چھوٹا بیٹا راجا محمد عنایت خان منہاس ابن راجا جیون بخش خان منہاس اپنے اہل و عیال کے ہمراہ وہیں موضع 33 چک میں مقیم رہے جبکہ انکا بڑا بیٹا راجا سردار خان منہاس ابن راجا جیون بخش خان منہاس موضع مدینہ ٹاؤن، ہیڈ مرالہ، سیالکوٹ ہجرت کر کے آباد ہو گئے۔ انکا درمیان والا بیٹا راجا اللہ رکھاخان منہاس ابن راجا جیون بخش خان منہاس 1972 میں اپنے اہل و عیال کے ہمراہ دریاٸے توی کے کنارے مشہور و معروف تاریخی قصبہ موضع گوندل، تحصیل و ضلع سیالکوٹ آباد ہو گیا۔ ان کی اولادوں میں الحاج راجا محمد منیرخان منہاس(بحرینی) ہیں جن سے
- راجا محمد نوید خان منہاس ابن راجا محمد منیر خان منہاس ابن راجا اللہ رکھا خان منہاس ابن جیون بخش خان منہاس ہیں۔ ان کی شادی جرال راجپوت خاندان میں ہوٸی۔ یہ بفضل خدا امام الامہ مُجَدِّدُ الْمِئَةِ الْحاضِرہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ کی سیاسی و سماجی جماعت پاکستان عوامی تحریک و تحریک منہاج القران انٹرنیشنل و منہاج وہلفیٸر فاؤنڈیشن تحصیل و ضلع سیالکوٹ کے مرکزی رہنما ہیں۔ ان کے صاحبزادگان میں راجا حافظ محمد احمد خان اور راجا محمد فہیم الحسن خان اور دو صاحبزادیاں ہیں۔
منہاس علاقے
[ترمیم]- لگوال منہاساں (ظفروال)
- بڑی منہاساں
- جرپال منہاساں تحصیل شکر گڑھ
- بنی منہاساں (ضلع باغ)
- کوٹھے منہاساں
- ہیل منہاساں (تحصیل سیالکوٹ)
- کہو منہاساں
- منہاساں
- پنڈی منہاساں
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مختصر تاریخ جموں و کشمیر۔ مصنف: مولوی حشمت اللہ خاں لکھنوی
- ↑ "تواریخ راجپوتاں ملک پنجاب"۔ ج 1: 346
{{حوالہ رسالہ}}: الاستشهاد بدورية محكمة يطلب|دورية محكمة=(معاونت) والوسيط|پہلا=يفتقد|آخر=(معاونت)
تواریخِ راجپوتاں ملک پنجاب۔ مصنف: ٹھاکر کاہن سنگھ۔
راجپوت (تاریخ کے آئینے میں)۔ مصنف: غلام اکبر ملک